مشکے سے خواتین اور بچوں کی جبری گمشدگی انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ بی ایچ آر او

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں .بلوچستان کے علاقے کیچ کے علاقے تمپ میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے علاقے کو گھیرے میں لے کر آمدورفت کے راستوں کو بند کرکے آپریشن کا آغاز کردیا ہے جس میں سیکورٹی فورسز کو فضائی کمک بھی حاصل ہے۔ مواصلاتی نظام کے جام ہونے کی وجہ سے معلومات تک رسائی نہیں مل سکی جبکہ بلوچستان کے علاقے کوہستان مری میں سیکورٹی فورسز کی بھاری تعداد نے زمینی و فضائی آپریشن کرکے لوگوں کو محصور ہونے پر مجبور کردیا ہے۔کوہستان مری کے مختلف علاقوں میں جاری آپریشن کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے

ترجمان نے مزید کہا کہ ۲۲ مارچ کو مشکے کے علاقے گجلی میں سیکورٹی فورسز نے آپریشن کرکے گل شیر ولد رحمت کی اہلیہ نوری اور بہن جان بی بی کو نواسیوں سمیت اٹھا کر لاپتہ کردیا اور گھر سے مال و مویشی سمیت دیگر سامان اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔بلوچستان کے مختلف علاقوں سے خواتین کو اٹھانے کا جو سلسلہ شروع کیا گیا اس میں شدت لائی گئی ہیں اس سے قبل گزشستہ سال جولائی کے مہینے میں ملٹری آپریشن کے دوران مشکے سے نور ملک کو دو بیٹیوں حسینہ اور ثمینہ سمیت اٹھا کر لاپتہ کردیا جن کا تاحال کچھ پتہ نہیں۔

بلوچستان میں فوجی آپریشن اور جبری گمشدگی میں اضافہ تشویشناک عمل ہے جس پر اقوام عالم کو آواز اٹھانی چاہئے۔خاران سے۲۲ مارچ کو اشفاق ولد سہراب خان کو اٹھا کر لاپتہ کردیا گیا جبکہ ۱۹ مارچ کو بالگتر سے تین بلوچوں نیک سال ولد میران،گلاب ولد کریم بخش اور ظہور ولد سوبان کو اٹھا کر لاپتہ کردیا گیا جن کا کچھ پتہ نہیں جبکہ مند کے علاقے سے  بلوچی زبان کے ادیب وقلمکار شکیل آدم کے گھر پر چھاپہ مار کر توڑ پھوڑ کی اور قیمتی سامان کے علاوہ خواتین و بچوں سے تفتیش کے بعد انکے موبائل فون اپنے ساتھ لے گئے۔ اس سے قبل ۵ مارچ کو تربت سے بھی بلوچ ادیب نظر محمد کو بھی لاپتہ کردیا گیا۔

ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن، جبری گمشدگی اور مسخ شدہ لاشوں کی بر آمدگی میں اضافہ تشویشناک اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس پر ملکی اداروں سمیت عالمی اداروں کو انسانی بنیاد پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سےجنم لینے والے انسانی بحران کو ختم کیا جاسکے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button