بی ایل ایف منفی پروپگنڈہ کے بجائے اپنی تنظیمی کاکردگی پر توجہ دیں، بی ایل ایف کیمپ ریاستی مخبروں کے آماج گاہ ہیں، سرباز بلوچ

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے بی ایل یف کی جانب سے بلوچ قومی تحریک کو طبقوں میں تقسیم کرنے کی ناکام کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی ایل ایف روز اول سے ہی بد قسمتی سے چند عناصر کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے جن کاسرزمین بلوچستان اور تحریک سے کوئی سروکار نظر نہیں آرہا ہے

بی ایل ایف کی غیرسنجیدہ اور  محدود سوچ رکھنے والی ناتجربہ کاروں نے بلوچ کو ایک قوم ابھی تک تسلیم نہیں کیا ہے بلکہ ان کی ہمشہ یہی کوشش رہی کہ بلوچ قوم کو دھڑوں اور کلاسوں میں تقسیم رکھیں تاکہ ان کی دکان چلتی رہے مگر ایسے چند مفاد پرستوں کے محدود سوچ کو قوم پر اثر انداز ہر گز نہیں ہونے دیا جائے گا۔  بلوچ ایک باشعور قوم ہے  اور آج کی مسلح مزاحمت باشعو رہنماوں اور نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے کوئی بھی گروہ اپنی چند ووقتی مفادات کی خاطر اس تحریک کا رخ اپنی خواہشات کے مطابق موڑ نہیں سکتا اگر کوئی ایسی احمقانہ سوچ رکھتا ہے تو وہ کسی بھی حوالے سے اس تحریک کا ہمدرد یا حصہ نہیں ہوسکتا بلکہ  سرمچاری کے آڑ میں دشمن کا کام سرانجام دے رہے ہیں  کیونکہ معاضی میں بی ایل ایف کے اندر موجود سرمچاروں نے بی آر اے سے منسلک بلوچ سرزمین کے پانچ سپاہوں کو شہید کیا۔ مگر ہم نے آپسی تصادم سے بچنے کیلئے بی ایل ایف کی قیادت سے میڈیا کے بجائے مناسب چینل سے رابطے رکھے مگر ان تمام حقائق کو اب قوم کے سامنے رکھنا ناگزیر ہے تاکہ بی ایل ایف کے اندر موجود ان عناصر کا حقیقی چہرہ قوم کے سامنے عیاں ہوسکے۔ 

ریاستی مخبر وحید تنظیم کے اہم رکن کے شہادت میں ملوث تھا جس کے ناقابل تردید ثبوت بی آر اے کے پاس موجود  ہیں وحید کی بی ایل ایف کے ساتھ وابستگی کے سبب ہم نے بی ایل ایف ریجنل کمانڈ سے مسلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی التجا کی جس پر مزکورہ تنظیم ریجنل کمانڈرنے ہمارے ساتھ پھر پور تعاون کیا مگر وحید بی آر اے کے سنئیر زمہ داروں کی اس شرافت اوروسیع النظری کا ناجائز فائدہ اٹھاتا رہا اور امان کے شہادت سے انکاری رہے اس کے باوجود ہم نے وسیع تر قومی مفادات کیلئے وحید کی گرفتاری یا قتل سے اجتناب کیا لیکن جب وحید ایک سابقہ سرمچار اور اپنے رشتہ دار حامد کے زریعے مند کیمپ میں سجدہ ریز ہوا تب تنظیم کے سرمچاروں نے اسے نشانہ بنایا ہم نے ہر قدم پر قومی مفادات کو بالاتر سمجھا۔

 یہان تک بی ایل ایف قیادت کے احکامات کی بجاآوری کرتے ہوئے بی ایل ایف بلیدہ کے سرمچار یونس توکلی نے بی آر اے کے دو ساتھیوں ایوب فقیر اور آصف داد محمد کو دھوکہ سے بُلا کر شہید کردیا ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انھوں نے بی ایل ایف کے اہم کمانڈر کو خود پرست اور بدمعاش قرار دیا تھا جو کہ سرمچاروں کی شہادت سے ثابت بھی ہوا مگر بھی بی ایل ایف کی قیادت کے بارہا رابطوں کے باوجود کسی بھی کاروائی سے گریز کیا۔

