بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے زیراہتمام ریجنل تربیتی ورکشاپ منعقد

کوہٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے زیراہتمام ریجنل تربیتی ورکشاپ(شال،مستونگ،قلات،خاران زون) مرکزی انفارمیشن سیکریٹری لکمیربلوچ کے زیر صدارت منعقد ہوا۔جس کے مہمان خاص مرکزی کمیٹی کے ممبر دین جان بلوچ تھے۔ورکشاپ دو الگ موضوعات ’’چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور‘‘ اور ’’سوشل میڈیا‘‘ پر مشتمل تھی۔ پروگرام کا باقائدہ آغاز عظیم شہدا کی یاد میں خاموشی سے ہوئی ۔پروگرام سے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اپنی تاریخی محل وقوع کے باعث خطے میں اہم مقام رکھتا ہے ۔ سنگم پر واقع ہونے کے سبب جنوبی ایشیا، وسط ایشیا اور مشرقی وسطیٰ کے ممالک بلوچستان کے سمندری و زمینی راستوں کو اپنی تجارتی سامان ایک خطے سے دوسرے خطے میں منتقل کرنے کا مختصر ترین راستہ سمجھتے ہیں۔ رہنماؤں نے گوادر بندرگاہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گوادر بندرگاہ آبنائے ہرمز کا قریب ترین بندرگاہ ہے جو کہ خلیجی ریاستوں کے تیل کی برآمدات کا واحد سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیاکی 40فیصد تیل سپلائی ہوتی ہے ۔جدید دور میں نہ صرف تجارتی راستوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے بلکہ بلوچستان کی قدرتی محل وقوع عسکری حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔بلوچستان گوادر بندرگاہ کی وجہ سے خطے میں سب سے زیادہ اہم جیوسٹریٹجک پوزیشن کا حامل ہے۔اس بندرگاہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی مستفید ہونا چاہتے ہیں جن میں چین سرفہرست ہے، چین کی دفاعی، تجارتی، علاقائی، مفادات کیلئے گوادر بندرگاہ بہت اہمیت رکھتی ہے۔ چین نے اب تک 198 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری سے کوسٹل ہائی وے تعمیر کیا ہے جو گوادر بندرگاہ کو کراچی سے ملاتا ہے۔ چین اس بندرگاہ کو سب سے زیادہ اہم اس لیے بھی سمجھتا ہے کہ سینٹرل ایشیا، یورپ اور افریقہ سے درآمدات اور برآمدات کیلئے ساؤتھ چائینا شنگھائی پورٹ کے مقابلے میں کاشغر سے گوادر راہداری بہت کم قیمت پر دستیاب ہوگا۔رہنماؤں نے کہا کہ چین پاکستان کو اپنے ’’ روایتی کالونی‘‘ کے طور پر استعمال کرکے آسان شرائط پر بلوچستان کی جغرافیہ کو اپنے فوجی و معاشی مفادات کے لئے استعمال کررہا ہے۔ بلوچستان، خصوصاََ گوادر میں جاری اس بین الاقوامی سرمایہ کاری کی کامیابی کی صورت میں غیر بلوچوں کی آبادی کاری کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ بلوچستان کا رخ کرے گا جس سے مقامی بلوچ آبادی شدید متاثر ہوگی جو کہ قبضہ گیر پاکستان کی دیرینہ خواہش ہے۔جس سے یقینی طور پربلوچی زبان ، ثقافت ،تہذیب اور اقدار محفوظ نہیں رہینگے اور بلوچ مستقل غلامی کی دلدل میں پھنس جائیں گے ۔سوشل میڈیا کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ سوشل میڈیا ہر گزرتے دن کے ساتھ پوری دنیا میں اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے۔ جہاں خبروں او ر معلومات کے لیے کروڑوں افراد ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ ٹوئٹر(مائیکروبلاگنگ) اور فیس بک اس دور کی مقبول ترین ویب سائٹس ہیں جن کے کروڑوں صارفین دنیا بھر میں موجود ہیں کیونکہ یہ رابطہ کاری کے بہترین زرائع ہیں ۔سوشل میڈیا ایک ٹیکنالوجی ہے جس کے اچھے اور برے اثرات پائے جاتے ہیں یہ استعمال کرنے والے پر انحصار کرتا ہے کہ کیسے اپنی بہتری کیلئے اسے استعمال کرتے ہیں۔سوشل میڈیا کے زریعے ہم اپنی پروگرام کی اچھی طرح تشہیر کرسکتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا میں بہت سے سنجیدہ گروہ اور افراد اپنے اچھے خیالات ،تاثرات اور اپنی تجربات شیئر کرتے ہیں ،جن سے ہمیں فائدہ حاصل کرلینا چاہیئے۔ بلوچستان میں ریاستی جارحیت کے خلاف ریاستی میڈیا کے بجائے متبادل میڈیا کے طور پر ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو مثبت انداز میں استعمال کر سکتے ہیں جس سے دنیا کے ممالک کو بلوچستان بارے میں آگاہی مل سکتی ہے ۔ رہنماؤں نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ نوجوان جدید دور کے تقاضوں کو سمجھ کر ان سہولیات کو اپنی قومی مفاد کے لئے استعمال کریں ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close