بی ایل ایف کے سرمچاروں نے ایک بے گناہ بلوچ کو دو لاکھ روپوں کے لیے شہید کردیا

 کوئٹہ/رپورٹ ( ریپبلکن نیوز) بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان کو بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم کے سرمچاروں نے پیسوں کے لیے اغوا بعد شہید کردیا۔

اس حوالے سے مختلف آزادی پسند کارکنان کی جانب سے مسلح تنظیموں کے سرمچاروں کے خلاف بندوق کے غلط استعمال کے شکایات پر ریپبلکن نیوز نے مختلف زرائع سے تحقیقات کی ہے  جس سے معلوم ہوا ہے کہ 17 مئی 2018 کو بلیدہ سے دومسلح موٹر سائیکل سوار سرمچاروں نے بازار سے اقبال بلوچ ولد صوفی ملنگ نامی ایک نوجوان کو اغوا کرنے کی کوشش کی مگر نوجوان نے تقرار کیا کہ میرا کوئی قصور ہے تو بتایا جائے ورنہ میں آپ لوگوں کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں، اسی دوران مسلح سرمچاروں نے فون کر کے اپنے مزید ساتھی بلا لیئے اور نوجوان کو زبردستی اٹھا کر لے گئے جبکہ 20 مئی کو اس کی لاش برآمد ہوئی۔

اقبال کو جب اٹھایا گیا تب اس کے جیب میں دو لاکھ روپے اور اس کے پاس ایک صرف گاڈی بھی تھی۔ زرائع کے مطابق یہی اقبال کے قتل کا سبب بنے۔ زرائع نے ریپبلکن نیوز کو بتایا کہ اقبال کو اٹھانے والے سرمچاروں کا تعلق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے گلی کیمپ سے تھا۔

اقبال کے خاندانی زرائع کا کہنا ہے کہ اقبال کو بلوچ سرمچاروں نے محض اس لیے اٹھایا کہ اس کےپاس کچھ نقد رقم اور ایک اچھی گاڈی تھی، خاندانی زرئع کا کہنا ہے کہ اقبال کے اغوا کے بعد انہوں  نے مسلح سرمچاروں سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم چھوڑ دینگے مگر دوسرے روز اس کی لاش سڑک کے کنارے پڑی ہوئی ملی اور اس کے جیب سے دو لاکھ روپے  غائب تھے جبکہ مسلح افراد گاڑی بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ تاہم اس کی گاڈی اگلے روز ویرانے میں ملی جو کہ راستے میں کیچڑ میں پھنسی ہوئی تھی جس کی وجہ سے انہیں راستے میں چھوڑنا پڑا۔

واضح رہے کہ اقبال بلوچ، بی آر اے کے شہید سرمچار ولی جان کے کزن تھے۔

مکران میں بلوچ سرمچاروں کے بارے میں ایسے واقعات کے بارے میں خبریں آتی رہتی ہیں مگر سرمچاروں کی چوری اور ڈکیتوں جیسی یہ تازہ کاروائی ان کے تنظیمی نظم و ضبط اور ان کے لیڈر شپ پر ہزاروں سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ آزادی کی جنگیں جیتے کے لیے ڈسپلن انتہائی اہم ہے اور نظم و ضبط کا فقداد انقلابی تنظیموں کو بھکیر دیتی ہے۔

میری والدہ کو میرے سامنے سرمچاروں نے گولیاں مار کر قتل کیا۔ فرزند جمیلہ بلوچ

بلوچستان بھر میں آزادی پسند مسلح تنظیموں کو بلوچ قومی حمایت حاصل ہے لیکن اس طرح کی کاروائیاں نہ صرف تحریکِ آزادی کے لیے نقصانده و زہر قاتل ثابت ہوسکتی ہیں بلکہ اس سے آزاد بلوچستان کے لیے جو تھوڑی بہت حمایت حاصل ہے وہ بھی ختم ہوسکتی ہے ۔

مکران میں بلوچ سرمچاروں کے بارے میں ایسے واقعات کے بارے میں خبریں آتی رہتی ہیں مگر سرمچاروں کی چوری اور ڈکیتوں جیسی یہ تازہ کاروائی ان کے تنظیمی نظم و ضبط اور ان کے لیڈر شپ پر ہزاروں سوالات کو جنم دیتے ہیں

 

کیونکہ دنیا بھر کے ادارے آزادی پسند مسلح تنظیموں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان و چین اپنی طرف سے تحریکِ آزادی کو پروکسی وار قرار دیتے ہوئے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور ایسے میں اگر بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے مزاحمتکار چند پیسوں کے حوض لوگوں کو اغوا و قتل کرنے لگ جائیں تو پاکستانی ریاست کو اسے خانہ جنگی قرار دینے و اس کے خلاف بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرنے کا جواز فرائم ہوجائے گا۔

لاشیں اٹھانے سے بہتر ہے آواز اٹھایا جائے۔ جلیلہ حیدر 

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کیچ کے رہائشی شخص نے ریپبلکن نیوز کو بتایا کہ اپنے ہی بے گناہ لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال سے مسلح تنظیموں کی قومی حمایت ختم ہوسکتی ہے، کیونکہ بلوچ قومی تحریک ان تنظیموں سے امیدیں لگائے بیٹھی ہے اور ان تنظیموں سے منسلک ہزاروں لوگوں نے اپنے آج کو بلوچ قوم کے کل کے لیے قربان کردیا ہے اور ہزاروں فرزند دشمن کے ٹارچر سیلوں میں پابند سلاسل ہیں اور ایسے میں اگر یہی تنظیمیں اپنے ہی حمایتیوں کو پیسوں کے لیے قتل کریں تو اسے شہیدوں کے خون سے غداری اور اصل مقصد سے ہٹ جانا تصور کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close