 جبکہ 2016 کو پروم میں منشیات فروشوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے  بی ایل ایف کے سرمچار ناصر سنجر نے تنظیم کے ساتھی رازق بلوچ کو شہید کیا اسی طرح 2016 کو راگے میں بی ایل ایف کے کمانڈر نیاز عرف داڈو نے ہمارے تنظیم کے علاقائی کمانڈر صابر کو محض اس بنیاد پر شہید کردیا تھا کہ صابر کا کیمپ کمانڈ میجر باسط ریاست کے سامنے سرینڈر ہوچکا ہے اور  شاید صابر بھی سرینڈر ہوجائے لہذا اس کو قتل کردیا جائے مگر ڈاڈو خود بلآخر ریاست کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا اپنے تمام دوستوں کے ناجائز قتل کے خلاف ہم نے احتجاج کرتے ہوئے کئی بار بی ایل ایف قیادت سے رابطہ کیا  اور قتل کے مجرموں سے تحقیقات اور انہیں سزا دینے کا مطالبہ کیا مگر بی ایل ایف کی قیادت  ٹال مٹول اور دروغ گوئی سے کام لیتا رہا پھر بھی بی آر اے کی قیادت نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا مگر بی ایل ایف قیادت بلوچ قومی تحریک کو سرداری و مڈل کلاس کے نام پر طبقوں میں تقسیم کرنے کی جو ناکام کوشش کررہا ہے وہ ایک شرم ناک عمل کے سوا کچھ نہیں اور اس کے نتائج بی ایل ایف کی  محدود سوچ سے زیادہ خطر ناک ثابت ہونگے۔ 

اسی طرح  تمپ کے علاقے آزیان سے پارٹی کے  حکیم نامی سنگت کو بی ایل ایف نے اٹھایا جب ہم نے مزکورہ تنظیم سے سنگت کے مجرم ہونے کے ثبوت مانگے تو بی ایل ایف نے سنگت کو شہید کر کے اس کی لاش پھینک دی۔ آج تک شہید حکیم کے حوالے سے نہ ہمیں کوئی ثبوت فراہم کیے گئے اور نہ ہی  حکیم شہید کے ان رشتہ داروں کو جو خود اسی تنظیم سے منسلک ہیں ۔ بی ایل ایف کی جانب سے ایسے جرائم کی فہرست طویل ہیں مگر ہم نے قومی مفادات کی خاطر ایسے معملات کو میڈیا کی زینت نہیں بنایا اور ہمیشہ بی ایل ایف سے مناسب چینل کے زریعے رابطے رکھے۔ 

بی ایل ایف کے گہرام کے مطابق مخبر وحید کے سرینڈر ہونے کے ثبوت نہیں تھے  اس بات سے بی ایل ایف اپنی صلاحتیوں کا اعتراف کررہی ہے کیونکہ بی ایل ایف کو ثبوت تب ملتے ہیں جبکہ ان کے سرمچار اپنے ہی ساتھیوں کو شہید کر کے کسی فوجی کیمپ میں ڈھیر ہوتے ہیں یا پھر بی آر اے کی دی گئی انٹیلی جنس معلومات پر  ان کے اپنے کیمپوں کے سرمچار بے نقاب ہوتے ہیں 

واضع رہے کہ گزشتہ سال ہوشاپ کے علاقے تل میں بی ایل ایف کے تین  سرمچار جو ہمارے دو  اہم سنگتوں  شہید  چنگیز اور شہید وشدل کو شہید کرنے میں ملوث تھے لیکن علاقائی کمان کو خبر تک نہیں تھا، مگر بی آر اے نےدونوں  مخبروں کو گرفتار کیا جنہوں نے اعتراف کیا کہ ان کو بی آر اے کے سنگتوں کو شہید کرنے میں بی ایل ایف کے دو ساتھیوں کی مدد حاصل تھی ہم نے تمام معلومات کو بی ایل ایف کے کمانڈر کے سامنے رکھا اور ان مخبروں نے خود بی ایل ایف کے کمانڈر کے سامنے بی ایل ایف کے صفحوں میں شامل مخبروں کی شناخت بی ایل ایف کے کمانڈر کے سامنے کیا  تب جاکر  بی ایل ایف کے کمانڈر نے اپنے غلطیوں کا اعتراف کیا۔ 

بی ایل ایف کی قیادت اور کمانڈر صاحبان جتنی توجہ منفی پروپگنڈہ اور قوم و قومی تحریک کو دھڑوں و کلاسوں میں تقسیم کرنے پر دیتے ہیں اگر اس کا دو فیصد بھی اپنی تنطیمی کارگردگی پر دیتے تو ان کے کیمپ آج ریاستی مخبروں کی آماجگاہ نہیں ہوتے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close