قطر کی جانب سے سرمایہ کاری کے اثاثے فروخت کرنے کا سلسلہ جاری

نیوزڈیسک(ریپبلکن نیوز) انسداد دہشت گردی کی بنیاد پر چار عرب ممالک کی جانب سے کیے جانے والے بائیکاٹ کے نتیجے میں قطر کی معیشت کو پہنچنے والے عظیم نقصان کا حجم روز بروز سامنے آتا جا رہا ہے۔ بلوم برگ نیوز ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی نے لندن میں اپنی ملکیت میں موجود ایک عمارت کو فروخت کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ یہ عمارت اس وقت "کریڈٹ سوئس” گروپ کے پاس کرائے پر ہے۔

بلوم برگ کا کہنا ہے کہ "قطر کے زیر انتظام سویئرن ویلتھ فنڈ نے دو تجارتی وساطت کاروں کا تقرر کیا ہے تا کہ اس عمارت کو 45 کروڑ پاؤنڈ یعنی 61 کروڑ ڈالر کی ابتدائی قیمت میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے”۔

سعودی روزنامے الاقتصادیہ کے مطابق قطری سویئرن فنڈ Tiffany & Co کمپنی میں اپنے حصص کا 40 فی صد حصہ 41.7 کروڑ ڈالر میں فروخت کر چکا ہے۔ تقریبا 44 لاکھ حصص کو 94.4 سے 94.75 ڈالر فی کس کے نرخ سے مورگن اینڈ اسٹینلے بینک کے ذریعے فروخت کیا گیا۔

موڈیز کے مطابق خلیجی بحران کے آغاز کے بعد ابتدائی 60 دنوں میں قطری سویئرن فنڈ ملک کی معیشت بالخصوص مالیاتی نظام کو سہارا دینے کے لیے اب تک اپنے 340 ارب ڈالر کے ذخائر میں سے 40 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔

اس سے قبل قطری فنڈ کریڈٹ سوئس بینک میں اپنے 5.01 فی صد حصّے کو کم کر کے 4.94 فی صد تک لا چکا ہے۔

گروپ چار ممالک کے بائیکاٹ نے قطر کو اس بات پر بھی مجبور کر دیا کہ وہ لیگزمبرگ انٹرنیشنل بینک میں اپنے 90% حصص کو فروخت کر دے۔ بینک میں قطری حکم راں خاندان کے سرماریہ کاری ونگ کو چین کی کمپنی لینجنڈ ہولڈنگز نے 1.48 ارب یورو یعنی 1.76 ارب ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ کیا۔

اس کے علاوہ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی اور سوئس کمپنی گلینکور کے اتحاد نے چین کی ایک شمسی توانائی کی کمپنی سیوک کے ساتھ ایک معاہدہ دستخط کیا جس کے تحت روسی حکومت کی ملکیت میں موجود کمپنی روزوینٹ میں اس اتحاد کے 14.16 حصص کو فروخت کیا جائے گا۔

اس سمجھوتے پر عمل ہونے کے بعد مذکورہ اتحاد کا روسی کمپنی میں حصّہ 5.2 فی صد رہ جائے گا جس میں 0.5 فی صد گلینکور کمپنی کا اور 4.7 فی صد قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کا ہو گا۔

بین الاقوامی ماہرین یہ باور کرا چکے ہیں کہ قطری انویسٹمنٹ اتھارٹی کی سرمایہ کارانہ کارکردگی میں موجود خلل قطر کی معیشت کی بحیثیت مجموعی کارکردگی کے خلل سے مختلف نہیں ہے۔ عالمی منڈی میں گیس کی فروخت سے حاصل مالی منافع کی سرمایہ کاری کی منطق کے حوالے سے قطر کی حکمت عملی وہ ہی ہے جو انویسٹمنٹ اتھارٹی کے قیام سے قبل تھی۔
یہ
سال 2005 میں قطری انویسٹمنٹ اتھارٹی کے قیام کے بعد توقع تھی کہ بوکھلاہٹ اور غیر واضح ویژن کی صورت حال پر قابو پا لیا جائے گا تاہم ابھی تک ایسا نہ ہو سکا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close