فرد نہیں۔۔۔! ادارےغلامی سے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں

کوہٹہ (ریپبلکن نیوز/مضمون) میرے ایک مضمون کے جواب میں میرے ایک آزادی پسند دوست سنگت آرچن بلوچ نے حقائق کو تھوڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی جس کا جواب دینا میں ضروری سمجھتا ہوں۔
میں نے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزادی پسند رہنما حیربیار مری کو بلوچستان میں اسٹیک ہولڈر کا درجہ دیا تھا جس پر آرچن بلوچ کو کوئی اعتراض نہیں لیکن وہ اس بات پر خفا ہیں کہ واجہ کو فرد نہ کہا جائے بلکہ وہ ایک مسلح تنظیم کے سربراہ ہیں اور مسلح جدوجہد کی شروعات بھی حیربیار نے ہی کی ہے۔یہاں جناب شخصیت پرستی میں اس حد تک آگے نکل چکا ہے کہ ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی اور شہیدِ انقلاب نوابزادہ بالاچ خان مری بھی انہیں یاد نہیں آتے۔
خیر۔۔۔ آپ کو بتاتا چلوں کے اسٹیک ہولڈر کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم فردوں کو قومی فیصلوں پر حاوی ہونے دیں۔ آج بلوچستان میں ایسےبھی اسٹیک ہولڈرز موجود ہیں جنکا تحریکِ آزادی سے کوئی واستہ نہیں جبکہ پاکستانی پارلیمنٹ کے مزے لے رہے ہیں تو کیا انہیں بھی قومی فیصلے کرنے کا حق دیا جائے۔۔۔؟
آپ کی اطلاعات کے لیے وضاحت کرتا چلوں کہ بی این ایف میں شامل ایک تنظیم سے حیربیار کو بین القوامی سفیر کا درجہ دینے کا بیان شائع کروایا گیا تھا جسے بعد میں بلوچ نیشنل فرنٹ میں شامل تمام جماعتوں نے رد کر دیا۔بقول آپکے کہ حیربیار فرد نہیں بلکہ ایک تنظیم کے سربراہ ہے تو جاوید مینگل اور مہران مری کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہیں۔۔۔!
جاوید مینگل اور مہران مری بھی مسلح تنظیموں کے سربراہان ہیں تب تو حیر بیارمری، جاوید مینگل اور مہران مری میں کوئی فرق نہیں رہہ جاتا۔
بی این ایف کو تھوڑنے میں کون لوگ ملوث تھےاور بلوچ ریپبلکن پارٹی کی بی این ایف سے نکلنے کے کیا وجوہات تھے اس پر بہت زیادہ بحث ہوچکی ہے،مجھے نہیں لگتا اس پر مزید بحث کی ضرورت ہے۔ ہاں البتہ اگر بی آر پی پھر سے فرنٹ میں شامل ہوجاتی ہے تب ضرور قوم کو وضاحت دینی ہوگی کہ فرنٹ سے نکلنے اور پھر شامل ہونے کی وجوہات کیا ہیں۔
حیربیار مری کی جدوجہد سے مجھ سمیت کوئی بھی شعوریافتہ شخص انکاری نہیں ہوسکتا لیکن حیربیار اُس وقت تک قوم کا ہیرو تا جب تک وہ بلوچ لبریشن آرمی کو لیڈ کر رہا تھا جب سے جناب نے سیاسی مسئلوں پر مداخلت کرنا شروع کیا ہے تب سے انکے مخالفین میں اضافہ ہوا ہے جن میں سے ایک میں خود بھی ہوں۔لیکن ایک اچھی پیشرفت یہ نظر آ رہی ہے کہ اداروں کو نہ ماننے والے خود ایک ادارے کی تشکیل میں مصروف ہیں جو ایک مثبت عمل ہے۔
اور جہاں تک مہران مری کا مسئلہ ہے تو اس پر کامریڈ مرحوم خیر بخش مری کی خاموشی اور حیربیار سے دوری نے بہت کچھ واضح کر دیا ہے۔
سنگت ہمیں اپنی چھوٹی سی دنیا سے نکل کر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ آپ کہہ رہے ہو کہ پارٹی بازی سے ہم اپنی قوم کو نجات نہیں دلا سکتے۔اگر ایسا ہے تو بلوچ نیشنل موومنٹ اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کے ہوتے ہوئے فری بلوچستان موومنٹ کیا معنی رکھتی ہے۔۔۔؟ اور کیا بغیر سیاسی جماعتوں کے آزادی کی تحریک کو جاری رکھنا اور دنیا میں اپنے دوست تلاش کرنا ممکن ہے؟ ہرگز نہیں، یہ سیاسی ادارے ہی ہیں جو ہمیں صیح اور غلط میں فرق تمیض کراتے ہوئے جدوجہد کرنے کا صیح راستہ دکھاتے ہیں۔
آخر میں میرے دوست آرچن نے ایک مثال دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ”سیاست جنگ سے زیادہ سخت ہے، جنگ کی میدان میں اگر ایک سپائی نے غلطی کی تو وہ اپنی جان کو کھو بیٹھے گی، لیکن سیاست کی میدان میں اگر تھوڑا سا چونک ہوا تو سارا تحریک بیٹھ جائے گی” آپکے اس مثال کا مقصد یہی ہے کہ سیاست جنگ سے زیادہ اہم ہےجو حقیقت پر مبنی ہے لیکن میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ حیربیار مری سیاسی رہنما ہے یا گوریلا کمانڈر۔۔۔؟۔
تحریر : خالد بلوچ

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker