بلوچ وطن پر پاکستان کا قبضہ

کوئٹہ/مضمون(ریپبلکن نیوز) یو تو ہمیں پاکستانی لٹریچر ز میں اور پاکستانی دانشوروں کی تحریروں اور کالمز میں یہی پڑھنے کو ملتا ہے کہ بلوچ قوم نے پاکستان کی آزادی کے لیے قربانیاں دی ہیں اور بلوچ اتنے ہی پاکستان سے محبت کرتے ہیں جتنے پنجاب کے رہنے والے، لیکن اگرحقیقت کا جاہزہ لیا جائے تو معاملات بالکل اس کے بر عکس ہیں ہمیں پاکستانی لٹریچر میں صرف تصویر کا ایک رخ دکھایا ،پڑھایا اور سنایا جاتا ہے مجھے یاد ہے جب بھی14اگست کاموقع آتا ہے تو پاکستانی میڈیا بڑے جذبے سے 14 اگست کے پروگرامز ٹیلی کاسٹ کر رہے ہوتے ہیں جبکہ یہی میڈیا یہ بھی دکھاتی ہے کہ بلوچستان میں بھی یومِ آزادی(پاکستان کی) بڑے جوش و جذبے سے منایا گیا لیکن مجھے یاد نہیں کہ کبھی بلوچستان میں پاکستان کایومِ آزادی(جوکہ دروغ گوئی پر مبنی ہے)منایا بھی گیا ہو بلکہ اس دن کو بلوچ نوجوان ، بزرگ ، بچے اور عورتیں یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اور اپنے ہاتھوں میں سیاہ پٹیاں باندھتے ہوئے پاکستان سے بھر پور نفرت کا ظہار بھی کرتے ہیں اور کریں بھی کیوں نہ۔۔۔! اگر کسی کے گھر میں کوئی چور ڈاکہ ڈالتا ہے تو ظاہر سی بات ہے اُس گھر کے رہنے والے لوگ چور کے خلاف مزاحمت کرینگے اوراگر کمزور ہوئے تو بہترین حکمت عملی بناکر چور کے خلاف ایکشن لینگے بالکل اسی طرح اگر ایک خود مختار ریاست پر کوئی طاقتور ملک قابض ہوجائے تو اس ریاست کے رہنے والے لوگ قابض کے خلاف ہر طرح کی جدوجہد کرنے سے نہیں کھترائینگے جبکہ اپنی جانوں کا نذرانہ دیتے ہوئے اپنے سرزمین کادفاع کرینگے ۔

بلوچ قوم کی داستانِ غلامی کا افتتاح 27مارچ سے شروع ہوتا ہے جب برطانوی سامراج کی نومولود ریاست(پاکستان) نے تمام تر انسانی اقدار، اخلاقی اصولوں اور بلوچستان کی جغرافیائی سرحدوں کوپاؤں تلے روندتھے ہوئے قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچ وطن پر وقبضہ کر لیا اور بلوچ سرزمین سے نکلنے والے قیمتی معدنیات کو ہتیانے کے لیے بلوچستان پر شب وخون مار تے ہوئے ایک خونی جنگ کا آغاز کر دیااوربے دردی سے بلوچ قوم کی نسل کشی کی گئی (جو تاحال جاری ہے) جبکہ11اگست 1947ء کو آزاد ہونے والے بلوچ ریاست کو برطانیہ اور افغانستان سمیت ہندستان نے تسلیم کر لیا تھالیکن چند عرصہ گرزنے کے بعد پاکستان کے گورنر جنرل محمد علی جناء نے بلوچستان کا الحاق پاکستان سے کرنے کے لیے خان آف قلات پر دباؤ ڈالا مگر بلوچ وطن کے جمہوری ایوانوں "دیوانِ عام”اور "دیوانِ خاص” کے تمام ممبران نے پاکستان سے الحاق کو رد کر دیا ۔ تب پاکستانی فوج نے بڑی بے دردی سے قلات ریاست پر فوج کشی کرتے ہوئے قلات ریاست پر قبضہ کر لیا۔

بلوچ قوم کے لیے 27مارچ کا دن ایک قیامت سے کم نہیں 27مارچ8 194ء کو قابض پاکستان نے بلوچ قوم کی رضاء و منشاء کے بر خلاف عالمی قوانین و جغرافیائی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بزورِ جبر و طاقت بلوچ سر زمین پر قبضہ کیا۔معدنی وسائل سے مالا مال بلوچ سر زمین کو حاصل کرنے کے لیے قابض پاکستانی فوج نے بے انتہاء بلوچ فرزندوں کوموت کے گھاٹ اُتھار دیا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔

