سامراجی طاقتیں ترکی کو مصر کے حالات سے دوچار کرنا چاہتی تھیں۔مولانا عبدالحمید بلوچ

زاہدان( ریپبلکن نیوز ) ترکی میں جمعہ پندرہ جولائی کے آخری لمحوں میں ترکی فوج کے ایک ٹولے نے بغاوت کی ناکام کوشش کی جنہیں ذلت آمیز اور شرمناک شکست کا سامنا ہوا

مغربی بلوچستان کے مذہبی رہنماء مولانا عبدالحمید بلوچ کی سنّی آن لائن سے خصوصی انٹریو

سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق مولانا عبدالحمید نے اپنے انٹرویو کے آغاز میں ترک فوجی بغاوت کی ناکامی کو عالم اسلام کے لیے بطور خاص امیدافزا اور خوشخبری قرار دی۔ انہوں نے کہا: فوجی بغاوت کی ناکامی سے ترکی میں قانون، جمہوریت اور اسلام پسندی کو تقویت ملی ہے۔ میرے خیال میں ان شاء اللہ آئندہ ترکی عوام فوجی بغاوت کا تجربہ نہیں کریں گے۔

ناکام بغاوت نے مغرب کا اصلی چہرہ بے نقاب کردیا
اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ترکی کی ناکام فوجی بغاوت نے ایک حقیقت واضح کردیا کہ دنیا کی سامراجی طاقتیں مسلم ممالک کے حوالے سے کیسی کیسی سازشیں ذہنوں میں رکھتی ہیں اور کس طرح ہنگامہ آرائی کرانا چاہتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا عالمی طاقتیں شام، عراق اور یمن و فلسطین کے مسائل حل کرانے کے بجائے، مزید ملکوں کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: سامراجی مغرور طاقتوں کا منصوبہ یہ تھا کہ جس طرح مصر میں آزاد و جمہوری انتخابات کے بعد فوجی بغاوت سے منتخب عوامی حکومت کا تختہ الٹایا گیا اور لوگوں کے انقلاب و آزادی پر شب خوں ماراگیا، اسی طرح ترکی میں بغاوت سے فوجی آمر کی حکومت کا راج قائم کیا جائے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے؛ اس کے لیے مدتوں تک منصوبہ بندی و سازش کی جاچکی ہے تاکہ ترکی کو مصر کے حالات سے دوچار کیا جائے۔

ترکی قوم بیدار ہے
ترکی قوم کی کامیابی اور فوجی بغاوت کی ناکامی کی وجوہات پر اظہارِخیال کرتے ہوئے رابطہ عالم اسلامی کے رکن نے کہا: ترکی قوم نے متعدد فوجی بغاوتوں کا تجربہ کیا ہے۔ فوجی بغاوتوں سے ترقی کا سفر رک جاتاہے۔ ترکی میں فوجی بغاوت کی اصل وجہ سب سے پہلے اللہ تعالی کی مشیت اور پھر قوم کی بیداری تھی۔ حکومت کی بر وقت مزاحمت اور عوام کی حمایت نے بغاوت ناکام بنادیا۔ پوری قوم نے ساتھ دیا اور اصلی جرنیلوں اور کمانڈروں نے باغیوں کا ساتھ نہیں دیا۔ پولیس اور حکام نے مزاحمت کی۔ حقیقت یہ ہے کہ صدر رجب طیب اردوگان نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کیا اور الحمدللہ بغاوت ناکام ہوئی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ترکی میں بغاوت کے حامی کوئی نہیں تھا۔ سازش کرنے والوں کا اندازہ غلط نکلا، چونکہ مصر و ترکی کے حالات ایک جیسے نہیں ہیں۔ترکی قوم دینی شناخت کی تلاش میں ہے۔ ترک باغیوں کی بے وقوفی اور منطق سے دوری ثابت ہوا جنہوں نے تحقیق نہیں کی تھی عوام میں انہیں کتنی پذیرائی ملے گی۔ اس بغاوت کی رسوائی پوری دنیا کے لیے نشان عبرت بن گئی۔
ترک اپوزیشن جماعتوں کے ردعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: ان جماعتوں نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا اور ترکی کے قانون کا احترام کیا۔ بغاوت لاقانونی اور غیرجمہوری عمل ہے اور دہشت گردی شمار ہوتی ہے، حقیقی دہشت گرد یہی باغی ہیں جو قانون کے خلاف جاتے ہیں اور بدمعاشی سے طاقت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

سازشی کون؟
ترکی میں بغاوت کی پشت پناہی کرنے والوں کو بے نقاب کرتے ہوئے ممتاز عالم دین نے کہا: اس بغاوت کے پیچھے سامراجی و مغربی طاقتوں کے علاوہ قابض اسرائیلی ریاست کا ہاتھ بھی ہے جنہوں نے مصری باغیوں کی پشت پناہی کی تھی۔ لیکن بعض مشرقی طاقتیں بھی اس بغاوت پر ناخوش نہ تھیں۔ باغیوں نے مشرق و مغرب کے گرین سگنل پر آگے بڑھے۔
اپنے انٹرویو کے آخر میں ترک حکام کو مخاطب کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: اس واقعے کے بعد ترکی قوم پرجو ایک بیدار قوم ہے، مزید توجہ دینی چاہیے۔ سیاسی جماعتیں جو ترکی میں سرگرم ہیں، انہیں آزادی سے سرگرم رہنے کی اجازت ملنی چاہیے۔

نیس‘ حادثہ پریشان کن ہے
فرانس میں پیش آنے والے واقعے کو پریشان کن اور افسوسناک یاد کرتے ہوئے صدر شورائے ہم آہنگی مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان نے کہا: جو لوگ اس حادثے میں جاں بحق ہوئے نہتے اور معصوم شہری تھے۔ ہمیں دکھ ہوا کہ جو لوگ وہاں مارے گئے ان کی خوشی غم میں بدل گئی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ فرانس جو امن و امان میں مثالی تھا، اب کیوں بدامنی کی لپیٹ میں ہے؟
بات آگے بڑھاتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: ہم نے پہلے بھی یاددہانی کرائی ہے کہ دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ زورِ بازو اور بمباری سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ دہشت گردی کی اصل وجوہات معلوم کرکے ان کی بیخ کنی کرنی چاہیے۔
مسئلہ فلسطین کی اہمیت واضح کرتے ہوئے خطیب اہل سنت نے کہا: جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، دہشت گردی کے خلاف تمام اقدامات بے کار رہیں گے۔ اگر فلسطینی اپنے حقوق حاصل کریں اور ان کا استقلال یقینی بنایاجائے، دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑا اقدام یہی ہوگا۔ شام کے مسئلے میں بھی دنیا کسی حل کے درپے نہیں ہے اور کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ عراق و یمن کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: بعض مسلم ممالک کے ایئربیسوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے پر بمب برساتے ہیں، یہ غلط طریقہ ہے۔ ایسی بمباریوں میں بے گناہ معصوم شہری مارے جاتے ہیں۔ عسکری حملوں کا دائرہ وسیع کرنے سے بدامنی اور دشمنی میں اضافہ ہوتاہے۔ عالمی برادری کو اپنی پالیسیاں بدلنی پڑے گی اور ایک ایسا فارمولا پیش کرنا چاہیے کہ دنیا میں امن و مصالحت کی فضا قائم ہواور اکثریت اس فارمولے پر متفق ہوں۔ بصورت دیگر مزید انتہاپسند تنظیمیں ابھریں گی اور بدامنی پھیلتی جائے گی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close