شہید شکراللہ اور شہید باری نے مٹی کا حق ادا کیا

کوئٹہ/مضمون(ریپبلکن نیوز) بلوچستان کی تاریخ ایسے وطن پرستوں اور جانبازوں سے بری پڑی ہے، جنہوں نے بلوچ ننگ و ناموس اور قومی بقا کے لیے اپنی قیمتی جانیں قربان کیں، ان میں دو نام شہید شکراللہ جان اور شہید باری جان کا بھی آتا ہے، جنہوں نے بلوچ گلزمین کی دفاع میں پنجابی فوج کے ساتھ لڑھتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔

بلوچ گلزمین نے ہمیشہ ایسے جانباز فرزند پیدا کیے جنہوں نے قابض قوتوں اور سامراجی طاقتوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرتے ہوئے قومی بقا کے خاطر سینہ تھان کر دشمن کا دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی قیمتی جانیں نچاور کیے ہیں۔

پنجابی قبضہ گیریت کے خلاف بلوچ قوم نے شروع دن سے ہی بغاوت کرتے ہوئے اپنی جداگانہ شناخت اور آزاد و خودمختار ریاست کے بحالی کے لیے جدوجہد کیں جو تسلسل کے ساتھ آج تک جاری ہے، جس میں قبضہ گیریت کے خاتمے کے لیے ہزاروں بلوچ فرزندوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیئے۔

موجودہ بلوچ قومی تحریک میں خاران سے عظیم بلوچ فرزندوں،  شہید ناصر ڈگارزئی، شہید عرفان، شہید ماجد، شہید اللہ رحم جان، شہید اسلم، شہید مقبول، شہید صابر، شہید زیبر، شہید باہ دوست محمد، شہید اکرم، شہید نثار، شہید نورالحق اور شہید اسلم کی طرح شہید باری اور شہید شکراللہ جان نے بھی مٹی کا حق ادا کیا۔

شہید باری اور شہید شکراللہ 20 جولائی 2018کو قابض پاکستانی فوج کے ساتھ بہادری سے لڑھتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے، انہوں نے پنجابی فوج کا بہادری سے مقابلہ کیا اور ریاستی فوج کے 6 اہلکاروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کیا اور دشمن کے بندوق سے نکلی گولیوں کو اپنے سینے میں سجاتے ہوئے دشمن کو نفسیاتی شکست میں مبتلہ کردیا۔

شہید باری ایک بہادر اور مخلص سرمچار و کمانڈر کی حیثیت سے اپنی زمہ داریاں نبھاتے رہےاور اپنے ساتھیوں کے نزدیک ایک موقف رکھنے والے وہ انتہائی سمجھدار دوست بھی تھے، انہوں نے عام لوگوں کے مال و جان کی حفاظت کے لیے بہت سے خدمات انجام دیئے۔

شہید باری خاران میں بلوچ ریپبلکن آرمی کا ایریا کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے، شہید سات سالوں سےتحریک سے وابستہ تھے، اور 2014 میں وہ باقاعدہ مسلح جدوجہد کا حصہ بنے۔شہید گوریلا جنگ میں بہترین مہارت رکھتے اور بہادری کے ساتھ ساتھ ہر معاز پر سب سے آگے رہتے ہوئے دیگر ساتھیوں کی رہنمائی کرتے۔ شہید کی بترین گوریلا حکمت عملی نے پنجابی فوج کی نیندیں حرام کر رکھی تھی۔

مزید مضامین:

منڈیلا کا ایک قول ہے کہ "ہمیشہ پیچھے سے رہنمائی کرو اور لوگوں کو یہ باور کراو کہ رہنما وہ ہیں

سامراجی ریاستیں اور مذہب 

اتحاد کس چڑیا کا نام ہے!

اسی طرح شہید شکراللہ بھی ایک انتہائی مخلص گوریلا سرمچار تھا، وہ انتہائی ہوشیاری کے ساتھ اپنے خدمات انجام دینے میں ماہر تھا، وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ میرا ضمیر مجھے آواز دیکر مخاطب کرتا ہے کہ تیرا قوم غلام ہے، بلوچ مادرِ وطن اور عظیم ماوں اور بہوں کی عزت دشمن روندھ رہی ہے اور مجھے اچانک ان شہدا کی خوشبو محسوس ہوتی ہے، وہ کہتے تھے کہ اسی سوچ اور فکر کی آواز نے مجھے لڑھنے پر مجبور کیا،اور آزادی کی چراغ کو اپنی آنکھوں سے شاید نہ دیکھ سکوں لیکن مجھے یقین ہے کہ میری آنے والی نسلیں سکون کا سانس لینگے۔

آج اسی سوچ، فکر اور نظریئےکی پکار نے شہید شکراللہ کو ان لوگوں کی فہرست میں شامل کردیا جن کا نام رہتی دنیا تک قائم رہے گا، اور ہمیشہ سنہرے الفاظ میں انہیں یاد رکھا جائے گا۔

تحریر: زید بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close