نیشنل پارٹی کی بلوچ کش پالیسیاں ناکافی، ریاستی اداروں کا نئی پارٹی بنانے کا فیصلہ

نیشنل پارٹی گزشتہ کئی سالوں سے پنجابی ریاست کا وفادار رہی ہے

کوئٹہ/رپورٹ(ریپبلکن نیوز) نیشنل پارٹی کی بلوچ نسل کش پالیسیاں اور پنجابی ریاست کے لیے وفاداریاں ناکافی، بلوچستان کے کٹ پتلی وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے اپنی پارٹی بنانے کا اعلان کردیا۔

بلوچستان میں گزشتہ ایک دہائی سے زاہد عرصے سے جاری خونی فوجی آپریشن میں پنجابی ریاست کے مسلح افواج ، خفیہ اداروں اور ڈیتھ اسکواڈز نے اب تک ہزاروں بلوچ فرزندوں کو شہید کیا ہے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندان قابض ملک کے مختلف ٹارچر سیلوں میں سالوں سے اذیتوں سے گزر رہے ہیں۔

بلوچستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے اس خونی فوجی آپریشن میں جہاں پنجابی فوج بلوچوں پر مظالم ڈھا رہی ہے وہی چند مقامی موقعہ پرستوں، پیٹ پرستوں اور مراعات پرستوں نے ریاستی اداروں کے مظالم میں شراکت داری کرتے ہوئے بلوچ نسل کشی میں پنجابی ریاستی اداروں کا ساتھ دیا۔

مزید رپورٹس:

لیاری آپریشن، گینگ وار اور بلوچ نسل کشی

بلوچ لیڈرشپ سے رابطوں کا بیجنگ حکومت کے دعوے میں کتنی سچائی ہے! 

جرمنی میں ورلڈ سیکیورٹی کانفرنس میں پاکستان کی شرکت سوالیہ نشان ہے

بلوچستان کی پارلیمانی جماعتیں جن میں نیشنل پارٹی سرِ فہرست ہے نے بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن میں پنجابی ریاست کا ساتھ دیتے ہوئے بھرپور غلامی کا مظاہرہ کیا جس کے عوض ڈائی سال کے لیے ان کی جماعت کے رہنما کو بلوچستان کے وزیرِ اعلی کے منصب پر بھی فائز کیا گیا۔ اپنے اس ڈائی سالہ دور میں نیشنل پارٹی نے اپنی تمام تر حدیں پار کرتے ہوئے پنجابی ریاست کے تمام تر جرائم پر پردہ ڈالتے ہوئے بلوچوں کی نسل میں ریاستی خفیہ اداروں اور مسلح افواج کے غیر انسانی اور دہشتگردانہ کاروائیوں میں بھرپور ساتھ دیا۔

لیکن اب لگتا ہے کہ پنجابی ریاست کو نیشنل پارٹی کی پرفارمنس کم لگنے لگی ہے اور چین پاکستان اکنامک کوریڈور جیسے استحصالی منصوبوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے انہیں بلوچستان میں اپنے مظالم مزید تیز کرنے ہیں۔ جس کے لیے ریاستی اداروں کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو نیشنل پارٹی سے بھی زیادہ پنجابی ریاست کا وفادار رہتے ہوئے بلوچوں کی نسل کشی میں ان کا مکمل ساتھ دیں۔

بلوچستان میں یوں تو فوج اور خفیہ اداروں کی حکمرانی ہے اس بات سے تقریبا تمام لوگ اتفاق کرتے ہیں، لیکن حالیہ کچھ دنوں سے بلوچستان کی نام نہاد پارلیمانی سیاست میں کچھ ایسے اشارے مل رہے ہیں جس سے لگتا ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارے اب کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ گزشتہ دنوں نام نہاد سینیٹ کے انتخابات خفیہ اداروں کی جانب سے پارلیمانی سیاستدانوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا ، کہ پنجابی ریاست جب چاہے ، جسے چاہے کسی بھی عہدے پر فائز کرسکتی ہے۔

سینیٹ انتخابات کے بعد اب ریاستی اداروں نے ایک نئی جماعت بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کا اعلان گزشتہ دن بلوچستان کے کٹ پتلی وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے کردیا ہے۔ اس اعلان کے بعد یہ بات یقینی ہوگئی ہے کہ یہ جماعت بلوچوں کی نسل کشی میں نیشنل پارٹی سے بھی زیادہ فعال کردار ادا کریگی۔ کیونکہ سرفراز بگٹی، عبدالقدوس بزنجوں جیسے لوگوں کی رہنمائی میں سیاسی جماعت نہیں بلکہ ڈیتھ اسکواڈز ہی بن سکتے ہیں۔

ریاستی اداروں کی اس جماعت کے بننے کے بعد بلوچستان میں  جاری خونریزی مزید بڑے گی اور بلوچستان کے حالات مزید خرابی کی طرف جائے گے۔ کیونکہ یہ جماعت نیشنل پارٹی سے بھی زیادہ پنجابی کا وفادار رہے گااور قابض ملک کے جنگی جرائم پر پردہ ڈالتے ہوئے ان کے ہر بُرے کاموں میں انکا ساتھ دینے سے نہیں کترائے گا۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close