بلوچستان بھر میں ریاستی جارحیت انتہائی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ شیر محمد بگٹی

جنیوا ( ری پبلکن نیوز) بلوچ ری پبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیرمحمد بگٹی نے اپنے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ ریاستی فورسز کی جانب سے بلوچستان کے طول و عرض میں فوجی آپریشن اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اس میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تیزی لائی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی فورسز نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے اوچ، کیچ کے علاقے دشت اور گوادر کے علاقے سیاجی سمیت بلوچستان بھر میں نہتے بلوچ آبادیوں کے خلاف ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ دشت اور سیاجی میں گزشتہ آٹھ روز سے فوجی کاروائی کی جارہی ہے۔ علاقوں کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کرکے بے گناہ بلوچوں کو بلاامتیاز نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کاروائی کے دوران درجنوں گھروں میں لوٹ مار کے بعد انہیں نظرآتش کیا گیا ہے جبکہ بڑی تعداد میں نہتے بلوچ فرزندوں کو اغواہ کرنے بعد لاپتہ کیا گیا ہے۔ علاقے ریاستی فورسز کی محاصرے میں ہونے کی وجہ سے اشیاء خورد و نوش کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور مقامی آبادی نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اسی طرح آواران میں مختلف مقامات پر ریاستی فورسز نے بے گناہ بلوچوں کے گھروں میں حملہ کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ایک بلوچ فرزند کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔ پنجگور کے علاقے پروم سے گزشتہ روز ریاستی فورسز نے جمشیر بلوچ نامی بلوچ فرزند کو اغواہ کیا اور آج پروم کے علاقے پل آباد سے سرور بلوچ ولد سنجر بلوچ نامی بلوچ نوجوان کو لاپتہ کیا گیا۔ دوسری جانب ڈیرہ بگٹی کے علاقے اوچ میں ریاستی فورسز نے بدھ کو علی الصبح آپریشن کا آغاز کیا اور نہتے بلوچ آبادیوں پر دھاوا بلوچ دیا۔ علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے ریاستی فورسز نے گھروں پر اندھا دھند بمباری اور فائرنگ کی جس کی زد میں آکر خاتون سمیت ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے تین بے گناہ بلوچ شہید ہوگئے جن کی شناخت خیرجان بگٹی، دلمراد بگٹی اور حلیمہ بگٹی کے نام سے ہوئی ہے۔ آپریشن کے دوران بمباری کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور آخری اطلاعات تک آپریشن جاری ہونے اور علاقے گھیرے میں ہونے کی وجہ سے جانی نقصان میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ شیرمحمد بگٹی نے انسانی حقوق کے عالمی اداری، بین الاقوامی میڈیا اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بلوچ نسل کشی کے خلاف نوٹس لیا جائے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close