نواب براہمدغ بگٹی ایک سوچ اور فکر کا نام ہے

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیو)  آج کافی عرصے بعد کچھ لکھنے کا خیال آیا، سوچتارہا ہوں کہ کیا لکھوں اور کس بلوچ ہیرو کے بارے میں لکھوں۔ کیونکہ سرزمینِِ بلوچستان کا ہر وہ بچہ میرے لیے ہیرو ہے جس نے اس سرزمین سے وفاداری کا حلف لیا ہے۔ بلوچ سرزمین کے ہزاروں شہیدوں کو سرخ سلام، اور ان ماوں کو سلام جنہوں نے اپنے فرزندوں کی وطن پر مر مٹنے کی پرورش کیں۔

بلوچ سرزمین میں ایک ایسی ماں بھی ہے جس نے اپنا بیٹا بلوچستان کے نام کیا ہے۔ اس بہادر ماں کا بیٹا ہر بلوچ کے ہیرو ہے اور اہلِ بلوچستان کے دلوں میں بستا ہے۔ اس ہیروں کا نام نواب براہمدغ بگٹی ہے۔

، 25 اکتوبر 1982 میں نوابزادہ ریحان اکبربگٹی کے گھر پیدا ہونے والے اس ہیرو نے اپنا زیادہ تر وقت اپنے داداشہیدِ وطن نواب اکبر بگٹی کے ساتھ گزارا۔

میں اپنی تحریر کا آغاز2005  سے کرتھا ہوں، جب ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی نے سرزمینِ بلوچستان کی وسائل اور بلوچ قوام پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کیا۔ نواب صاحب نے آزاد بلوچستان کا نعرہ لگایا تو اس کی آواز مکران سے کوہِ سلیمان تک گھونجنے لگی۔تو اس وقت حکومت پاکستان نے نواب صاحب کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیااور نواب صاحب نے اس فوجی آپریشن کے خلاف بھی جنگی محاز کا آعلان کرتے ہوۓ پہاڑوں کا رخ کیا۔

چند مہینوں بعد شہید نواب اکبر بگٹی ضعیف عمری میں بلوچ سرزمین، سائل اور وسائل کی دفاع میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔ نواب صاحب نے آخری ایام میں نوابزادہ براہمداغ بگٹی کو بگٹی قوام سے پورے بلوچ کا جانشین بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:

دشمن اپنے سازشی پروپیگنڈوں میں بہت حد تک کامیاب دکھائی دیتا ہے

بلوچ لیڈرشپ سے رابطوں کا بیجنگ حکومت کے دعوے میں کتنی سچائی ہے!

جرمنی میں ورلڈ سیکیورٹی کانفرنس میں پاکستان کی شرکت سوالیہ نشان ہے

نواب براہمداغ بگٹی نے اپنے دادا شہیدِ وطن کے بتاۓہوۓ راستوں کو اپناتے ہوئے بلوچ قوم اور سرزمین سے وفاداری کا حلف لیا ہے۔ انہوں نے ہر مشکل و کھٹن حالات کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے بلوچ قومی مسئلے کو ہر پلیٹ فارم پر اجاگر کرنے کی ہر ممکن کوششیں کیں ہیں۔

نواب اکبر خان بگٹی کو شہید کرنے کے بعد پاکستانی ریاست کا دوسرا اہم ہدف نواب براہمدغ بگٹی تھا۔ براہمدغ بگٹی اور شہید بالاچ مری نے مل کر ریاست کا بہاری سے مقابلہ کیا، نوابزادہ بالاچ مری کو ایک کاروائی میں ریاستی فورسز نے 21 نومبر2007 کو شہید کردیا۔ اور ریاستی مشینری نے ہر ممکن کوششیں کیں که بالاچ مری کے شہادت کا زمہ دار براہمدغ بگٹی کو ٹہرا کر ان کی عوامی حمایت کو ختم کیا جاسکے۔ لیکن اس میں بھی انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

اور براہمد غ بگٹی نے بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بیرون ملک کا رخ کیا۔ اور پیدل سفرکرتے ہوئے افغانستان کی جانب نکل پڑے۔ اس دوران براہمدغ بگٹی پر متعدد حملے کیے گئے اور نواب صاحب کے بہت سے قریبی دوست بھی شہید ہوئے۔ لیکن انہوں نے بہادری سے تمام تر صورتِ حال کا مقابلہ کیا۔ اور بالاخر وہ کئی ہفتوں کی پیدل سفر کے بعد افغانستان پہنچے جہاں انہوں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد بلوچ ریپبلکن پارٹی ک یبناد رکھی۔ افغانستان میں بھی براہمدغ بگٹی پر متعدد بار حملوں کی کوشیں کیں گئیں لیکن ناکام رہے۔ بلوچستان کے مسئلے کو عالمی سطح پر بہتر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے براہمدغ بگٹی سوئٹزرلینڈ منتقل ہوگئے اور تب سے وہاں بڑے پیمانے پر بلوچستان کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بہت کم عمر میں نواب براہمدغ بگٹی نے بہت زیادہ نام کمایا، کیونکہ انہوں نے بلوچستان کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرتے ہوئے بلوچ سرزمین کی دفاع کیا۔ آج بلوچستان کا بچہ بچہ براہمدغ بگٹی کی سوچ اور فکر کے لیے اپنے جانوں تک قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تحریر: شعیب بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوزنیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close