باہوٹ

تحریر : علی کہیری

Painting on Balochi Culture (7)غیرت ، عزت ، ننگ و ناموس یا ان سے مماثل بعض دیگر فطری و سماجی وصف (Social-trait) کسی بھی قوم کی اخلاقی و ثقافتی اقدار کا وہ اہم جُز ہوتی ہیں کہ جن کا اظہار ہر قوم اپنے مختلف روایتوں کی پاسداری کرتے کیا کرتی ہے ۔ بلوچ بحیثیت اک قوم اپنی اخلاقی و ثقافتی قدروں کو کس قدر اہمیت دیتی ہے ، یہ سب جاننے کو بلوچ روایات کی اک پوری تاریخ موجود ہے کہ جن میں عہدِوفااور مہمان داری سے جُڑی متعدد داستانیں بلوچ معاشرتی تاریخ کا حصہ ہیں کہ جنکا اثر نہ صرف نسل در نسل بلوچ نفسیات پہ پڑتا ہمیں دکھائی دیتا ہے بلکہ یہ تمام اقدار ہی مل کر ایک مثالی بلوچ کردار کو جنم دیتے ہیں ۔ کسی مثالی بلوچ کردار (Ideal Baloch character) میں ایک اہم جُز اُس کردار کی ’’باہوٹ داری ‘‘ بھی ہے۔
لفظ باہوٹ کو ہم محض ’’ مہمان داری ‘‘ کی اصطلاح سے بیان نہیں کر سکتے کیونکہ باہوٹ محض ایک مہمان سے بڑھ کر ہوتا ہے ۔ یوں مہمان داری کی روایت تو ہر قوم میں موجود ہے کہ جسے دنیا کی متعدد اقوام تیماداری یا خاطر داری کی ایک معاشرتی رسم کے طور سے جانتی ہے مگر بلوچ ثقافتی اقدار کی مناسبت سے باہوٹ محض ایک ایسے مہمان سے بڑھ کر ہے جو کچھ پل آپ کے پاس سستانے کو آیا ہو یا کچھ دنوں کیلئے آپ کی زیارت یا ملنے آیا ہو ۔
بلوچ قومی تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر ہم باہوٹ کی تعریف کریں تو ایک باہوٹ محض ایک رسمی مہمان کے علاوہ یا ایک مہمان سے زائد کوئی ایسا فرد بھی ہو سکتا ہے جو اپنی عافیت کیلئے آپ کی پناہ میں آیا ہو اور ثقافتی حوالوں سے جسکی حفاظت کی ذمہ داری آپ پہ عائد ہو ۔ میرینزدیک سنسکرت کا لفظ ’’شرن ۔Sharan‘‘،باہوٹ لفظ کی وضاحت کیلئے کسی حد تک بہتر ہے ۔ اگر ہم بلوچ معاشرے میں باہوٹ داری سے جُڑی تاریخی داستانوں کا مطالعہ کریں تو ہماری بیان کردہ تعریف بہ نسبت ایک باہوٹ کو محض ایک مہمان کی سمجھنے سے زیادہ موزوں دیکھائی پڑتی ہے۔ اس مد میں یوں تو ہم متعدد واقعات کو بیان کرسکتے ہیں مگر چند اہم واقعات کو بیان کرتے ہی اگر ہم اس بحث کو آگے بڑھائیں تو زیادہ موزوں ہوگا۔
سولہویں صدی میں گوہر جتنی جو ایک بلوچ مالدار خاتون تھی ، جسے چند مسائل کے پیش نظر چاکر خان (رند قبیلے) کی باہوٹ بننا پڑا کہ جہاں اس خاتون کو میر گواہرام خان (لاشاری قبیلے کے سردار ) کے بیٹے میر رامین لاشاری کی شرارت کے باعث مصائب کا سامنا کرنا پڑا ، جو رند قبیلے کے لوگوں سے بُز کشی کے مقابلے میں اپنی شکست سے محسوس ہونے والی مریضانہ شرمندگی کا تدارک ، گوہر جتنی جیسی دکھیاری عورت (جو رند قبیلے کی پناہ ۔