نواب براہمدغ بگٹی کےسیاسی پناہ کی درخواست رد ہونے پر سماجی و سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر

کوئٹہ/رپورٹ (ریپبلکن نیوز) بلوچ ریپبلکن پارٹی کے صدر اور آزادی پسند بلوچ قومی رہنماء نواب براہمدغ بگٹی کے سیاسی پناہ کی درخواست سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے رد کردی ہے۔ اس خبر کے فوراً بعد پاکستانی میڈیا، حکمران اور عسکری قوتیں خوشی سے پھولےنہیں سما رہے۔

نواب براہمدغ بگٹی گزشتہ ساتھ سالوں سے سوئٹزرلینڈ کی پناہ میں ہیں لیکن ایک لمبہ عرصہ گزرجانے کے باوجود انکی سیاسی پناہ کی درخواست قبول نہیں کی گئی ہے۔ بلکہ آج براہمدغ بگٹی کے ٹویٹر پر جاری پیغامات نے سوئس حکومت کی جمہوری اقدار اور اصولوں کی پاسداری کا پول کھول دیا۔

سوئس حکام کا کہنا ہے کہ نواب براہمدغ بگٹی بلوچ مسلح تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا سربراہ ہے جبکہ اس بات کی وضاحت نواب صاحب خود کئی بار کر چکے ہیں کہ انکا کسی بھی مسلح تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور وہ بلوچ ریپبلکن پارٹی کے صدر ہیں جو سیاسی اور جمہوری اصولوں پر کاربند ہے۔

پاکستانی حکمران اور عسکری قیادت گزشتہ کئی سالوں سے سوئس حکومت کو براہمدغ بگٹی کے خلاف گمراہ کرنے میں مصروف عمل ہیں اور اس حوالے سے انکی متعدد بار سوئس حکام سے ملاقاتیں بھی ہوچکی ہیں جن میں بلوچ قومی رہنماء براہمدغ بگٹی کے بی آر اے سے تعلق کے حوالے سے بے بنیاد شوائد بھی فراہم کیے گئے ہیں جن کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

براہمدغ بگٹی کو بلوچ آزادی کی تحریک میں انتہائی اعلیٰ مقام حاصل ہے جسے بلوچ قوم کی مکمل حمایت حاصل ہے اسی لیے پاکستانی عسکری اور سول قیادت کئی سالوں سے مختلف طریقوں سے براہمدغ بگٹی کو دبانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں اب تک انہیں منہ کی کھانی پڑی ہے۔ کیونکہ براہمدغ بگٹی کا حوصلہ چلتن کے پہاڑوں کی طرح بلند اور مضبوط ہے جسے کمزور کرنا قبضہ گیر قوتوں کی  بس سے کافی دور ہے۔

جب نواب براہمدغ بگٹی افغانستان میں موجود تھے تب پاکستانی عسکری قیادت نے انہیں قتل کرنے کی متعدد ناکام کوششیں کیں، یہاں تک کے انہیں راستے سے ہٹانے کے لیے خودکش بمبار بھی بھیجیں گئے لیکن تمام تر اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود بھی انہیں ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا اور رسوائی نے ہر بار انکا استقبال کیا۔ براہمدغ بگٹی کے سوئٹزرلینڈ جانے کے بعد پاکستانی ریاستی ادارے مزید بوکھلاہٹ کا شکار یوگئے۔ اسکی وجہ یورپ میں آزادانہ سیاسی سرگرمیاں اور انکی لابنگ ہے۔

براہمدغ بگٹی اور انکی جماعت گزشتہ کئی سالوں سے جنیوا میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر بلوچستان میں ہونے والی جنگی جرائم اور ریاستی دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں بلوچ ریپبلکن پارٹی اور بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن مختلف پلیٹ فارم پر کسی نہ کسی طریقے سے بلوچ قومی آواز کو اجاگر کرتے آرہے ہیں جو پاکستانی سول اور عسکری قیادت کے لیے باعث پریشانی بن چکی ہے۔

براہمدغ بگٹی کے پناہ کی درخواست رد ہونے پر بلوچ سیاسی و سماجی حلقوں کا رد عمل

براہمدغ بگٹی کے پناہ کی درخواست رد ہونے کی خبر سے بلوچ سیاسی اور سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور انکے چاہنے والے سوئٹزرلینڈ کی غیر جمہوری رویے پر سوالات اٹھارہے ہیں۔  سوشل میڈیا کے ذریعے ہر کوئی سوئس حکام سے سراپائے احتجاج ہے۔ اور اس خبر نے سوشل میڈیا پر ایک کمپئین کی شکل اختیار کرلی ہے جس میں #GrantBugtiAsylum کے ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے ہر کوئی سوئس حکومت سے درخواست کر رہا ہے کہ نواب براہمدغ بگٹی کے سیاسی پناہ کی درخواست قبول کرلی جائے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق میں بلوچ نمائندہ مہران مری نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ حالیہ پے درپے واقعات جن میں سوئس حکومت کا مجھے سوٹزرلینڈ میں داخلے سے روکنا،براہمدغ بگٹی کا سیاسی پناہ کی درخواست کا رد ہونا اور کٹھ پتلی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا بلوچ نسل کشی کا اعلان کرنا یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اب چین براہ راست بلوچ تحریک آذادی کے خلات عملی طور پر میدان میں آگیا۔

بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین ریحان بلوچ نے ٹویٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سوئس حکومت نے بلوچ آزادی پسند رہنماء نواب براہمدغ بگٹی کے سیاسی پناہ کی درخواست رد کرتے ہوئے اپنے جمہوری اقدار کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ براہمدغ بگٹی پاکستان چھوڑ کر سوئٹزرلینڈ میں مقیم ہیں تاکہ اپنی زندگی کو محفوظ رکھتے ہوئے بلوچ نسل کشی کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے ٹویٹر پر  جاری کردہ اپنے مختلف پیغامات میں کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ نے براہمدغ بگٹی کی سیاسی پناہ کی درخواست رد کرتے ہوئے پاکستان کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ بلوچستان میں جرائم میں اضافہ کرے۔

 

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے ہیومن رائٹس ونگ کے کارکن اور برطانیہ زون کے جنرل سیکرٹری حکیم واڈیلہ نے ٹویٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دوہفتوں کے دوران سویٹزرلینڈ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ ان افراد کے خلاف بات کرنے سے گریزاں ہے جن کے غیر قانونی پیسے سویٹزرلینڈ کے بینک میں محفوظ ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ براہمدغ بگٹی کے پناہ کی درخواست کو رد کرنا اقوام متحدہ کے چارٹر پر ایک طمانچہ ہے۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے میڈیا سیل انچارج شاہنواز بگٹی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اپنے مختلف پیغامات میں کہا ہے کہ ساتھ سالوں کے تاخیر کے بعد سویٹزرلینڈ نے بلوچ قومی رہنما اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کے صدر براہمدغ بگٹی کے سیاسی پناہ کی درخواست کورد کر دیا ہے۔ شاہنواز بگٹی نے مزید لکھا ہے کہ براہمدغ بگٹی محکوم بلوچ قوم کی نمائندگی کر رہا ہے جس کے پناہ کر رد کرنا انسانی حقوق کے لیے اپنے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے خارجہ کمیٹی کے رہنماء کچکول علی ایڈوکیٹ نے براہمدغ بگٹی کے سیاسی پناہ کی درخواست رد ہونے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ براہمدغ بگٹی کے سیاسی پناہ کی درخواست رد کرنا ریفیوجی کنوینشن کے آرٹیکل 32 اور 33 کی خلاف ورزی ہے۔ اور سوئس حکومت کا فیصلہ یو ڈی ایچ آر کے ارٹیکل 5 اور آئی سی سی پی آر کے ارٹیکل 3 کی خلاف ورزی ہے۔

بلوچ قومی تحریک کے ہمدرد اور مشہور کالمسٹ اور مصنف طارق فتح نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اپنے مختلف پیغامات میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ پاکستان اور چائنہ کی کارستانی ہے  تاکہ وہ بیرون ممالک مقیم بلوچ لیڈرشپ کو نشانہ بناتے ہوئے بلوچستان کے وسائل کو لوٹ سکیں۔ طارق فتح نے براہمدغ بگٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر چہ سوئس حکومت نے آپکو بھیچ دیا ہے آپ مایوس نہ ہوں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی کےاقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے نمائندے عبدالنواز بگٹی نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ براہمدغ بگٹی ان لاکھوں بلوچوں کی آواز ہے جو بلوچستان میں ریاستی نسل کشی کا شکار ہیں جو اپنے حق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ براہمدغ بگٹی کو تحفظ نہ دینا بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی کی حمایت کرنا ہے۔

بلوچ ورنا کے ایڈیٹر اور فری بلوچستان موومنٹ کے رہنماء فیض بلوچ نے لکھا ہے کہ سوئس حکومت کو براہمدغ بگٹی کو سیاسی پناہ دے دینا چاہیے کیونکہ وہ ایک پر امن سیاسی رہنماء ہیں جو پر امن، سیاسی اور بین القوامی و اقوام متحدہ کے  قوانین کے مطابق بلوچستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

ہندوستان سے تعلق رکھنے والی مشہور ایکٹوسٹ اوربلوچوں کی ہمدرد سونم مہاجان ٹویٹر پر جاری اپنے پیغامات میں سوئس حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے لیے باعث شرمندگی ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کے الزامات کو ترجیح دے رہی ہے جو عالمی دہشتگردی کا مرکز ہے جس نے دنیا کے سب سے بڑے دہشتگرد  اسامہ بن لادن کو اپنے ملک میں پناہ اور تحفظ فراہم کیا۔

بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مر کزی وائس چیئرپرسن بانک گوہر بلوچ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پرجاری کردہ اپنے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ سوئس امیگریشن انتظامیہ کو اپنی غیر ذمہ دارانہ رویے کوترک کرتے ہوئے اپنے ملک کی جمہوری اقدار کی پاسداری کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ براہمدغ بگٹی لاکھوں  بلوچوں کی آواز ہے، سوئٹزرلینڈ جیسا ملک کس طرح جنیوا کنوینشن کی خلاف ورزی کرسکتی ہے۔

بلوچ قومی رہنماء نواب براہمدغ بگٹی کے سیاسی پناہ کی درخواست رد ہونے کی خبر نے تمام انسان دوست ، حقیقت پسند اور بلوچ قومی تحریک کے ہمدردوں کو پریشانی میں مبتلہ کر دیا ہے اور کچھ ہی گھنٹوں میں پوری دنیا سے لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ لوگ سوئس حکام سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ بلوچ قومی رہنماء نواب براہمدغ بگٹی کو اپنے ملک میں پناہ کا حق دیتے ہوئے اپنے ملک میں تحفظ فرائم کرے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close