بلوچستان لبریشن فرنٹ نے مختلف واقعات کی ذمہ داری قبول کر لی

کوئٹہ (ری پبلکن نیوز) بلوچستان لبریشن فرنٹ نے مختلف واقعات کی ذمہ داری قبول کر لی کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بلوچ سرمچاروں نے 19 مئی کی رات کو جھا پیلار میں ڈیتھ اسکواڈ مسلح دفاع کے کارندوں کی فائرنگ سے سرمچار الیاس عرف نوروز شہید ہوئے ہیں وہ گزشتہ تین سال سے بی ایل ایف سے وابستہ تھے اور بلوچ سرزمین کی آزادی کیلئے متحرک تھے ہم انہیں سرخ سلام اور خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ان کی مخبری اور حملے میں ملوث افراد کو جلد ہی ڈھونڈ کر سزا دیں گے دوسری طرف ایک مقامی روز نامہ نے 22 مئی کو بی ایل ایف کی خبر کے ساتھ شہید الیاس کو غدار کو قرار دیکر کسی اور کی خبر کو بی ایل ایف کی خبر میں جگہ دی ہے جو کسی نے پریس ریلیز کی صورت میں بھجوائی ہے جو ریاستی کارندوں کی ایک کرتوت ہو سکتی ہے مذکورہ روزنامہ سے اپیل ہے کہ پرائیویٹ ذرائع سے خبروں کو ہم سے منسلک نہ کریں اس خبر سے ایک شہید جہد کار کی روح، خاندان اور دوستوں کو شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا ہے بی ایل ایف کی خبریں نیوز ایجنسیوں کو دی جاتی ہیں اور ترجمان کی آواز سے تمام ادارے اچھی طرح واقف ہیں اس طرح غلط خبروں کو بی ایل ایف سے اپنی طرف سے منسلک کرنا صحافتی بدیانتی ہے گہرام بلوچ نے نا معلوم مقام سے اسٹیلائٹ فون کے ذریعے کہا کہ پیر کے روزسرمچاروں نے مند میں اسپی کہن اور بگزو کے درمیان ریاستی سرپرستی میں قائم ایک یونین کی چوکی پر حملہ کرکے پانچ کارندوں کو ہلاک کیا یہ یونین بدنام زمانہ ڈکیت بابو بہادر ڈکیت کی سربراہی میں ریاست کی آشیر باد سے قائم ہے یہ ریاست کے ایک ڈیتھ اسکواڈ کا کام کر رہے ہیں جہاں لوگوں سے زبردستی بھتہ وصول کیا جا ہے اور اپنے کارندوں کے ذریعے بلوچ جہد کاروں کی مخبری، کارروائی ، اغواء اور قتل کرتے ہیں جس کے صلے میں ریاست نے انہیں بھتہ خوری کی اجازت دی ہے خود بابو ڈکیت پر پہلے حملے کئے گئے ہیں مگر وہ بچ نکلا ہے بابوڈکیت اوراس جیسے تمام سرکاری کارندے ہمارے نشانے پر ہیں اتوار کو مشکے میہی میں نیشنل پارٹی کے رہنماء علی حیدر محمد حسنی کی سربراہی میں قائم ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے عظیم ولد رضا محمد کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا وہ ریاستی کارندہ تھا اور بلوچوں کی مخبری میں ملوث تھاپیر ہی کے روز آواران کولواہ کے علاقے بزداد میں فورسزکے قافلے پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ رگیتی میں عام آبادی پر کارروائی کے بعد واپس اپنے کیمپ جا رہے تھے حملے میں فورسز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اتوار کو جھا کے علاقے ڈولیجی میں فورسز کی چوکی پر حملہ کرکے فورسز کو نقصان پہنچایا ترجمان نے کہا کہ ایک ہفتے سے فورسز دشت ،ساجی اور گرد ونواع میں ایک خونی کارروائی میں مصروف ہے کئی ہزار فورسزنے علاقے کا گھیراؤ کرکے علاقہ مکینوں پر عرصہ حیات تنگ کردی ہے مقامی لوگوں کو علاقہ چھوڑنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جس کا ہم نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ چین کی ملی بھگت سے نام نہاد منصوبوں کی تکمیل کیلئے بلوچ نسل کشی کی جارہی ہے آج گوادر سے متصل یہ علاقے ایک ہفتے سے گھیرے میں ہیں اور کئی گن شپ ہیلی کاپٹرز مسلسل بمباری اور شیلنگ میں مصروف ہیں ترجمان نے کہا کہ مقصد کے حصول تک ہماری کارروائیاں جاری رہیں گی تاہم دوسری جانب فورسز پر حملوں کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close