باہوٹ میں تھی )اسکے مال مویشیوں کو لوٹتے رندوں کو مزا چکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس پر رند قبیلہ اسے اپنی بے عزتی تصور کرتے اشتعال و طیش میں آجاتا ہے کیونکہ یہ سب اُن کے اُس ثقافتی اقدار (باہوٹ داری ) کو پامال کر دینے کے مترادف تھا کہ جسکے تحت کسی باہوٹ کی حفاظت کی ذمہ داری پورا قبیلہ مل کر اُٹھاتا ہے جبکہ اس واقعے کے بعد پورا قبیلہ اجتماعی طور پر یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنی پناہ میں آئے اک باہوٹ کی مکمل حفاظت نہ کرتے اپنے ثقافتی اقدار کا پاس نہ رکھ پائے اور کُلی طور پر اُسکی حفاظت میں ناکام ہوئے ۔ میر چاکر خان اس واقعے کو ثقافتی اقدار کی خلاف ورزی سمجھتے اسے اپنے قبیلے کیلئے شرمناک تصور کرتے لاشاریوں سے جنگ چھیڑ دیتے ہیں ۔ اس ہولناک جنگ کی تباہ کاریوں کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ یہ جنگ 30 سالوں تک چلی اور تقریباً 30 ہزار بلوچ اس جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ اس واقعے کہ جسے میں ایک سانحہ سمجھتا ہوں ، اس بات سے ہی ہم بلوچ ثقافت میں ’’باہوٹ‘‘ کی اہمیت اور اُسے محض مہمان کینظر سے دیکھنے سے اجتناب برتنے کیلئے قائل کر سکتے ہیں۔
بلوچ باہوٹ داری کا ایک اور اہم واقعہ اٹھارویں صدی میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ جس میں ’’سمی ‘‘ نامی ایک بلوچ جنوزان (بیوہ خاتون ) کہ جسکے خاوند کا تعلق پُژ قبیلے سے ہوتا ہے اور وہ اپنے شوہر کے انتقال کے بعد اپنے شوہر کے رشتے داروں سے اپنے مال و متاع کی غیر منصفانہ تقسیم سے پیچھا چھڑانے کو گورگیجوں کی باہوٹ بنتی ہے تاکہ اسکے مال ومتاع پر شوہر کے رشتے دار قبضہ نہ کر لیں ۔ اُن وقتوں اس علاقے میں گورگیجوں کا سربراہ ’’دودا‘‘تھا کہ جسکی شادی حالیہ دنوں ہوئی ہوتی ہے ۔ ایک دوپہر کو جب دودا اپنے گھر میں آرام کر رہا ہوتا ہے کہ اُسی دوران پُژ قبیلے کے لوگ سمی کے مویشیوں پہ دھاوا بولتے اُنہیں لوٹنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اس پر سمی ، دودا کی ماں کو اطلاع دیتی ہے ۔بلوچ رزمیہ شاعری میں اس خاص منظر کو بیان کرتے یہ کہا جاتا ہے کہ دودا کی ماں اپنے سالونک (دولہے) کو نیند سے بیدار کرتے کہتی ہے :
آمرد کہ میار جلاں
نیم روچاں نہ وپساں کُلاں
مذکورہ جملوں میں گو کہ اس داستان کو بیان کرنے کیلئے محض شاعری کا فن شامل ہے مگر ان تاریخی رزمیہ شاعری کہ جنکی اب اپنی تاریخ ہے ۔ اس سے یہ اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ بلوچ ثقافتی اقدار میں باہوٹ کی حفاظت کیلئے اک بلوچ ماں اپنے اُس بیٹے کو بھی جنگ کیلئے خود اُکساسکتی ہے کہ جسکی شادی کو کچھ دن ہی گزرے ہوں ۔
بلوچ رزمیہ شاعری میں شاعر اس داستان کو بیان کرتے مزید اسکی منظر کشی کرتے یہ بیان کرتا ہے کہ جیسے ہی دودا جنگ کیلئے نکلتا ہے تو کوئی خاتون پیٹھ پیچھے دودا کو اپنے باہوٹ کی بہتر دیکھ بھال و حفاظت نہ کرنے پر چند جملے طنزاً کہہ جاتی ہے ۔ جس پر دودا جواباً پُژوں سے اپنے باہوٹ کی تضحیک کا بدلہ لینے کیلئے خود کو قربان کر دینے کی قسم اُٹھا لیتا ہے ۔ شاعر نے دودا کے اسجواب کو اُس کے طیش بھرے انداز میں یوں بیان کیا ہے :
