جمعرات کو بی این ایف کی جانب سے سوشل میڈیا میں کمپئین چلانے کا اعلان

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ نیشنل فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ ضلع کیچ کے علاقے دشت میں تین ہفتوں سے زائد جاری آپریشن میں کئی گھروں کو جلانے اور قیمتی سامان لوٹنے کے ساتھ کئی نہتے بلوچوں کو اغوا کرکے لاپتہ کیا گیاہے۔ اس فوجی آپریشن میں دشت کے علاقے کمبیل و گرد ونواح میں میں جنگی ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے مال مویشی اور فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ گوادر سے متصل علاقہ ہونے کی وجہ سے دشت مسلسل فوجی بربریت کا سامنا کر رہاہے۔ یکم نومبر سے شروع ہونے والی آپریشن میں اب تک سو کے قریب نہتے بلوچوں کو اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ 23 دنوں سے جاری آپریشن کا مقصد نام نہاد ترقی و چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور(سی پیک) کے قافلے محفوظ طور پر گوادر پہنچانا تھا۔ اسی آڑ میں اس راستے میں بلوچ آبادی کو دہشت گرد کا لیبل لگا کر ہیلی کاپٹروں سے بمباری کرکے علاقہ بدر ہونے پر مجبور کیا جا رہاہے۔ اس روٹ پر پہلے ہی پروم، بالگتر، ہوشاپ، گیشکور، ڈنڈار، سامی، شہرک، شاپک، دشت، کولواہ، پیدارک سمیت کئی علاقوں سے مقامی لوگ فوجی بربریت سے متاثر ہوکر نقل مکانی کر چکے ہیں ۔ جن کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے۔ اس بربریت کو چھپانے کیلئے میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں پر بلوچستان داخلے پرپابندی عائد کی جا چکی ہے۔ دوسری طرف میڈیا اور انسانی حقوق کے ادارے بھی اپنی جان کی پناہ میں خاموشی پر اکتفا کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں گزشتہ ایک دہائی سے پچاس کے قریب صحافی اور انسانی حقوق کے اراکین پاکستانی فوج اور اس کی پراکسیوں کا نشانہ بن چکے ہیں ۔ ترجمان نے کہا کہ گزشتہ ہفتے پاکستانی خفیہ اداروں نے کراچی ائیر پورٹ میں آواران کولواہ کے رہائشی نذیر ولد ہونک کو دبئی جاتے ہوئے اغوا کر کے لاپتہ کیا، جس کا تاحال کوئی خبر نہیں۔ دشت میں پاکستان کی بربریت تفصیل کچھ یوں ہے۔ یکم نومبر کو پانچ جنگی ہیلی کاپٹروں اور 35 فوجی گاڑیوں نے دشت کمبیل میں ایک بڑی آپریشن کا آغاز کیا۔ سرچ آپریشن کے نام عورت اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 8نومبر کو علی الصبح دشت کے علاقے مچی میں پاکستانی فوج نے آپریشن کرکے ستر سالہ غلام شاہ،بلال ،یونس ولد غلام شاہ،مرد شیر محمد،صابر ولدجامی،پرویز مراد بخش،رشید عثمان اور ستر سالہ عثمان ولد باہوٹ کو حراست بعد لاپتہ کیا۔جبکہ دوسرے روز سب کو رہا کیا گیا لیکن صابر تاحال لاپتہ ہیں۔ 8نومبر کی شام کو دشت کے علاقے پٹوک میں پاکستانی فوج نے آپریشن کرکے حمل مراد بخش،خالد ابراہیم اور ارشاد حاصل نامی 3افراد حراست میں لیکر لاپتہ کئے جبکہ چوتھے دن انہیں رہا کیا گیا۔10نومبر علی الصبح دشت کے علاقے گوہرگ گرّ میں فوج نے آپریشن کرکے نیاز ولد محمد حیات نامی شخص کو اغوا کیا۔10نومبر کو دوپہر کے وقت فوج نے دشت پرنٹ بازار میں آپریشن کیا۔10نومبر کو بوقت شام دشت جان محمد بازار میں فوج نے آپریشن کرکے نثارولد شاہداد،راشدولد ابراہیم ،عبیدولد عبدالصمد ،سراج ولدحاصل،عبید ولدشے محمدنامی 5افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا۔چار روز بعد4افراد رہا کئے جبکہ سراج نامی شخص تاحال لاپتہ ہیں۔ 11نومبرکو دشت جتّانی بازار میں فوج نے آپریشن کرکے مسلم ولد عبدالمجید اور عبدالمجید ولدکتب نامی باپ بیٹوں کو حراست بعد لاپتہ کیا۔