بلوچ تحریک آزادی گوریلاجنگ کے تناظر میں

کوہٹہ (ریپبلکن نیوز/مضمون)’’ مسلح مزاحمتی تحریک جبر کی کھوک سے جنم لیتی ہے، اسکے بیج آزادی اور برابری کی بے انتہا خوا ہش میں پائے جا تے ہیں۔‘‘

گوریلا جنگ کے معنی ،’’چھو ٹی،بے قا ئدہ اور مسلسل حرکت پزیر مسلح دستو ں کا مقصد کے حصول کی خاطر،فوجی حکمت عملی کے تحت دشمن کی باقا ئدہ فوج پر اچانک حملے کرنا ہے۔‘‘ موجودہ وقت میں یہ جنگ مظلوم قوموں اور جابر ریاستوں کے مابین ’’ حق خود ارادیت ‘‘ کے لیئے اور کہیں کہیں ظالم اور مظلوم طبقوں کے ما بین حقوق کے لیئے لڑی جا رہی ہے۔بنیادی طور گو ریلاجنگ ایک سیاسی جنگ ہی ہے اور اسکی تر جیحات بھی سیاسی ہوتے ہیں۔اسے آپ جبر کے حلاف مسلح عوامی احتجاج بھی کہہ سکتے ہیں، گوریلا مظلوم عوام کا نمائندہ ( spokesman)ہوتا ہے۔گوریلا جنگ کو شروع کرنے سے قبل حقوق کے تمام پر امن حل بے فا ئدہ ثابت ہو نی چا ہیں اور عوام کو یہ یقین آجا ئے کہ دوسرا کوئی متبا دل نہیں رہااور جنگ ایک مجبوری ہے ۔

گو ریلا جنگ میں عوامی حمایت کی اہمیت:۔

گوریلا جنگ میں بنیادی مقصد کا تعین لازمی ہے ،پھر اس مقصدکے حصول کے لیئے لائحہ عمل ترتیب دی جا تی ہے۔یہ ضروری ہے کہ عوام اور سر مچاروں کو جنگ کے مقا صد سمجھا ئے جا ہیں،انہیں بتایا جائے کہ آزادی کے بعد انہیں کیافوائد حاصل ہونگے۔عوام صرف معاشی فوائد ، برابری اور سماجی انصاف کی خاطر قربا نیاں دیتے ہیں۔بنیا دی طور گوریلا جنگ ایک عوامی جنگ ہے اس کے لیئے عوام کی مکمل حمایت نا گزیر (Indispensible)ہے ۔گوریلا فورس کی بنیادی ہتھیار انکی بندوقیں نہیں بلکہ عوام کے ساتھ انکا قریبی تعلق ہے،جن کے لیئے وہ لڑ رہے ہیں۔عوام ایک سمندر ہیں مشکل وقت میں گوریلا بھاگ کر ان میں پناہ حا صل کر تے ہیں۔ عوام کی عملی مدد کے بغیر گوریلا محض ایک قزاق (Bandit) ہیں۔اور زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتے۔گوریلا کے لیئے عوام ’’ ، ایک پناگاہ،انکے قیام وطعام کا انتظام کرنے،نئے سپاہی بھر تی کرنے،موا صلات اور ہر جانب نگاہ رکھنے والی طاقت (Force) ہیں‘‘ اس لیئے جب فوج سر مچاروں(گوریلوں) کو پکڑ یا مار نہیں سکتی تو وہ پر امن عوام پر حملہ آور ہو تی ہے تا کہ وہ گوریلوں کی حمایت کو تباہ کر سکے، لیکن یہ ممکن نہیں ہوتابلکہ شعلوں پر پیٹرول ڈالنے کے مترادف ہوتاہے۔گوریلا سپاہی ایک سما جی اصلاح کار بھی ہے۔وہ عوام کو درست مشورے دینے والا ایک فر شتہ ہے جو عوام پر اتارا گیا۔وہ غریب عوام کی سماجی،ثقا فتی،نظریاتی اور فنی مددگار بھی ہے۔اس کے علاوہ گوریلا لیڈرکا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ مخلص اور عوام دوست ہو۔اسے قومی اور بین الاقوامی سیاست کے داؤ پیچ پر عبور ہو۔وہ دور اندیش اور بہادر ہو۔ایک کہاوت ہے ’’ اگر ایک شیر سو گیدڑوں کی کمان کرے تو گیدڑ شیر کی طرح لڑیں گے،اور اگر ایک گیدڑ سو شیروں کی کمان کرے تو شیر گیدڑ کی طرح بھاگ کھڑے ہونگے۔‘‘

گوریلاجنگ کی حکمت عملی:۔

گوریلا جنگ میں’’ دشمن کو دھو کہ Deception))دینا،مسلسل حرکت(Constant Mobility)اور رازداری(Secrecy)بنیادی حکمت عملی ہیں‘‘ار نسٹو چی گویرا دھو کہ کے بارے لکھتا ہے ’’ جب ہم حملہ کر نے کے قابل ہوں تو ہم لا زمی ایسا دکھائی دیں کہ ہم اس قا بل نہیں،جب ہم عمل کر رہے ہوں توبے عمل دکھائی دیں ،جب ہم نزدیک ہوں تودشمن کو یہ یقین ہو کہ ہم بہت دور ہیں،جب ہم بہت دور ہوں تو دشمن کویہ یقین دلائیں کہ ہم بہت نزدیک ہیں۔‘‘اس بارے چیر مین ماؤ کہتے ہیں ،’’ جب دشمن آگے بڑھتا ہے تو ہم واپسی احتیار کرتے ہیں،جب دشمن پڑاؤ ڈالتا ہے توہم اسے خوفزدہ(Harase) کرتے ہیں،جب دشمن تھک جاتا ہے ہم حملہ کرتے ہیں،جب دشمن پسپا ہوتا ہے تو ہم اسکا پیچھا کرتے ہیں،جب دشمن برتر (Superior)ہو تو ہم اس سے دور (Evade) چلے جاتے ہیں۔‘‘ حرکت(Mobility) کے بارے چی گویرا مسلسل حرکت (Constant mobility)کی تا کید کرتے ہیں۔یعنی ایک رات ایک جگہ۔ہم نے دیکھا موجودہ تحریک میں کئی سر مچار اس لیئے مارے گئے یادشمن کے ہاتھ لگے کیونکہ وہ کئی دنوں ایک جگہ ،گھر ،کسی گاؤں یا شہر میں قیام پزیر تھے۔

گوریلا جھڑپوں (Combates)کی سب سے اہم اوربنیادی اصول یہ ہے کہ ’’کوئی لڑائی ،جھڑپ یا مڈبھیڑ اسوقت تک نہ لڑی جائے جبتک کہ مکمل کا میابی کا یقین نہ ہو۔‘‘(No battle ,combate or skirmash to be fought unless it will be won.) چی گوویرا کہتے ہیں’’آپ ایک جانب صرف اسوقت حملہ کر سکتے ہیں جب تین جانب بچ نکلنے کے لیئے محفوظ ہوں ۔‘‘ (You can attack from one side only if other three sides are safe to escape.)ایک ضرب ا لمثل ہے ’’ اپنی اور دشمن کی طاقت کا صحیح ادراک کر لیں پھر آپ سو جنگیں بغیر کسی بڑے نقصان کے لڑ سکتے ہیں۔‘‘(Know yourself and your adversary than you will be able to fight hundred battles without a single disaster)سنت زو(Sun Tzu) کہتے ہیں ’’جنگ سے قبل کافی سوچ بچار فتح کا بائث ہوتا ہے اور نہ سوچنا شکست کی،‘‘(Do many calculations before war, leads to victory and little caculations before war to defeat.) جنرل گیاپ کہتے ہیں۔’’امریکن جلدی جنگ لڑنا چاہتے ہیں لمبی جنگ ان کے لیئے بڑی شکست ہے۔‘‘ Americans wants to fight quickly, to fight a protracted war is big defeat for them)) ایک امریکی جنرل نے لکھا ہے ’’گیاپ جانتے ہیں اگر زیادہ اموات ہونگی اور اخراجات بڑھیں گی،تو فرانس اور امریکہ کو پیرس اور واشنگٹن میں شکست ہو گی۔‘‘اسی طرح اگر بلو چستان میں حکمت عملی لمبی جنگ کی ہوگی،تو پاکستان اسلام آباد میں شکست سے دوچار ہوگا۔

گوریلا جنگ میں رازداری بہت ضروری ہے،خفیہ رازوں کا غیر ضروری افشاں کرنا ،موبائل فون کا بیجا استعمال، سے کافی نقصان ہواکیونکہ امریکہ اور چین نے فوج کو سراغ رسانی کے جدیدآلات دیئے ہوئے ہیں ۔سر مچاروں کی ایسے آلات سے جانکاری اور بچاؤ لازم ہے۔گوریلا کے لیئے زمین سے واقفیت بہت اہم ہے ۔زمین اسکے سامنے اتنا وا ضح ہو جیسے کہ اسکی ہاتھ کی لکیریں ۔اگر گوریلاکا انتخاب لڑائی کے علاقے سے ہو توبہت فائدہ مند ہو تاہے، کیونکہ وہ اپنے علاقہ اور لوگوں سے واقف ہوتا ہے۔اگر گوریلا گروپ گھیرے میں آجا ئے تو اسے دشمن کو اس وقت تک روکے رکھناچا ہیئے جبتک اندھیرا چھا نہ جائے۔رات سرمچارونکا بہترین دوست ہوتاہے ۔ایک زخمی ساتھی کو کبھی بھی دشمن کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چا ہیئے ۔ ہر گروپ کے ساتھ دو تین غیر مسلح افراد ہوں جو زخمی ساتھیوں اور دشمن سے چھینا گیا اسلحہ محفوظ مقام تک پہنچا سکیں۔موجودہ جنگ میں مدرجہ بالااصولوں پرمکمل عمل نہیں ہورہا ہے جسکی وجہ سے سر مچاروں کے جانی نقصانات زیادہ ہورہے ہیں۔سر مچار کی زندگی بہت قیمتی ہو تی ہے ،اسکے مقابلے جب ایک کرائے کا فوجی مرتاہے تواسکی جگہ پرکرنے سو اورقطار میں لگ جاتے ہیں۔

گوریلاجنگ تشدد اورتوڑپھوڑ:۔

گوریلا جنگ میں تشدد(Terrorism ) اتنا موئثر نہیں بلکہ اکثر اوقات نقصان دہ ہوتاہے۔اسکا استعمال صرف ایک ظالم اور ایجنٹ لیڈر کو مارنے کے لیئے ہی ہونا چا ہیئے ۔غیر اہم ایجنٹوں ،انفارمرز اور مخا لفین کو مارنا تحریک کے لیئے نقصان دہ ہے۔کچھ علاقوں میں ایسی کاروائیوں سے تحریک کو کافی نقصان ہورہا ہے اور سر مچار بدنام ہو رہے ہیں ،حکومتی مشینری اور اسکے ایجنٹوں کوپرو پگنڈے کا موقع مل رہاہے۔ ایسے غیر اہم لوگوں کو بار بار کی وارننگ ،دھمکیوں اور دوسرے طریقوں سے آسانی سے قابو کیا جا سکتا ہے۔توڑ پھوڑ (Sabotage )گوریلا جنگ کی ایک لازمی اور کا میاب حکمت عملی ہے۔پا کستان جو دیوالیہ ہو نے کے قریب ہے ، معاشی نقصانات اسکی سب سے بڑی کمزوری ہیں۔ کسی بڑے انسٹالیشن (Instalation )پر حملہ اسے چیخنے چلانے اور یہاں تک کہ کراہنے پر مجبور کرے گی۔