ارماں پہ تو باگاڈ چم
منی موت ءَ دا نشانے دات ئے
زند ءَ راجت چامپولے
اج ما آگہیں مرد شام انت
کہ جکاںؔ پہ پدی ورنایا
اور اُن طنز بھرے جملوں کے جواب میں دودا یہی فقرے کہتا اپنے باہوٹ کا بدلہ لینے پُژوں کے اس ٹولے سے جنگ کرنے نکل جاتا ہے جو اسکے باہوٹ کے مال کو لوٹنے آتے ہیں اور بعد ازاں دوران جنگ وہ اپنی جان باہوٹ داری کی اسی ثقافتی اقدار کو قائم رکھتے قربان کر جاتا ہے ۔
ان تمام واقعات میں گو کہ تنقید کے بعض پہلو خود نمایاں ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچ روایات کی پاسداری رکھتے انہی قربانیوں و جنگوں نے بلوچ قوم کے وجود کو بر قرار رکھا ہوا ہے جسکی تصدیق موجودہ بلوچ تاریخ میں ڈاکٹر شازیہ خالد کے واقعے کو لیکر ہمارے سامنے ہے کہ کیسے نواب اکبر بگٹی نے موجودہ دور میں میر چاکر کا کردار ادا کرتے اپنے قبائلی حدود میں ایک خاتون پہ ہونے والی زیادتی کو اپنی و کُل بلوچ قوم کی بے عزتی تصور کرتے اُسے اپنا باہوٹ تصور کیا اور بلوچ سر زمین پہ ہونے والے اس شرمناک فعل کے سبب پاکستانی فوج سے جنگ کی ، گو کہ اس جنگ کے بنیادی وجوہات پہلے سے ہی موجود تھیں کہ جن میں بلوچ قومی استحصال و قومی غلامی اہم ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے بلوچ ثقافت و روایات کا پاس نہ رکھتے پاکستان نے باہوٹ داری کی بلوچ رسم کو پامال کرتے اکبر خان جیسے 82 سالہ بزرگ کو جنگ کیلئے زیادہ اشتعال پہنچایا اور وہ بھی ’’دودا ‘‘ کی طرح اپنے باہوٹ کا بدلہ لینے کیلئے اپنی جان اپنی ثقافت وسر زمین کی حفاظت کیلئے قربان کر گئے ۔

پس منظر :
عظیم رہبر شہید غلام محمد کی شہادت پر چیئر مین خلیل کو کسی ٹی وی مذاکرے میں اُنہیں ہم بلوچوں کو پاکستانیوں سے جدا و یکسر مختلف قوم ثابت کر دینے والے چند ثقافتی اوصاف بیان کرتے جب لفظ ’’باہوٹ ‘‘ کہتے سنا تو دل میں یہ شدید احساس جاگا کہ اس لفظ کی عظمت کو بر قرار رکھنے کیلئے ہمارے بزرگوں نے کتنی قربانیاں دی کہ جس میں ہماری 30 سالہ جنگی تاریخ بھی شامل ہے لہٰذا میں نے اس موضوع پر کچھ لکھنے کی چاہ میں اپنے دوست جناب علی کہیری سے رابطہ کیا کہ جنہیں رزمیہ شاعری سے خاص شگوف ہے ۔ چند چیزوں کی بہتر وضاحت کی خاطر کی گئی تبدیلیوں کے باوجود یہ تخلیق مکمل طور سے انہی کا تحفہ ہے اور اس وضاحت کی ضرورت بھی اس لئے پیش آئی کہ مضمون کے پس منظر کو سمجھتے ایک عام بلوچ بھی اپنی تاریخ کے چند واقعات جانتے خود کو قومی حوالے سے پاکستانیوں سے ممتاز ثابت کرنے کی بہتر دلیل جان پائے۔(جوان بلوچ)

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker