بلوچ ریپبلکن پارٹی نے جنیوا میں پارٹی کے سرگرمیوں کی تفصیلات جاری کردی

کوہٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے جنیوا میں پارٹی کے سرگرمیوں کی تفصیلات بتانے ہوئے کہا ہے کہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے متعلق 34 ویں اجلاس کے دوران بی آر پی کی جانب سے 6 مارچ سے 23 مارچ تک آگاہی مہم جاری رہا۔ اجلاس میں دنیا بھر کے مظلوم و محکوم قوموں سمیت اقوام متحدہ کے تمام ممبران ممالک کے نمائندگان نے شرکت کی اور اسی دوران بی آر پی کی جانب سے بلوچستان میں جاری پاکستانی مظالم کے خلاف ایک مہم کا آغاز کیا گیا جسکا مقصد دنیا کے سامنے پاکستانی جنگی جرائم اور بلوچ قوم کی نسل کشی کے حوالے بی آر پی نے اپنے مہم کا باقائدہ آغاز 7 مارچ سے کیا جس کہ پہلے مرحلے میں بی آر پی کے رہنماوں اور کارکنوں نے اقوام متحدہ میں ایک آگاہی مہم چلائی جس میں لوگوں نے بلوچستان میں جاری مظالم بابت پمفلٹ تقسیم کیے گئے اور مختلف اقوام کے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی اور انہیں بلوچستان کے صورتحال بابت آگاہی دی گئی. بی آر پی کے کارکنوں کی جانب سے پمفلٹنگ کا سلسلہ مسلسل پانچ دنوں تک جاری رہا. دوران پمفلٹنگ مختلف اقوام اور ریاستوں کے نمائندوں سے بلوچستان کے بدترین صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور اکثر لوگوں کی جانب سے پاکستانی بربریت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی. بی آر پی کے کارکنان نے 8 مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر جنیوا کے شعر میں ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں کارکنوں اور ہمدردوں کی کافی تعداد نے شرکت کی جبکہ ریلی کی قیادت قوم پرست رہنما اور بی آر پی کے قائد نواب براہمدغ بگٹی نے کی. ریلی کا مقصد بلوچستان میں پاکستان کے ہاتھوں اغواء شدہ اور قتل کیےگئے بلوچ خواتین کے بابت عالمی دنیا کو آگاہی دینا تھی. دوران ریلی بی آر پی کے کارکنان نے بلوچ خواتین کے اغواء اور قتل، اقوام متحدہ کی خاموشی، بلوچستان میں پاکستانی بربریت اور سی پیک کیخلاف بھرپور نعرہ بازی کی اور لوگوں میں پمفلٹ تقسیم کرکے انہیں بلوچستان کے موجودہ صورتحال بابت آگاہی دی. اس ریلی میں بی آر پی کے قائد اور بلوچ رہنماء نواب براہمدغ بگٹی نے کارکنان سمیت شرکت کی. ۱۰ مارچ کو بی آر پی کے ہیومن رائٹس ونگ کے ممبر حکیم واڈیلہ بلوچ اقوام متحدہ اجلاس کے دوران اپنا بیان پڑھ کر سنایا جس میں بلوچستان میں پاکستانی مظالم، بلوچ خواتین اور بچوں پر پاکستانی وحشی فوج کی دردندگی کو دنیا کے سامنے آشکار کیا اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کے خصوصی مشن سے بلوچستان کے نازک حالات کو پرکھنے اور سمجھنے کیلیۓ ایک خصوصی ٹیم کی بلوچستان روانگی کا مطالبہ کیا. بعدازاں بی آر پی کے جانب سے اقوام متحدہ میں سائڈ ایونٹ کا انعقاد کیا گیا. جس میں بی آر پی کے مستقل نمائده برائے اقوام متحدہ عبدل نواز بگٹی امریکن فرینڈز آف بلوچستان کے صدر احمر مستی خان اور بی آر پی کے کارکن حکیم واڈیلہ سمیت افریقہ کے دو رہنماؤں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور بلوچستان میں جاری مظالم بابت سائڈ ایونٹ کے شرکاہ کو اگاہی دی. سی پیک کے بلوچستان پر منفی اثرات اور بلوچستان میں ترقی کے نام پر جاری بلوچ نسل کُشی پر تفصیلی بیانات پیش کیے گئے. بعد ازاں سوال جواب کے سیشن میں ایم کیو ایم کے رہنماوں نے کمنٹ کرتے ہوئے بلوچستان میں پاکستانی فوج کی جانب سے جاری دہشتگردی کی مذمت کی اور کہا کہ بلوچوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مرضی سے اپنی زندگی آزاد طریقے سے گزار سکیں. کشمیری رہنماء شوکت علی کشمیری نے بلوچ جہد آزادی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی آرمی کی بربریت کو روکنا عالمی دنیا کی اولین ترجیح ہوناچاہئے. بعد ازاں بی آر پی کے تمام کارکنان اور مرکزی ممبران نے نواب براہمدغ بگٹی سے ملاقات کی نواب براہمدغ بگٹی نے دوران ملاقات کارکنان کے محنت کو سراہتے ہوے کہا کہ ہمیں اسی طرح محنت اور لگن سے بلوچ قومی آزادی کے جہد کو آگے بڑھانا ہوگا اور ایک مثالی کردار ادا کرکے اپنے لوگوں کو غلامی سے نجات دلا کر ایک آزاد ریاست کے مالک بنانے کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرناہوگا. اقوام متحدہ ۳۴ ویں اجلاس میں بی آرپی کے مستقل نمائندہ برائے اقوام متحدہ نے ۲۰ مارچ کو اپنے بیان میں بلوچ قوم پر جاری ظلم و جبر پر دنیا سے آواز اٹھانے کی درخواست کرتے ہوئے برادر اقوام سے کہا بلوچستان کے مسئلے پر بات کیجیۓ اس سے پہلے کہ بہت دیر یوجائے جبکہ اجلاس کے اختطامی خطاب میں بلوچ ریپبلکن پارٹی کے عبدل نواز بگٹی نے نام نہاد سی پیک حوالے سے اپنا بیان دینا چاہا تو پاکستان حکومت کے نمائندے نے انھہیں روکنے کی کوشش کی اور چین نے بھی پاکستان کے موقف کے حمایت کی جبکہ امریکہ، برطانیہ، ہالینڈ، ناروے اور کنیڈا کے نمائندگان نے پاکستان اور چین کے نقطہ اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے بی آر پی کے نمائندے کی حمایت کرتے ہوئے انھہیں اپنے بیان مکمل کرنے کی اجازت دی، عبدل نواز بگٹی کا اقوام متحدہ کے اجلاس میں اپنے بیان میں کہا ہے بظاہر پاکستان چائنہ کے ساتھ مل کر سی پیک کے نام پر بلوچ ترقی کی بات کرتا ہے لیکن یہ ہمارے لوگوں کیلئے موت اور تباہی ثابت ہورہا ہے جب سے سی پیک کا اعلان ہوا ہے ہزاروں بلوچوں کو سی پیک کے نام پر ان کے گھروں سے بے دخل کردیا گیا ہے بارہ ہزار آرمی اہلکاروں کو سی پیک کے روٹ پر تعینات کردیا گیا ہے جو سیکورٹی کے نام پر بلوچوں کا قتل عام کررہے ہیں اسی طرح ڈیرہ بگٹی میں پاکستان اور چائنہ لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر کے وہاں ڈیپ ویلنگ کررہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ سوئی سے 1950 سے گیس نکل رہی ہے لیکن اب تک مقامی لوگ اس سے محروم ہے بلکہ زندگی کے تمام سہولیات سے محروم ہے تو اب یہ کیسے ہماری لیئے فائدہ مند ہوگا، عبدل نواز بگٹی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر عظم اپنے حالیہ دورہ گوادر میں کہا تھا کہ سی پیک پاکستان کا ٹائیگر ہے میں ان کی بات سے اتفاق کرتا ہو کہ یہ ٹائیگر ہے اور ہمارے بچوں کو کھا رہا ہے ہم پر حملہ آور ہے اور ہمارے بچوں اور ماوں کو کھارہا ہے بی آر پی کے نمائندے نے دنیا سے اپیل کی کہ ہماری قوم کو اس ٹائیگر سے بچائیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker