اجتماعی قبریں۔۔۔

تحریر : سربرزبلوچ

o-INRAP-SKELETONS-900کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) دنیا میں اجتماعی قبروں کی باقائدہ کوئی تعریف موجود نہیں ،البتہ اقوام متحدہ کے مطابق جو حالیہ تعریف واضح ہوئی ہے،کچھ اس طرح سے بنتی ہے، دو سے زیادہ لاشیں ،بے گور و کفن ،بے شناخت کہیں مدفون ہوں،اجتماعی قبرMass Grave” ” کے نام سے جا نی جاتی ہیں۔ضروری نہیں کہ یہ کسی دشمن کی طرف منظم انداز میں قتل کئے گئے ہوں، دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ قحط ،وبائیں،موسمی اثرات ، قدرتی آفات و دیگر وجوہات بھی اجتماعی قبروں کا موجب بنی ہیں۔
اجتماعی قبریں اس وقت حیرت انگیز اور انگشت بدنداں کرنے والی بن جاتی ہیں، جب یہ اجتماعی قتال کی شکل میں وقوع پزیر ہوں، دنیا کے تہذیبوں ،جغرافیائی تبدیلیوں اور مذاہب میں عدم برداشت اور دوسری وجوہات سے ،بقولِ غیرے،باشعور و مہذب دنیا نے نہایت بڑے اور ہولناک اجتماعی قبروں کا نظارہ کیا ہے۔
قدرتی آفات کا تو سمجھ میں آتا ہے کہ انسان اس حد تک تیار نہیں ہے کہ ان آفات کا مقابلہ کر سکے،مگر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ انسانیت کا قتل،وسائل پر گرفت ،انفرادی و اجتمائی فوائد کا حصول۔۔ان عوامل نے دنیا کو ایک جنگجاہ بنا دیا ہے،جہاں پر درندگی یا پھر آدمزادی کے نئے قائدے دکھنے میں آئے ہیں ،کہ اجتمائی اور باربط گروہوں کو زندہ رہنے کیلئے وسائل کی دوڑ میں دوسرے گروہوں سے چھیننے بھی پڑتے ہیں ، جن کے زد میں آکر انسانیت کا قتل ہوجاتا ہے،کبھی کبھی یہ ہولناک شکل اختیار کر لیتی ہیں اور اجتمائی قبروں کا موجب بنتی ہیں ۔ جنگی ادوار میں بیماریوں سے بچنے کیلئے بھی اجتمائی قبروں کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ فلپائن کے صوبے میگوندناؤ ،۹۰۰۲ انتخابی مہم کے دوران وائس میئر اسمائل ٹوٹو کے قافلے پر سیاسی مخالفین نے حملہ کرکے ۴۳ صحافیوں سمیت ۸۵ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا،بربریت یہ کہ عورتوں کو زنا او ر مردوں کے مخصوص اعضاء میں گولیاں ماری گئیں ،اور بعد میں انہیں اجتمائی قبر میں دفنا دیا گیا۔یہ حالیہ سالوں کے بدترین واقعات میں سے ایک ہے۔بد قسمتی سے صحافیوں کے اجتمائی قتل کا یہ سب سے المناک واقعہ تھا۔ درئیاپہ اسٹیڈیم ،جفنا ،سری لنکا میں اجتمائی قبریں دریافت کی گئیں،تامل ٹائیگرز اور سنہالی حکومت کے مابین ٹکراؤ کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کا خون بہا یا گیا۔اس جنگ میں بہت ساری جگہوں میں اجتمائی قبریں پائی گئیں جن میں درئیاپہ سٹیدیم بھی شامل تھا۔یہ قبریں تامل عوام کی تھیں،جو کہ 1999ء میں اس وقت دریافت ہوئیں جب اسٹیدیم میں تعمیری کام کیا جارہا تھا۔شواہد اس لیے حکومت کے خلاف جاتے ہیں،کہ ان قبروں کی تحقیقات کو دبا دیا گیا۔