مولوی احتشام الحق کو ریاستی اداروں اور ایف سی سے شدید خطرہ تھا۔ خصوصی رپورٹ

کوئٹہ:خصوصی رہورٹ (ریپبلکن نیوز) ضلع کیچ کے سابق امیر مولوی احتشام الحق اور ان کے بیٹے کے قتل کے حوالے سے زرائع نے ریپبلکن نیوز کو بتایا کہ کچھ دن قبل مند، تمپ اور ارد گرد کے تمام علما ء کو فرنٹیئر کور کے ایک کرنل نے ملاقات کیلئے اکٹھا کیا اور انہیں بلوچ تحریک اور حریت پسندوں کے خلاف متحرک ہونے کو کہا کیونکہ مزکورہ علاقوں میں کیچ کے دیگر علاقوں کی نسبت بلوچ سرمچاروں کے گرفت بہت مضبوط ہے۔ مذہب کو جواز بنا کر بلوچ علماء کو تحریک کے خلاف استعمال کرنے کے حربے سے مولوی احتشام الحق نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے انکا کردیا جبکہ ایف سی کرنل نے ملاقات میں شریک تمام ارکان کے سامنے مولوی احتشام الحق کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی۔ یاد رہے کہ مولوی احتشام اور مذہبی شدد پسند گرو لشکر خراسان کے کمانڈر ملا عمر ایرانی کے درمیان مذہبی معاملات پر کافی چپکلش پائی جاتی تھی اور ان کے درمیان اختلافات اس نہچ پر پہنچ چکے تھے کہ مذہبی شدد پسند ملا عمر نے احتشام الحق کو قتل کرنے کی بھی دھمکی دی تھی واضح رہے کہ تمپ کے علاقے کلاہو میں لشکر خراسان کا بہت بڑا نیٹ ورک موجود ہے اور علاقے میں ان کا بڑی حد تک اثر و رسوخ ہے۔ یاد رہے کہ عالم دین مولوی احتشام الحق کو تمپ کے علاقے کلاہو میں ان کے بیٹے شبیر احمد کے ساتھ نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کردیا۔ تاہم ان کے قتل کے اشارے ریاستی اداروں اور ان کے زیر اثر مذہبی شدد پسندوں کی طرف جاتے دیکھائی دیتے ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close