13نومبر کو علی الصبح دشت باہوٹ چات میں فوج نے آپریشن کرکے دودا ولد مراد محمد اور شعیب ولد مراد محمد نامی دو بھائیوں کو حراست بعد لاپتہ کیا۔13نومبر ہی کو دوپہر کے وقت دشت درچکو میں فوج نے آپریشن کرکے خالدولد لعل بخش،عارف ولد وشدل ،ناصر ولد نذر محمد،شبیرولد صوالی،شعیب ولدگزّی،سعید ولد گزّی ،اعجاز ولد جامی اور وحید ولد کمال نامی 8افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا۔14نومبر کو علی الصبح فوج نے دشت گوہرگ حسین بازار میں آپریشن کرکے زاہد ولد رحمت نامی ایک شخص کو حراست بعد لاپتہ کیا۔بعد ازاں گوہرگ باغ اور کپکپار زریں بازار میں آپریشن کرکے گھروں میں لوٹ مار کیا۔14نومبر کو دوپہر کے وقت فوج نے بل نگور میں آپریشن کرکے چاکر ولد پھلان ،دو شمبے ولد بہادر،سمیر ولد عبدالحمیداورحمید ولد ابراہیم نامی 4افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا۔17نومبر کو علی الصبح دشت پنودی اور کینال میں فوج نے آپریشن کرکے نعیم داد محمد،نصرت دوست محمد،علم حاجی ملا،نذیر مصطفی،رفقی غلام رسول،نادل حاجی حاصل اور خالد غلام رسول نامی 7افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔جن میں تین اسکو ل ٹیچر ہیں۔18نومبر کو علی الصبح دشت ملائی نگور،چاتیگ بازار،حاجی کرم شاہ بازار،پھلان بازارمیں فوج نے آپریشن کرکے 5افرادنسیم کریم بخش اورستر سالہ حاجی کرم شاہ پشمبے کو ان کے تین بیٹو ں عبدالکریم ،ایوب اور ملا محمد کو حراست بعد لاپتہ کیا۔بعد ازاں حاجی کرم شاہ اور اس کا ایک بیٹا ایوب کو چھوڑ دیا گیا۔18نومبر کو دوپہر کے وقت فوج نے دشت ہورمیں آپریشن کرکے 26افراد حراست بعد لاپتہ کئے۔جن کی شناخت بدل ولد سئیکی،وحید ولد سئیکی،حبیب ولد فقیر،اقبا ل ولد حسین ،نصیر ولدجان محمد،سمیر ولد جان محمد،حمزہ ولد شاھداد،اللہ بخش ولد مراد جان ،نسیم ولد سخی داد،حلیم ولد سخی داد،نسیم ولدصالح محمد،عزیز ولد کریم بخش،سلمان ولد رشید،شریف ولد دلمراد،نیاز ولد ابراہیم ،باسط ولد ابراہیم ،ریاض ولد داد محمد،فضل ولد داد محمد،ندیم ولد عبدالکریم ،مجید ولد خداداد،وحید ولد عبدالرحیم ،ستار ولد عبدالرحیم،حامد ولد سلیم ،شریف ولد فقیر،لال جان ولدسیٹھ احمد اور اکرم دوست محمد کے ناموں سے کی گئیں۔جبکہ فوج نے آپریشن کے بعد علاقے میں لوٹ مار کر کے پانچ گاڑیاں ،6موٹر سائیکل اور ایک ٹریکٹر اپنے ساتھ لے گئے۔18نومبر کو دن کے تین پہر کے وقت فوج نے آپریشن کرکے عبدالکریم ولد غلام قادر جو کروس تنک نامی علاقے کا رہائشی تھا کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔18نومبر کو رات ساڑھے گیارہ بجے فوج نے دشت جان محمد بازار میں آپریشن کرکے 10افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا جن کی شناخت تین بھائیوں نور محمدولد اقبال ،عبدالحئی ولد اقبال ،فہدولد اقبال اور یعقوب ولد شاہ مراد،لیاقت ولد شہداد،زاہد ولد ھاجی ابراہیم ،راشد ولد حاجی ابراہیم ،ثنا اللہ ولد سید محمد،شاہو ولد سید محمد اور جابر ولد رشید کے ناموں سے کی گئی۔پاکستان فوج کی بربریت کو دنیا کے سامنے آشکار کرنے کیلئے بی این ایف کی جانب سے کل بروز جمعرات 24 نومبر کو بلوچستان کے وقت کے مطابق شام چار بجے سے آٹھ بجے تک #DashtOperation کے ہیشٹیگ سے سوشل میڈیا میں آن لائن مہم چلائی جائیگی۔ تمام تنظیموں، انسان دوستوں اور سوشل میڈیاایکٹویٹس سے اپیل ہے کہ وہ بلوچستان میں ہونے والی نسل کشی کو اجاگر کرنے کیلئے اس مہم میں ہمارا ساتھ دیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close