کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین کی 20 فیصد آکسیجن صرف ایمیزون کے درخت و پودے پیدا کرتے ہیں

نیوزڈیسک (ریپبلکن نیوز) ایمیزون کا جنگل دنیا کے 9 ممالک تک پھیلا ہوا ہے، جس میں سرفہرست برازیل ہے، اس کا کل رقبہ 55 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ یہ جنگل ساڑھے پانچ کروڑ سال پرانا ہے، ایمیزون ایک یونانی لفظ ہے جسکا مطلب لڑاکو عورت ہے۔

زمین کی 20 فیصد آکسیجن صرف ایمیزون کے درخت اور پودے پیدا کرتے ہیں، جبکہ دنیا کے 40 فیصد جانور ، چرند، پرند، حشرات الارض ایمزون میں پائے جاتے ہیں۔

یہاں 400 سے زائد جنگلی قبائل آباد ہیں، انکی آبادی کا تخمینہ 45 لاکھ کے قریب بتایا گیا ہے۔ یہ لوگ اکیسیوں صدی میں بھی جنگلیوں کی طرز پر زندگی گذاررہے ہیں۔

ایمیزون کے  کچھ علاقے اتنے گھنے ہیں کہ وہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچ سکتی اور دن میں بھی رات کا سماں ہوتا ہے اور وہاں ایسے زیریلے حشرات الارض بھی پائے جاتے ہیں کہ اگر کسی انسان کو کاٹ لیں تو وہ چند سیکنڈ میں مرجائے۔

ایمیزون کا دریا پانی کے حساب سے دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے, اسکی لمبائی 7ہزار کلومیٹر ہے جبکہ دریائے ایمیزون میں مچھلیوں کی 30 ہزار اقسام پائی جاتی ہیں۔ایمیزون کے جنگلات میں 60 فیصد جاندار ایسے ہیں جو ابھی تک بے نام ہیں۔

یہاں کی مکڑیاں اتنی بڑی اور طاقتور ہوتی ہیں کہ پرندوں تک کو دبوچ لیتی ہیں، جبکہ ایمزون میں پھلوں کی 30 ہزار اقسام پائی جاتی ہیں۔

مہم جو اور ماہر حیاتیات ابھی تک اس جنگل کے محض 10 فیصد حصے تک ہی جاسکے ہیں۔ اگر آپ ایمیزون کے گھنے جنگلات میں ہو اور موسلا دھار بارش شرع ہوجائے تو تقریبا 12 منٹ تک آپ تک بارش کا پانی نہیں پہنچے گا۔

متعلقہ عنوانات
Close