پی آئی اے نے 200مسافروں کی زندگی داؤ پر لگادی

اسلام آباد(ریپبلکن نیوز) پی آئی اے کی ایک اور باکمال سروس نے صرف دس فیصد کام کرنے والے انجن کے ساتھ 200 مسافروں کی زندگی داؤ پر لگا دی۔ ٹوکیو ائیرپورٹ حکام نے طیارے کو گراؤنڈ کر کے ورکشاپ بھیجوا دیا، جہاز کے عملے اور پی آئی اے حکام کی سخت سرزنش کی گئی کہ 200 مسافروں کے ساتھ ساتھ جاپانی شہریوں کی زندگی بھی کیوں داؤ پر لگائی گئی۔ پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 853 گزشتہ روز ٹوکیو پہنچی تھی اور وہاں سے جمعہ کو 200 مسافروں کو لے کر واپس لاہور روانہ ہونے والی تھی، فلائٹ جب واپسی کے لئے تیار ہوئی تو جاپان کے فلائٹ امیگریشن حکام جہاز کے معائنے کے دوران اس وقت سر پکڑ کر بیٹھ گئے جب انہیں معلوم ہوا ہے کہ اس جہاز کا انجن صرف دس فیصد کام کر رہا ہے، فلائٹ آپریشن جاپان کے عملے نے فوری طور پر اعلیٰ اتھارٹی کو آگاہ کیا جس کے بعد جہاز کے عملے سے پوچھ گچھ کی گئی کہ لاہور سے پرواز کرتے وقت طیارے کو چیک کیوں نہیں کیا گیا؟ 200 پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ جاپان کے شہریوں کی زندگی بھی کیوں داؤ پر لگائی گئی، جاپان کے حکام نے اس حوالے سے پی آئی اے کے اعلیٰ عہدیداروں سے بھی بات کی کہ لوگوں کی جانوں سے کھیلنے کا یہ کھیل کون کھیل رہا ہے؟ جاپان کے فلائٹ آپریشن حکام نے فوری طور پر جہاز کو گراؤنڈ کر کے ورکشاپ بھیجوا دیا اور پی آئی اے کے اعلیٰ حکام اور جہاز کے عملے کو آگاہ کر دیا گیا کہ جہاز کی مکمل مرمت تک طیارہ روانہ نہیں ہو گا، اس طرح پی آئی اے کی ہمیشہ کی طرح غفلت سے بھرپور لاجواب سروس ایک اور بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی۔ اس حوالے سے پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جہاز میں ٹیکنیکل خرابی ہوئی، یہ بات درست نہیں کہ جہاز کا انجن دس فیصد کام کر رہا تھا، اگر ایسا ہوتا تو پائلٹ پرواز کے لئے تیار ہی نہ ہوتا البتہ جہاز کی مرمت کا کام اس وقت جاری ہے اور ہم نے تمام مسافروں کو ٹوکیو میں ہوٹل کی سہولت فراہم کر دی ہے جوں ہی جہاز ٹھیک ہو گا تو مسافروں کو لے کر لاہور کے لئے روانہ ہو جائے گا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close