ڈیرہ بگٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے درمیان جنگ

کوئٹہ/اداریہ (ریپبلکن نیوز) پاکستان بھر میں انتخابی مہم اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے، دوسری جانب ہر بار کی طرح اس بار بھی بلوچستان میں عام انتخابات نہیں بلکہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کی جانب سے کٹ پتلیوں کے سلیکشن کا سلسلہ جاری ہے۔

بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح ڈیرہ بگٹی میں بھی پاکستان کے عسکری اداروں نے مقامی طاقت یعنی نواب بگٹی خاندان کو اور خصوصاً قبیلے کو کئی دھڑوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔

زرائع کا کہنا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں قبیلے کی تقسیم اس وقت عسکری اداروں کے درمیان آپسی جنگ کا شاخسانہ ہے اور بعض زرائع کہتے ہیں کہ قبیلے پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کیلئے عسکری ادارے منصوبہ بندی کے تحت بگٹیوں کو تقسیم

کیئے ہوئے ہیں۔

ڈیرہ بگٹی میں اس وقت دو افراد سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اور نوابزادہ گہرام خان بگٹی الیکشن میں سب سے زیادہ متحرک ہیں اور انہی دونوں افراد کے درمیان بظاہر مقابلہ ہونا ہے مگر بلوچستان کی تاریخ کو دیکھا جائے تو انتخاب اسی کا ہوگا جس کو فوج اور خفیہ اداروں کا آشیرواد حاصل ہو۔

اس وقت سرفراز بگٹی کو بظاہر خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی پشت پناہی حاصل ہے جبکہ گہرام بگٹی کو ملٹری انٹیلیجنس اور فرنٹیئر کور کی مدد حاصل ہے۔

مگر دونوں کی سیاست کا محور بلوچ قومی رہنما اور قائد بلوچ ریپبلکن پارٹی نواب براہمدغ بگٹی کی مخالفت ہے جو زیادہ سے زیادہ مخالفت میں تقریریں کرے اور لوگوں کی ان کے خلاف زہن سازی کرے اس کے امکانات زیادہ ہونگے۔

اس کی مثال کچھ دن قبل پیر کوہ سے ملتی ہے جہاں گہرام خان کی حمایت میں ریلی نکالی گئی جس میں سرفراز کے حمایتی وڈیرہ بشیر چندرا زئی کے لوگ گھس گئے اور نواب براہمدغ کے حق میں نعرے بلند کیئے تاکہ گہرام خان کے

خلاف عسکری اداروں کو استعمال کر سکیں۔

اسی طرح گہرام بگٹی نے نواب براہمدغ کے خلاف متعدد وڈیو بیانات جاری کر کے فوج کو تسلی دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ ہمیشہ عسکری اداروں کے احکامات کی تائید کرتا رہیگا۔

جبکہ گزشتہ روز ڈیرہ بگٹی کے علاقے پٹوخ میں سرفراز کے حمایتی حیدر مسوری نے گہرام کے کچھ حمایتی لوگوں کے گھرں کے قریب اسلحہ چھپاتے ہوئے فوج کو اس بارے میں اطلاع دی، جس کا مقصد عسکری اداروں کی نظروں میں گوہرام بگٹی کے کردار کو متنازعہ کرناتھا، اور اس عمل سے گوہرام کے چند لوگوں کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔

دوسری جانب ان تمام منصوبوں میں سرفراز بگٹی اور گوہرام بگٹی کو آئی ایس آئی اور ایم آئی کی مدد حاصل رہی ہے۔

یہ جنگ پاکستانی عسکری اداروں کے درمیان ہے، جو یقیناََ بلوچ کے حق میں بالکل نہیں ہوسکتی،اور ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت بگٹی قبیلے کو مزید تقسیم کرنے کی سازشیں انتخابات کے قریب آتے ہی مزید زور پکڑ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

 بی آر اے، بی ایل ایف، یو بی اے اور بی ایل اے کو اپنے تعلقات مستحکم کرنے کی ضرورت ہے

خطے اور عالمی بدلتی صورتحال و بلوچ قومی آزادی کی جنگ میں مثبت اثرات 

17 مارچ بلوچ تاریخ کا ایک سیاہ دن

بلوچستان بھر میں پاکستانی عسکری اداروں کی کوشش ہے کہ اس بار انکی مرضی کی حکومت قائم کی جائے تاکہ ان کے کسی بھی غیر قانی کام میں کسی قسم کی کوئی  رکاوٹ پیش نہ آئے۔ جبکہ اس سے پہلے بھی بلوچستان میں عسکری اداروں کے آشرواد سے کوئی حکومت قائم نہیں ہوسکی ہے، لیکن اس بار معاملہ کچھ اور ہے، اس بار ریاستی اداروں نے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے نام سے اپنی پارٹی متعارف کرائی ہے جسے آئی ایس آئی، ایم آئی اور مسلح افواج کی مکمل حمایت اور مدد حاصل ہے، اور بلوچستان بھر سے کرپٹ لوگوں کو اس جماعت کے ذریعے پارلیمان تک رسائی دے کر ریاستی عسکری ادارے اپنے مذموم عزائم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال عام انتخابات میں بلوچستان بھر میں ووٹ کا ٹرن آوٹ صرف تین فیصد رہا تھا، جسے بلوچ آزادی پسند جماعتوں نے آزاد بلوچستان کے حق میں ریفرنڈم قرار دیا تھا، اس بار عسکری ادارے مکمل کوشش کر رہے ہیں کہ عام انتخابات کو کامیاب کیا جائے، اور لوگوں کو ہر صورت ووٹ دینے پر مجبور کیا جائے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close