جفنا ہی کے علاقے میروسول میں سال 2000 ء میں بڑی تعداد میں عورتوں اور بچوں کو جان سے مارا گیا،جو داخلی مہاجرت کا سامنا کر رہے تھے۔ان تاملوں کو سری لنکن آرمی نے موت کے گھاٹ اتار کر اجتمائی قبروں میں دفنا دیا۔تاملوں میں12000 وہ ہمدرد اور کارکنان بھی تھے جنھیں حکومت کی جانب سے لاپتہ کیاگیا تھااور بہت ساروں کی لاشیں اسی دوراں انھی قبروں میں پائی گئی تھیں۔حقائق یہ واضح کرتی ہیں کہ اس اسٹیڈیم کی اجتمائی قبریں ان اموات اور نسل کشی کا تسلسل ہے جس میں 65000 لوگوں کی اموات ھوئیں تھیں۔جن کا سہرا حکومت سری لنکا کو جاتا ہے۔تامل ٹائیگرز سے لی گئی حاصل شدہ تجربات سے پاکستاں نے بھی بلوچوں کی خلاف بھرپورفائدہ اٹھانے کی کو شش کی۔(جو کہ اس مضمون میں زیرِ بحث نہیں)۔
روس کے خلاف جنگِ آزادی کے دوران بھی چیچنیامیں بھی یہی کچھ دیکھنے کو ملا، 1994 ء سے2008 ء تک چیچنیا میں 57 مقامات پر اجتمائی قبریں پائی گئیں۔اس جنگ میں بھی زیادہ تر عام عوام ہی لقمہ اجل بنے۔سب سے بڑی قبر گروزنی میں پائی گئی،جس میں 800لاشیں دفن تھیں۔اعداد و شمار بتاتے ہیں،کہ چیچن ،روس جنگ میں 80000 عام عوام کا قتل کیا گیا۔
یہی حال عراق کا تھا،جہاں پر آمر صدام حسین نے اپنے دستِ راست عرفی کیمیکل علی کے ساتھ مل کر کرد معصوموں کو اجتمائی قبروں کی حوالے کیا۔1980 ء کے بعد وہاں پر یہ حالات نمودار ہوئے کہ جہاں پر 250 اجتمائی قبروں کا انکشاف ہوا،جن میں سے 40 یقینی تھے۔8000 کردوں کو صرف سال 1983 ء میں قتل کیا گیا، 1986,ء اور1988 ء میں عراقی فضائیہ نے کردعلاقوں میں شدید بمباری کا سلسلہ جاری رکھا۔جس میں 5000 لوگوں کو مارا گیا۔
اسی طرح روس کے جوزف اسٹالن نے کمیونسٹ مخالفین کو 1930 ء کی دہائی میں موت کے گھاٹ اتارا۔سات لاکھ افراد سے زیادہ کو مار کر اجتمائی قبرون کے حوالے کیا۔ان افراد میں زیادہ کے سروں میں گولیاں ماری گئیں۔ایڈولف ہٹلر کی یہودیوں پر ظلم کوئی ڈھکی چپھی نہیں جنہوں نے بیسوی صدی کی سب سے بڑی نسل کشی کی ، ملین لوگوں سے زیادہ اس نسل کشی میں ہلاک کیے گئے ، اجتماعی قبروں کے علاوہ انہیں گیس چیمبرز میں بھی ڈالا گیا ۔ شائد کمبوڈیا ہی وہ واحد ملک ہے جہاں کے کیت کلیان تو مشہور نا ہو سکے البتہ پالپوت نے سروں کے وہ کیتیاں کاشت کیں کہ ان کے نام پہ 20000جائے وقوع ہیں جہاں پر اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں جن میں 13 ملین افراد کو دفنایا گیاتھا ۔۔۔1974ء سے 1979تک اُس نے اِس کام میں بڑی شہرت حاصل کرلی تھی۔
