دشت، مشکے اور سوئی میں آپریشن میں شدت لائی گئی ہے۔ بی این ایم

BNMکوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بلوچستان کے طول و عرض میں فوجی آپریشن جاری ہے۔ دشت، مشکے اور سوئی میں آپریشن میں شدت لائی گئی ہے۔ کئی علاقوں میں گھروں کو نذر آتش کرکے کئی بلوچ فرزندوں کو پاکستانی فوج نے اغوا کیا ہے۔ مشکے میں دو دن سے جاری آپریشن میں نوکجو ریندک، ہارونی اور بلوچ قوم پرست رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے گاؤں پر ایک دفعہ پھر یلغار کرکے کئی گھروں کو جلایا گیا۔ جن میں شہید سلیمان بلوچ عرف شیہک جان کا گھر بھی شامل ہے۔ شہید شیہک جان کے گھر میں گھس کر سامانوں کو لوٹنے کے ساتھ ان کے ایک سالہ بیٹے کمال جان بلوچ کو پنگھوڑے سے اُٹھا لاتوں سے زخمی کیا گیا، جس کی حالت تشویشناک ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ شہیدوں کے گھروں کو جلایا اور رشتہ داروں کو زد کوب و اغوا کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے مختلف علاقوں میں شہدا کے مقبروں کی بے حرمتی بھی کی گئی ہے۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے گاؤں میہی میں سرکار نے کئی حملے کئے ہیں ۔ ہر دفعہ لوگوں کو زبردستی بے دخل کیا جاتا ہے۔ لیکن جب لوگ اپنی زرعی زمین اور جائیداد کیلئے دوبارہ آکر آباد ہوتے ہیں، تو فوج اور اس کے پالے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ ایک اور حملہ کردیتے ہیں۔ جس میں ہر دفعہ خواتین اور بچوں کو زد و کوب و زخمی کیا جاتا ہے۔ اور مردوں کو اغوا کرکے لاپتہ کیا جاتا ہے۔ آج بھی یہی کچھ دُہرایا گیا۔ نوکجو ریندک سے چاکر ولد سہیل اور سیف اللہ کو اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا ہے۔ میہی سے عبدالرحمٰن ولد کیّا، عزت ولد عبدالرحمٰن اور ہارونی سے شیرا، بشیر، شبیر، عبدالنبی اور رحیم سمیت گیارہ لوگوں کو اغوا کیا گیا۔ اور پیر بخش نامی شخص کے گھروں کو لوٹ مار کے بعد جلا دیا گیا۔ اسی طرح نوکجو ریندک میں بھی خواتین و بچوں پر تشدد کی گئی اور کئی گھروں کو جلایا گیا۔ گوادر سے متصل ساجی میں جاری آپریشن میں ایک بلوچ فرزند قدیر بلوچ کو پاکستانی فوج نے شہید کیا ہے۔ دشت کے کئی علاقے اب بھی فوجی محاصرے میں ہیں اور لوگوں کو مسلسل علاقہ خالی کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ سوئی کے علاقے اوچ اور گرد و نواع میں قابض فوج کی ایک بڑی تعداد پہنچائی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ دشت اور مشکے و دوسرے علاقوں کی طرح سوئی میں بھی ایک اور خونی آپریشن کی تیاری کی جارہی ہے۔ بلوچ قوم اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنی آزادی کی جد و جہد میں مصروف ہے، مگر تمام قوانین سے مستثنیٰ پاکستان بلوچستان میں اس تحریک کو روکنے کیلئے بلوچ نسل کشی کر رہا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ کہیں آپریشن نہ ہو اور بلوچ فرزند شہید و اغوا نہ ہوں۔ جس سے لاپتہ افراد کی تعداد تیس ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جس میں حکومت کی جانب سے گزشتہ ایک سال میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت دس ہزار کو حراست میں لینے کا اعتراف کرنے کے باوجود ابھی تک کسی کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے۔ پاکستانی فوج کی جانب سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں عروج ہیں۔ پاکستان تمام جنگی و انسانی حقوق کے قوانین کو روند کر بلوچ نسل کشی میں شدت لاچکا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close