گوریلاجنگ میں اتحاد ،فرنٹ کی اہمیت:۔

یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ بلوچ آزادی پسند تنظیمیں متحد نہیں اگر چہ ان میں کوئی نظریا تی اختلاف بھی نہیں اگر وہ متحد ہوں تو آسانی سے اپنی وطن کا دفاع کر سکتی ہیں۔موجودہ تحریک کے ابتدائی سالوں میں جب ان میں اتفاق تھااور وہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے، ان کے کیمپ ہر علاقے میں ساتھ ساتھ ہوتے اورحملے کی صورت میں وہ ملکر دشمن کا مقابلہ کرتے تھے ۔اسوقت ریاست کو ہر محاذپر حزیمت کا سا منا تھا۔بلوچ عوام کی انہیں مکمل حمایت حاصل تھی،بین الا قوامی دوست اور’’ بلوچ ڈائسپورا‘‘ ان کے ساتھ کھڑی تھی۔پھر ان کے مابین چھوٹے چھوٹے اختلافات سا منے آنے شروع ہو ئے جو جلد سوشل میڈیا کی زینت بنے ۔ایک وقت تو ایسا بھی آیا جیسے یہ تنظیمیں ریاست کی بجائے ایک دوسرے سے لڑ رہی ہوں۔انکی کمزوریوں ، ناتجربہ کاری اور عدم برداشت سے ریاست نے خوب فا ئدہ اٹھایا ۔تحریک کیخلاف پروپگنڈہ مہم شروع کی اور اپریشن بھی تیز کی ،جس سے تحریک نا قابل تلا فی نقصان سے دوچار ہوا۔سچی بات یہ ہے ٹکڑوں میں بٹی آزادی کی جدو جہد دن بدن کمزور ہو تی جارہی ہے۔ بابا خیر بخش مری کہتے تھے’’اگر ہم متحد ہوں تو سامراجی طاقتیں لازماًًہم سے بات کرنے پر مجبور ہونگی‘‘۔ انہوں نے مظبوط تنظیم اور لمبی جنگی حکمت عملی کی باربار تاکید کی۔ شہید وطن نواب محمد اکبر خان بگٹی آ خری وقت تک اتحاد کی کوششیں کرتے رہے اور کسی حد تک وہ کامیاب بھی ہوئے تھے‘‘۔قو می تحریک آزادی کی جنگ میں متحد ہونا،فرنٹ بنانا کامیابی کی لازمی شرط ہے۔جنرل گیاپ فرنٹ کی اہمیت کے بارے لکھتے ہیں۔’’ویت نام کی جنگ آزادی نے ثابت کیاکہ دشمن ،جتنا طا قتور ہے اتنا ظالم بھی ہے، اس سے فتح صرف اسوقت ممکن ہے جب عوام کو ایک وسیع اور مضبوط متحدہ قومی محاذکی پلیٹ فارم پر یکجاکیا جائے جسکی بنیاد مزدور اور کسان ہوں۔‘‘(The war of libration of Vietnamese people proves that, in the face of an enimy as powerful as he is cruel, victory is possible only by uniting the whole people within the bosom of a firm and wide national united front, based on worker and peasant.) ۔

گوریلا جنگ اوراخلاقی برتری:۔

فرانسیسی جنرل آندرے 1973 ؁ میں ویت نام اور الجیریا کے جنگ آزادی کے بارے اپنی یاداشت میں لکھتے ہیں۔ ’’لگتا ہے کمزوروں نے طاقتوروں کو شکست دے دی ،لیکن حقیقت میں اخلاقی لحاظ سے بالکل الٹ ہی صحیح ہے۔ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ ایسی محدود جنگیں اخلاقی میدان میں ہی لڑی جاتی ہیں۔‘‘(The weak seem to have defeated the strong, but actually just the reverse was true from a moral point of view,which bring us to the conclusion that limited wars are primarily fought on the field of morale.)

