بلوچ قومی یکجہتی کے حوالے سے نواب براہمدغ بگٹی کی ناقابل فراموش خدمات

کوئٹہ/اداریہ(ریپبلکن نیوز) بلوچ قیادت میں یکجہتی کے حوالے سے کوششوں کا آغاز گزشتہ دو سال سے قبل نواب براہمدغ بگٹی نے ایک اخباری بیان کے زریعے کیا اور تمام فریقین کو بلوچستان کی آزادی کے حوالے سے کوششوں کو متحد ہوکر مشترکہ طور پر کرنے پر زور دیتے ہوئے تمام آزادی پسند رہنماوں کو دعوت دی کہ ایک مہینے کے اندر اس سلسلے کو آگے بڑھایا جا ئیں۔ ایک مہینے کی مدت اس لیئے کیونکہ ماضی میں اس طرح کے اعلانات تو کیئے گئے لیکن انہیں عملی جامعہ نہیں پہنایا گیا ۔ نواب براہمدغ بگٹی نے اپنی ششیں جاری رکھی اور کچھ مدت بعد بی این ایم اور بی آر پی کے درمیان ملاقاتوں کا ایک دور شروع ہوا جس میں بہت پیش رفت ہوئی اور دونوں پارٹیوں کے سربراہان نے مسلسل رابطوں کے بعد ایک اشتراک عمل کا اعلان کیا اور دونوں جماعتوں کے رابطہ کار مقرر کر کے مزید نزدیکیوں کو مزید بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ نواب براہمدغ بگٹی نے اپنی کوشش کو وسیع کرتے ہوئے تمام لیڈروں اور پارٹیوں کو اس اشتراک عمل میں شامل کرنے کیلئے دیگر تمام بلوچ رہنماوں بشمول نوابزادہ حیربیار مری، میر جاوید مینگل، نواب مہران مری اور میر بختیارخان ڈومکی کو بھی دعوت نامے باقائدہ بلوچ روایات کے ساتھ ان کے گھروں کے دروازوں تک پہنچائے گئے۔ جو سب نے قبول کرتے ہوئے آنے کی یقیقن دہانی کرادی اور جب اس سلسلے کا دوسرا دورشروع ہوا تو نوابزدہ حیربیار مری اور سردار بختار اپنی مصروفیات کی وجہ اس شرکت نہیں کرسکیں۔  جبکہ باقی رہنماوں نے ساز گار ماحول میں ملاقات کی جو انتہائی مثبت رہی۔ اس سلسلے کی اگلی ملاقات نومبر میں ہونے والی تھی جو نواب مہران مری کی اہلخانہ سمیت زیورخ ائیرپورٹ پر حراست اور واپسی کے عمل کی وجہ سے بظاہر ملتوی ہوا تاہم ابھی تک اس حوالے سے اس وقت تک رسمی طور پر کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے۔
نواب براہمدغ بگٹی نے نیک نیتی سے جو کوشیش کی وہ قابل ستائش ہیں جو کہ قومی رہنما ہونے کے ناطے ان کی اولین زمہ داریوں میں بھی شامل تھی جو انھوں نے احسن طریقے سے نبھانے کو کوشش کی اور اس حوالے سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس حوالے سے جلد نئی حکمت عملی مرتب کر کے کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close