جبری الحاق کے خلاف آغا عبدالکریم خان کی قیادت میں قابض کے خلاف جنگ کا اعلان کیا گیا عبدالکریم خان قلات ریاست کے سربراء میر احمد یار خان کے چھوٹے بھائی تھے۔عبدالکریم خان نے اپنے محدودوسائل اور چند جانباز ساتھیوں کے ہمراء پاکستان کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا جس میں انہیں بلوچ قوم کی مکمل حمایت حاصل تھی لیکن آغا عبدالکریم خان کوچالاک اور مکار پاکستان نے قرآن پاک کو ضامن بنا کر مزاکرات کی دعوت دی جنہیں بعد میں گرفتار کر کہ پابند سلاسل کردیا گیا اور بلوچوں کی آزادی کی تحریک کو کچلنے میں ریاست پاکستان کامیاب رہا۔لیکن 1958ء کو ایک بار پھر نواب نوروز خان زرکزئی کی قیادت میں مسلح بغاوت شروع ہوگئی جسے پاکستانی فوج نے کچلنے کے لیے ایک بار پھر اسلام کا سہارا لیتے ہوئے قرآن مجید کو ضامن بنا کر بڑی مکّاری سے نواب نوروزخان کو مزاکرات کی دعوت دی جنہیں اپنے بیٹوں اور ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کر کہ حیدرآباد جیل منتقل کر دیا گیا جہاں نواب نوروز خان کے سامنے انکے بانچ بیٹوں کو پھانسی دی گئی اور نواب نوروز خان کو عمر قید کی سزاء سنائی گئی جو جیل میں ہی شہادت نوش کر گئے۔ لیکن جنگِ آزادی کوکچلنے اور ختم کرنے میں ریاست اور اسکی فوج بُری طرح ناکام رہی۔

جبری قبضہ سے لیکر1973ء تک پاکستان کے آئین ساز پارلیمنٹ نے مختلف قوانین بنائے جس میں بلوچ وطن کی جغرافیائی حیثیت کو ختم کرکے اسے مغربی پاکستان (پنجاب ) میں ضم کر دیا گیا۔اور انہیں آئین ساز اداروں نے مختلف قوانین بنا کر عدالتوں میں بلوچ فرزندوں کو سزائے موت دیکر تختہ دار پر لٹکا دیا۔ پاکستانی فوج کی انسانیت سوز جنگی جرائم کو اسکی عدالتیں انہی قوانین کے تحت جاہز قرار دے رہی ہیں۔ ان تمام ترمظالم کے باوجود پاکستان بُری طرح تحریکِ آزادی کو کچلنے میں ناکام رہی اور آزادی کی تحریک کبھی تیز تو کبھی سست روئی کا شکار ہوئی لیکن جاری رہی۔

2004ء آمر جنرل پرویز مشرف کے دور میں بزرگ قوم پرست رہنما ء نواب اکبر خان بگٹی نے ایک بار پھر سے تحریک میں جان پھونک دی اور بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے پہاڑوں کا رخ کیا اور پاکستانی فوج کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا جنہیں 26اگست 2006میں ڈیرہ بگٹی کے پہاڑے علاقے”تراتانی ” میں پاکستانی فضایۂ اور پاکستانی آرمی کے کمانڈوز نے دورانِ بمباری شہید کر دیا جن کی شہادت نے پورے بلوچستان میں قیامت برپا کردی اور پورے بلوچستان میں آگ کے شعلے بلند ہوئے جو اب تک بجنے کا نام نہیں لے رہے نواب صاحب کی شہادت کے بعد تحریک نے ایک نئے اور منظم انداز میں رخ اختیار کر لیا جسے کچلنے کے لیے ریاست ہر قسم کے عربے استعمال کر رہی ہے لیکن ناکامی اسکی مقدر بن چکی ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور سے اب تک بلوچستان سے 20000کے لگھ بگھ آزادی پسند سیاسی ورکروں طالب علموں سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اغواء کیا جا چکا ہے جو تاحال لاپتہ ہیں جبکہ لاپتہ افرادکی ہزاروں کی تعداد میں مسخ شدہ اور ناقابلِ شناخت لاشیں بلوچستان اور کراچی کے مختلف علاقوں سے مل چکی ہیں جنہیں شدید نوعیت کے تشدد سے گزار کر شہید کر دیا گیا ہے۔بلوچ آزادی پسند جماعتوں بلوچ ری پبلکن پارٹی ، بلوچ نیشنل موومنٹ، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) اور بلوچ ری پبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکنوں کی بڑی تعدادکو ریاستی فورسزشہید کر چکی ہے اور ایک بہت بڑی تعداد اب بھی ریاستی عقوبت خانوں میں اذیتیں برداشت کر تے ہوئے آزادی کا سورج طلوع ہونے کے انتظا ر میں ہیں۔

تحریر: خالد بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close