افغانستان: بلوچ محاجرین پر دو بم حملے، دو افراد جاں بحق، تین زخمی

کندھار (ریپبلکن نیوز) کندھار میں بلوچ محاجرین کے کیمپ میں دو دنوں کے دوران دو دھماکے کیے گئے ہیں جن میں مہاجرین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان کے صوبہ کندھار میں گزشتہ روز بگٹی قبیلہ سے تعلق رکھنے والے محاجرین کے کیمپ کے قریب گاڈی میں نصب ایک بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں تین افراد شدید زخمی ہوئے، زخمیوں کا تعلق بھی بگٹی قبیلہ سے بتایا جارہا ہے جن میں ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہے۔

جبکہ آج سرحدی شہر سپین بولدک میں بھی بلوچ محاجرین کو ایک بم حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔

زرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے سرحدی شہر سپین بولدک میں بلوچ محاجرین کی گاڈی کو اس وقت بم سے اڑایا گیا جب گاڑی سروس پمپ میں کھڑی کر کے جارہے تھے، دھماکے کے نتیجے میں سروس پمپ میں کام کرنے والے دو افغان شہری جاں بحق ہوگئے اور محاجرین کی گاڈی بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ تاہم بلوچ محاجرین کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ 

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی خفیہ اداروں کے پراکسی بلوچ محاجرین کو بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا  نشانہ بناتے رہے ہیں جن میں درجن سے زائد بلوچ شہید جبکہ دو درجن کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ 

واضع رہے کہ 2006 میں بلوچستان میں فوجی آپریشن اور بلوچ رہنما نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد سے ہزاروں بلوچ افغانستان منتقل ہوئے جو آج بھی وہاں مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور پاکستانی عسکری اداروں کے پراسکی بھی ان کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ 

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close