شہید قدیر بلوچ عرف جمیل بلوچ اور کمانڈر فضل محمدعرف بابو بگٹی کوانکی شہادت پر سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔بی آر اے

BRAبلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے اپنے جارہ بیان میں کہا یے کہ17 مئی کو پاکستانی آرمی کے گوادر کے علاقے ساہجی میں ہمارے تنظیم کے کمیپ پر دو طرف سے حملہ آور ہو کر کے تمام راستے سیل کر نے کے بعد چھ ہیلی کاپٹروں کے مدد سے مسلسل آٹھ دن تک بمباری اور شیلنگ کرتے رہے جبکہ پانی کے تمام تالابوں کو زہر آلود کردیا دشت اور ساہجی میں زیادہ تر عام آبادی ریاستی فورسز کے نشانے پر رہے جس کی وجہ سے گرد و نواح کے آبادیوں کو جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا گیا۔ ان آٹھ دنوں میں پاکستان فورسز نے بے پناہ کوشش کی کہ سرمچاروں کے کیمپ پر قبضہ کرےمگر سرمچاروں سات دن تک ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہےاس دوران مخلتف مقامات پر ریاستی فورسز کے ساتھ دو بدوں جھڑپیں بھی ہوئیں جس میں فورسز کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ایک ہیلی کاپٹروں کو ہماری سرمچارواں نے نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا جس کو گوادر میں ہنگامی لینڈ نگ کرنی پڑی۔ جبکہ آپریشن میں شریک چار اہلکاروں کو ہمارے سنائپرز نے ہدف بنا کر ہلاک کیا۔ تنظیم کی حراست میں موجود بی اینڈ آر اور محکمہ تعمیرار ومواصلات کے دو انجینئرز فدا اور ابراھیم اور دیگر کی ہمارے ساتھیوں نے بھر پور دفاع کرنے کی کوشش کی انہی گرفتار اہلکاروں اور کیمپ کادفاع کرتے ہوئے تنظیم کا نوجوان سرمچار قدیر بلوچ عرف جمیل شہید ہوگئے۔ جس کے بعد تمام قیدیوں کو ہم نے رہا کردیا ہماری اطلاعات کے مطابق ان میں سے کچھ فورسز کے ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے ہلاک ہوئے اور کچھ تالابوں میں زہر آلود پانی کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ شہید قدیر بلوچ نے جس انداز سے گن شپ اور کوبرا ہیلی کاپٹروں کا مقابلہ کیا اور بلا خوف سات دن ریاستی فورسز کا دو بدوں مقابلہ کیا۔شہید قدیر بلوچ نوجوانوں کیلئے ایک مشعل راہ ہیں ریاست کی یہ کوشش کہ وہ ساہجی اور دشت کو قبضہ کر کے اپنے سامراجی منصوبے نام نہاد راہداری کو کامیاب بنائے گی کو بی آر اے نے مکمل ناکام بنادیا ہے کئی دنوں کے محاصرے اور فضائی حملے کرنے کے باوجود ساہجی میں آج بھی سرمچاروں کی رٹ موجود ہے ریاستی افواج کو ساہجی آپریشن کے ناکامی پر یہ ضرور زہن نشین ہوگیا ہوگا کہ بلوچ اپنی سرزمین کی دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں قابض ریاست کی تمام تر طاقت آزمائی کے باوجود سرمچاروں کے حوصلے بلند ہیں ریاست کی ترقی کے نام پر بلوچ کش منصوبوں خاص کر نام نہاد راہداری کے خلاف ہمارے حملوں میں مزید شدد آئے گی۔ اس کے علاوہ ڈیرہ بگٹی کے علاقے اوچ میں پاکستانی فورسز نے ایک بڑے آپریشن کا شروع کردیا آپریش میں شریک قافلے کو بلوچ آرمی کے سرمچاروں نے گھات لگا کر راکٹوں اور خود کار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا دو گھنٹے سے زائد عرصے تک فورسز کے ساتھ چھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں فورسز کےچودہ اہلکار ہلاک اور میجر صادق سمیت متعدد اہلکار زخمی ہوئے جبکہ اس دوران بلوچ ریپبلکن آرمی کے کمانڈر فضل محمد عرف بابو بگٹی بھی شہید ہوگئے شہید بابو گزشتہ کئی سالوں سے بلوچ ریپبلکن آرمی سے وابستہ تھے بابو بگٹی تنظیم کے شہید کمانڈر ستار بگٹی کے چچا تھے جبکہ 5 جون 2014 کو درینجن میں ہونے والے لڑائی میں بابو بگٹی کے جوان سال فرزند اور بی آراے کے سرمچار سعید محمد بگٹی اور بھتیجا محمد امین بگٹی بھی شہید ہوگئےتھے بابو بگٹی 2015 میں فور سز کے ساتھ ایک جھڑپ میں سوئی میں زخمی بھی ہوئے تھے بلوچ ریپبلکن آرمی بابو بگٹی کی جہد آزادی کیلئے گروہ قدر خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہے.

مزید خبریں اسی بارے میں

Close