کیا سچ چیخیں بھی نکال دیتی ہے؟ (تحریر: میر بگٹی)

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) سچ کڑوا ہوتا ہے, سچ کا کوئی ساتھی نہیں ہوتا اور سچ تنہاء رہتا رہا ہے وغیرہ وغیرہ میں نے کافی کتابوں رسالوں اور بہت بڑے بڑے دانشوروں اور بزرگوں کی زبانی سچ کے بارے میں بہت ساری کہانیاں سنی اور پڑھی ہیں۔

مگر میں نے اس سے پہلے سچ کے بارے میں یہ نہ کسی کتاب نہ کسی اخبار نہ ہی کسی رسالے میں پڑھا اور نہ کسی دانشور نہ کسی بزرگ شخص کے زبانی سنا ہے۔ مگر آج اپنی گناہ گار آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا بھی۔ مگر میں یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ پہلے آپ کو سچ سے چیخنے چلانے والے کی کہانی سناؤں یا پھر سچ کی؟
یا پھر اس عظیم انسان کا ذکر کروں جن کے مہان کارناموں اور سچائی نے کتنے اپنوں کی کتنے دشمنوں کی کہاں کہاں اور کیسی کیسی چیخیں نکال دی ہیں۔

میرے اپنے سوچ کے مطابق چیخیں نکال دینے والی سچ اور اس بہادر اور عظیم انسان دونوں کا ایک ساتھ تذکرہ کروں اور شاید آپ بھی میرے اس سوچ سے متفق ہوں۔ مگر یہ ضروری نہیں۔ جناب میں ان دونوں ہستیوں کا ایک ساتھ ذکر کرنا لازم و ملزوم سمجھتا ہوں ۔ ذکر اس عظیم حستی کا جس نے اپنے بلوچ نوجوان کارکنوں کے ساتھ ملکر اس سچ کو عملی جامہ پہنایا اور جس سے دشمنِ وطن کی چیخیں نکل گئی۔ اور کچھ قومی غداروں نے بھی بدحواسی میں آہ و پکار مچانا شروع کر دیا۔

جی ہاں وہ حستی بلوچ قوم و سرزمین کی آزادی کے قائد نواب براہمدغ خان بگٹی بلوچ ہی ہیں۔
رہبرِ آزادی نواب براہمدغ خان بگٹی بلوچ نے جس محنت اور لگن سے دن رات ایک کر کے بلوچ قوم و سرزمین کی آزادی کے لیے انتھک محنت و لگن اور نہایت ہی مخلصانہ اور ایماندارانہ کام کیا کہ جسکی بدولت آج پوری دنیا ان کے بہادری سچائی اور قائدانہ صلاحیتوں کا تائید کرنے پر مجبور ہے۔

اور بلوچ قومی لیڈر نواب براہمدغ خان بگٹی بلوچ کے یہی قائدانہ صلاحیتوں اور انتھک محنت نے آج اس سچ کو پروان چڑھایا جس سے بلوچ قوم و وطن کے دشمنوں کی چیخیں نکلنا شروع ہوگئی ہیں۔
اسی سچ کی وجہ سے آج پوراپاکستان اور اس کے فوجی و نام نہاد سول ادارے, سیاسی و غیر سیاسی پارٹیاں, خفیہ ایجنسیاں , اسٹیبلشمنٹ , سیاسی و غیر سیاسی رہنماء , قومی اسمبلی, سفارتخانوں, سینٹ ,الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا , سوشل میڈیا کے کارکن بلکہ پاکستان کا بچہ بچہ آج اس سچ کی وجہ سے چیخ و پکار میں مبتلا ہے۔
شاید آپ یہ ضرور سوچ رہے ہونگے کہ یہ چیخیں نکال دینے والی سچ کی کہانی مجھے کہاں سے ہاتھ لگی۔ تو لیجئے سُنیئے ۔بھلا ہو اس سوشل میڈیا اور خاصکر فیس بک والوں کا فیس بک پر ایک ٹیوی رپورٹ کی ویڈیو دیکھنے کو ملا اسےجس پاکستان کی نمبر ون کہلانے والے دنیا نیوز چینل کے نامور نیوز ہینکر کامران جی کو بے دردی سے چیختے چلاتے سنا۔ وہ اس قدر بدحواسی میں ایسی ایسی باتیں کہے جا رہے تھے کہ شاید بعد میں اپنے پروگرام کا ری پلے دیکھ کر خود ہی شرمندہ ہو جائیں۔

کامران صاحب سوئس شہر میں بی آر پی کے زیر اہتمام بلوچ قومی رہنماء نواب براہمدغ خان بگٹی بلوچ کے قیادت میں یہ بلوچستان کی آزادی کے لگے ان پوسٹروں اور بینرز کا ناطہ ناحق بی ایل اے کے نام سے منسوب کیے جا رہے تھے۔ تو کبھی بھارت کو دوشی ٹھرا رہے تھے تو کبھی سوئس حکومت کو گناہ گار قرار دینے میں مصروف تھا۔

کیا بتاؤں, اسی پروگرام نا جانیں کتنے پاکستانیوں کی چیختے چلاتے انٹریو سنے اور دیکھے, بڑی زور زور سے کامران صاحب کے اس آہ و پکار نے دل خوش کر دیا, جب آپ خود دیکھ اور سُن لینگے , ان بے بس اور مجبور پاکستانیوں کی آہ و پکار اور چیخیں۔
تو میرے اس سوال کا جواب خود بخود آپ قارئین کے سامنے آ جائے گا. ( کیا سچ چیخیں بھی نکال دیتی ہے ؟ )

نوٹ: ریپبلکن نیوزنیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید خبریں اسی بارے میں

Close