بلوچ سیاسی رہنما نوابزادہ حیربیار مری بھی چینی قونصلیٹ حملے کے سہولت کاروں میں نامزد

کراچی (ریپبلکن نیوز) چینی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے کا مقدمہ ایس ایچ او تھانہ بوٹ بیسن کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے جس میں آٹھ سے دس افراد کو سہولت کار نامزد کیا گیا ہے۔

کاؤنٹر ٹیرازم ڈیپارٹمنٹ میں مقدمہ الزام نمبر 153/2018 سرکار کی مدعیت می درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں انسداد دہشتگردی، بارودی مواد، قتل، اقدام قتل سمیت دیگردفعات شامل کی گئیں ہیں۔

ایف آئی آر کے متن میں درج ہے کہ آزل، رازق اور رئیس بلوچ کا تعلق بلوچ لیبریشن آرمی سے تھا۔ ہلاک حملہ آور رازق کا تعلق خاران سے ہے۔

مقدمے میں حملہ آوروں کے 13 سہولت کاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے جن میں پہلا نام  بلوچ رہنما نوابزادہ حربیار مری کا ہے۔

قونصلیٹ حملے کے سہولت کاروں میں اسلم ، نوربخش مینگل، کریم مری، کمانڈر نثار، کمانڈر شریف، آغا شیر دل، کمانڈر گیندی، کمانڈر گیندو، کہٹن رحمان گل، کمانڈر حمل، میرک بلوچ، بشیر زیب اور کمانڈر منشی  شامل ہیں۔

ایف آئی آر کے متن میں درج ہے کہ حملہ آور مفرور ملزمان سے رابطے میں تھے۔

یاد رہے کہ نوابزادہ حیربیار مری گزشتہ کئی سالوں سے لندن میں رہائش پزیر ہیں اور وہ فری بلوچستان مومنٹ نامی ایک سیاسی پارٹی کے سربرہ ہے ۔

معاضی میں نوابزادہ حیربیار مری ریاست کی جانب سے اس طرح کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں ان کا ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے کہ وہ سیاسی طور پر بلوچستان کی آزادی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں

مزید خبریں اسی بارے میں

Close