ڈیرہ بگٹی میں چھ روز سے جاری فوجی آپریشن میں 14افراد شہید 30سے زائد زخمی ہوئے، بی آر پی

کوئٹہ( ریبپلکن نیوز) بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں پاکستانی فوج کی جانب سے گزشتہ چھ روز سے جو بربریت کامظاہرہ کیا جارہا ہے اس کی ںظیردنیا میں کہی نہیں ملتی، پاکستانی فوجی دستے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے مسلسل بمباری اور شیلک کررہے ہیں آج بھی پشینی سے ایک شخص کی لاش ملی ہے جو کہ رحمان ولد مڑزیان بگٹی کی ہے جس کی عمر ۸۰ سال سے زائد تھی شہیدرحمان بگٹی کے خاندان کے پانچ افراد کی لاشیں گزشتہ روز پشینی سے ملی تھی جنہیں پکڑ کر پھر گولیاں مار کر شہید کیا گیا تھا جن میں شہید رحمان  کے دو بیٹے ملغ، دوست علی ، جبکی دو نواسے نوازگل ولد ملغ بگٹی ، علی شیر ولد دوست علی بگٹی اور زوجہ نصیوان بگٹی شامل ہیں جبکہ چھ خواتین سمیت پندہ افراد زخمی ہوئے جو تمام رحمان خاندان سے تعلق ہے زخمیوں میں ایک حاملہ خاتوں بھی شامل تھی جس کے ہاں زخمی حالت میں بچے کی پیدائش ہوئی اور وہ مصوم بچہ بھی ذخمی تھا تمام ذخمی افراد بے یار و مددگار پشینی جیسے پہاڑی علاقے میں پڑے ہیں۔ پاکستانی فوجی اہلکاروں نے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو تاحال سیل کر رکھا ہے اور مسلسل بمباری اور شیلنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس سے ہلاکتوں اور ذخمیوں میں اضافے کا خدشہ ہیں اب تک تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد چودہ ہے جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہے جبکہ ۳۰ افراد زخمی ہیں آپریشن کے دوران ۲۰۰ گھروں کو بھی نظر آتش کیا جاچکا ہے جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں کے بھیڑ، بکریوں اور اونٹوں کو بھی سرکاری فوجیں اپنے ساتھ لے گئے ہیں ترجمان نے انسانی حقوق کے علبرداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں بلوچوں کے قتل عام کو روکنے کیلئے اقدامات کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close