ااسلام آباد: قائداعظم یونیورسٹی کے بلوچ طلباء پر پولیس کا وحشیانہ تشدد، کئی طلباء شدید زخمی

نیوز ڈیسک (ریپبلکن نیوز) اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس نے قائداعظم یونیورسٹی کے احتجاجی طلباء کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 70 سے زائد طلباء کو حراست میں لے کر انہیں مختلف تھانوں میں منتقل کردیا۔ پولیس نے اب تک مجموعی طور پر 70 طلباء کو گرفتار کرکے شہزاد ٹاون، بہارہ کہو اور ای نائن تھانوں میں منتقل کیا۔خیال رہے کہ 23 اکتوبر بروز پیر کی صبح اسلام آباد میں قائد اعظم یونیورسٹی کے 41 ہڑتالی طلبہ کو گرفتار کرکے 19 روز سے معطل تدریسی عمل بحال کردیا گیا تھا۔یونیورسٹی کے باہر صبح ہی پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی اور جیسے ہی ہڑتالی طلبہ پہنچے تو ان کی گرفتاریاں شروع کردی گئیں پولیس حکام کے مطابق اس وقت تک 41 طلبہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جس کے بعد انتظامیہ اور پولیس نے کارروائی عمل میں لاتے ہوئے مزید طلباء کو گرفتار کرلیا اور ان میں سے 38 طلباء کو شہزاد ٹاؤن تھانے، 6 کو بارہ کہو تھانے اور 26 کو ای نائن تھانے میں منتقل کردیا۔ حکام کے مطابق گرفتار کیے جانے والے طلباء میں 38 کا تعلق بلوچ کونسل سے ہیں جن کو پولیس سے شدید تشدد کا نشانہ بنا کر لہو لہوہاں کر دیا۔  یاد رہے کہ اس سے قبل بھی 2010 میں پنجاب کے بہاولپور اور ملتان میں ٹیکنیکل کالجز میں زیر تعلیم بلوچ طلباء پر اس نوعیت سے کہیں بدتر حملہ ہوئے تھے جس میں وہاں کے کالج انتظامیہ سمیت مذہبی انتہا پسند طلباء گروہ بھی شامل تھے. ان واقعات کے باوجود ہر کچھ مہینوں بعد پنجاب کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم بلوچ طلباء پر اس طرح کے حملے ہوتے رہے ہیں. 

مزید خبریں اسی بارے میں

Close