آج پاکستانی فوج کی کو شش ہے کہ بلو چوں کی اخلاقی بر تری کوشکست د ے اور جھو ٹ بول بول کریہ یقین دلائے کہ بلوچ دہشت گرد ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ 4 اگست 1947 ؁کوہندوستان کے آخری واسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن ، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح اور بلوچستان کے خان ،میر احمد یار خان ،کے ما بین دہلی میں ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت 11 اگست 1947کو خان بلوچ میر احمد یار خان نے بلوچستان کی آزادی کا اعلان میں کیا ۔ بلوچستان اسمبلی کے دونوں ایوانوں’’ایوان بالااور ایوان زیریں ‘‘نے آزادی کے حق میں متفقہ فیصلہ دیا۔اور مزید یہ کہ بلوچستان کے معاہدے شروع سے ہی ’’برٹش انڈیا ‘‘کی بجائے’’ تاج برطانیہ‘‘ سے تھے ۔اس کے باوجود 27اپریل 1948 کو پا کستانی فوج نے بلوچستان پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کیا۔گزشتہ 70 سال سے پاکستان نے بلو چستان کو اپنی کالونی بنایا ہوا ہے۔بلو چوں کی معاشی، سیاسی اور ثقافتی حقوق غصب کر کے ،انکے وسائل کا بیدریغ لوٹ مار کر کے انہیں پسماندگی کی اندھیروں میں دھکیل دیا گیا۔اس جبری قبضہ اور لوٹ مارسے ہر کوئی واقف ہے، کوئی حقیقت پسند اس سے انکار نہیں کر سکتا۔بلو چستان کی سٹریٹیجک اہمیت کا بار بار سودا کیا گیا۔اب چین سے 46 ارب ڈالر کے بدلے بلوچستان اوراس کے ساحل کو اسکے حوالے کیاگیا۔ پاکستان کے پنجابی حکمرانوں نے حقیقت میں چھوٹی قوموں کو ا پناغلام بنایا ہواہے ۔بلوچوں پر پانچویں فوجی اپریشن جاری ہے،سندھ کے اکثربڑے شہرکراچی، حیدرآباد،سکھر وغیرہ سندھیوں سے اسلام کے نام پرچھین کر انہیں صوبے میں اقلیت بنادیاگیا،پشتونوں پر گزشتہ 35 سال سے ایک نہ ختم ہونے والا جنگ مسلط کیا گیاہے جسکا فا ئدہ صرف اور صرف پنجاب اور اسکی فوج کو ہورہا ہے ۔اس سے قبل 1971 ؁ کے بنگلہ دیش کی جنگ آزادی میں 30 لاکھ بنگالی مسلمانوں کا قتل عام اور ایک لاکھ عورتوں کی آبروریزی اسی پنجابی فوج کا کار نامہ ہے۔اب ریاستی حکمرانوں نے بلو چوں کو بلو چستان میں اقلیت بنانے کا فیصلہ کر لیا ۔اس سے قبل وہ صوبائی ہیڈ کوارٹر کو ئیٹہ میں ایک منصوبہ کے تحت لاکھو ں افغان مہا جر آباد کر کے بلوچوں کو اقلیت بنا چکے ہیں۔حکمران چائینا پاکستان اکنامک کاریڈورجسے’’ چا ئنا پنجاب اکنامک کاری ڈورکہنامناسب ہے ‘‘کے نام سے گوادر اور سا حلی علاقوں میں پنجابی،بہاری ، پشتون اور چائینیزکی آباد کاری چاہتے ہیں تاکہ بلوچ بلوچستان کو اپنا کہہ بھی نہ سکیں ۔اس مٹانے کے عمل کو ترقی کا نام دیا جا رہاہے۔ بلوچوں نے غلامی کبھی تسلیم نہیں کی۔آزادی کی جنگ بلوچوں کے لیئے ایک مقدس جنگ ہے۔ یہ انکی قومی بقاوطن اور وسائل کے حفاظت کی جنگ ہے ۔انہیں معلوم ہے یہ انکی اپنی جنگ ہے،انہیں خود اسکی تیاری کر نی ہے، اسے لڑ نا اور جیت ناہے۔ آج بلوچ عظیم قر با نیاں دے رہے ہیں ۔ ریاستی تشدد کے مراکز میں ہزاروں گم شدہ بلوچ سڑرہے ہیں،ہزاروں نے جام شہادت نوش کی ۔مسخ شدہ لاشیں گرنے اور اجتمائی قبروں کا ملنا ایک معمول بن گیا ہے۔لیکن افسوس اس ظلم کے باوجود اقوام متحدہ ، آزاد دنیااور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر حانی بلوچ

مزید خبریں اسی بارے میں

Close