بنگلہ دیش کو بھی پاکستان کی طرف سے نہایت سخت زخم ملے جہاں پر وہ اپنی آزادی کے مانگ کر رہے تھے، بنگالیوں کی بے دردی سے نسل کشی کی گئی اس نسل کشی کا آغاز 26 مارچ 1971ء کو ہوا اس جنگ میں 3ملین لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا اور 3لاکھ سے زاہد خواتین کی بے حرمتی کی گئی ۔ اس نسل کشی میں بھی لوگوں کو اجتماعی قروں میں دفن کیا گیا ۔مٹنی میں 80 لاشیں لیے ہوئے 2اجتماعی قبروں کا انکشاف ہوا، ڈھاکہ ہی کے قریب ایک اجتماعی قبر پایا گیا جہاں پردانشوروں کو مار کر دفنایا گیاتھا ۔بنگلہ دیش اور بلوچستان کے حالات یکساں ہیں اور انکا دشمن بھی ایک ہی ہے۔
مجموعی طورپرپچھلی صدی میں اجتماعی قبروں کے حوالے سے یہ سب سے بڑی نسل کشیاں دکھائی دیتی ہیں البتہ بہت سارے واقعات کوتفصیل سے بیان نہیں کیا جاسکا اور ان ادوار سے آگے با ہمت صحافیوں اور اہلِ دل حضرات نے ان کو کھوج کر بڑی ہمت کا کام کیا، لیکن یہ سلسلہ تا حال پوری آب و تاب اور درندگی کے ساتھ جاری ہے۔اس دہائی کے شروع میں ہی \”مقبو ضہ بلوچستان\” میں اس طرح کے واقعات کا ظہور ہونا شروع ہوا جہاں پر بلوچوں اور قابض ممالک پاکستان اور ایران کے خلاف ایک آزادی کی تحریک جو ایک قابض انگریز کے جانے کے ساتھ ہی شروع ہوئی مگرناگزیر وجوہات کے بنا پر پھیل نہ سکی۔حالیہ کچھ عرصے سے جب اس جنگ نے شدت اختیار کی توبالخصوص پاکستا ن کے زیرِ دست بلوچستان میں بڑے پیمانے پر مہاجرات کی ابتداء ہوئی اور بہت بڑے پیمانے پر "UN\”کے متعین کردہ تعریف کے مطابق اجتماعی قبروں کا دریافت ہوناشروع ہوا، جن پر سخت ترین تشدد کے واضع نشانات ظاہر تھے۔۔تیزاب، بے تہاشہ گولیاں اور تارکول سے چہرے و جسم کو مسخ کیا جاتا رہا، جو تاحال اپنے بے پناہ درندگی سے جاری ہے ، آخر انسانی حقوق کے ادارے مجبور ہوئے کے اس نسل کشی کو بنامِ "Kill and Dump” یاد کیا جائے، روزانٰہ کی بنیاد پر مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ فوجی آمر پریز مشرف کے دورِحکومت سے شروع اور ہنزو جاری ہے، 20ہزارافراد کو لاپتہ کیا جا چکا ہے اور ان میں سے اب تک 2000 سے زائد لاشیں سڑکوں، میدانوں اور ویرانوں میں پھینکی گئی ہیں ، ڈیرہ بگٹی، تربت، خضدار، کوئی ایسا ضلع نہیں بچا جہاں پر لاشیں نہ پھینکی گئی ہوں۔۔۔کچھ جگہوں نے تو تصوراتی جگہوں کا روپ دھار لیا جیسے کہ "مرگاپ”۔۔۔
خضدار کا علاقہ "توتک ” بھی "Josaph Stalin”جوسف اسٹالن ، "Hitler”اٹلر اور "Palpot”پالپوت کی بربریت کا مثال پیش کرتا رہاجہاں پر 3سے زائد اجتمای قبریں کا انکشاف ہوا جن میں 169لاشوں کی موجودگی تھی جنہیں مسخ کر کہ دفنایا گیا تھا، پاکستانی حکام ان لاشوں کی تعداد کو صرف 17بتاتے ہیں جبکہ 169 کی تعدا دوہاں کے عینی شایدن کے مطابق تھی ۔جنگی میدان اور بین القوامی تحقیقاتی تنظیموں کی غیر موجودگی پاکستانی حکام کو مزید شے دے ہی ہے کہ وہ جنگی بر بریت کا ارتکاب کر تے ہیں۔اب بلوچوں پر منحصر ہے کہ وہ بین القوامی دنیا میں کس طرح اپنا مقدمہ پیش کرتے ہیں تاکہ بلوچ ایک آزاد مملکت کے وارث اور انسانیت کی بقاء کا ایک اہم کردار بن سکے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close