لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2353دن ہوگئے

VBMP01کوئٹہ ( ریپبلکن نیوز) لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2353دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بی این ایم منگچر قلات کے ساتھیوں نے لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اورنہوں نے کہاکہ بلوچستان میں جنگ و جلد کی فضاء روز بروز گہری ہو رہی ہے فورسز کارروائیوں میں عام بلوچ آبادیوں پر بہیمانہ بمباری گھروں کو نزرآتش کرنا خواتین بچوں بوڑھوں سمیت نہتے بلوچوں کو وحیشانیہ تشدد کا نشانہ بنانا اور انہیں اٹھا کر غائب کرنا پھر اکی تشدد زدہ مسخ شدہ لاشیں پھینکنا اور اپنے زر خرید وں کے ذریعے بلوچ نوجوانوں سکاسی کارکنوں سمیت مختلف شعبائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کی ٹارگٹ کلنگ کرنا اور دیگر بلوچوں کی نسل کشی اقدامات شامل ہیں۔ وزئر فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی فورسز اور ھکمران قوتویں بلوچ قومی تحریک کی کامیابیوں کے صدفے سے اس قدر بہری ہوچکی ہے کہ کہ انہیں روکنے ولای کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی ، ماما قدیر بلوچ نے مزید کہاکہ بلوچ نسل کشی فورسز کارروائیوں کو ان تمام ریاستی حلقوں کی بھی خاموشی حمایت حاصل ہے جب کہ بلوچ ان تمام حلقوں کو ان کا اصل چہرہ کردار کے آئینے میں دکھتتے ہیں ریاست کے یہ تمام نا م نہاد جمہوری و لبرل اور انسانی حقوق کے چمپئن چیخ اٹھتے ہیں ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close