نصیرآباد بڑے نہری نظام کا علاقہ کہلانے کے باوجود پچھلے چند سالوں سے زرعی پانی کی شدید قلت کا شکارہے ۔رپورٹ

نصیر آباد ،بیورورپورٹ (ریپبلکن نیوز) نصیرآباد بلوچستان کا واحد اور سب سے بڑے نہری نظام کا علاقہ کہلانے کے باوجود پچھلے چند سالوں سے زرعی پانی کی شدید قلت کا شکارہے جہاں ہر سال خریف کا موسم شروع ہوتے ہی کاشتکاروں کے لیے مصیبتوں کے پہاڑ کھڑے کر دیئے جاتے ہیں۔ پانی کے بحران کو لیکر زمیندار ، کاشتکار سرپا احتجاج نظر آتے ہیں ۔ ان کی جانب سے روڈ بلاک ، دھرنے ، احتجاج ، شدید نعرے اور بیان بازیوں کے باوجود ان کے مسئلے کا حل آج تک نہیں نکالا جا سکا ۔ بارہا کاشتکاروں کو پاک کتاب اٹھا کے احتجاج کرتے بھی دیکھا گیا ہے ۔ پر صد افسوس آج تک ان کی کوئی بھی شنوائی ہوتی نظر نہیں آرہی ۔ اب ان حالات کے پیچھے کوئی مرکزی پالیسی شامل ہے یا پھر صوبائی نہ اہلی ، محکمہ آب وپاشی کی بددیانتی کارفرما ہے کہ کاشتکاروں ، زمینداروں کی لاعلمی اور ناسمجھی . پر یہ بات اب مصدقہ ہے کہ بلوچستان کی واحد زرعی زرخیز شمار ہونے والی یہ چھوٹی سی دھرتی کی ٹکڑی بھی اب بنجر ہونے جا رہی ہے ۔ بحرحال ایک بات تو یقینی اور آنکھوں دیکھی ہے کہ قریب سن انیس سو پچانوے چھیانوے کے بعد پٹ فیڈر کی کسی بھی معروف بالائی شاخ کی بھل صفائی ہوتے نہیں دیکھی جا سکی ۔ اسی طرح پٹ فیڈر کینال کی بھل صفائی کو لیکر بھی کئی ایک سوال اٹھے اور پھر ہر سو راوی کو چین ہی لکھتے پایا گیا ۔ ذیلی شاخوں کی بھل صفائی کے لیے جاری ہونے والے فنڈز اور کام کے چرچے تو ضرور سنے گئے . پر آج تک ان پر عملی کام ہوتے نہیں دیکھا گیا ۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ ان شاخوں پر مشینری کھڑی کر کے فوٹو سیشن بارہا دیکھنے کو ملے ۔ صرف اچ شاخ اور اس کے ساتھ منسلک لنک شاخ کا ہی ذکر کیا جائے تو آج بھی ان شاخوں میں باگڑ اور دربھانی کے مقام پر گھٹنے جتنا پانی بہتا ہے ۔ اسی طرح ٹیمپل شاخ ، جھڈیر شاخ نصیر شاخ ، قیدی ، محبت اور بالان شاخ کی حالت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ جبکہ ان سے بھی زیریں شاخوں تک تو پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہو پاتا۔جبکہ بلوچستان کی اس زرعی پٹی کے ساتھ ناانصافی کا سلسلہ تو پنجاب سے شروع ہو کے سندھ تک جاری رہتا ہے ۔ لیکن ان بنجر ہوتی زمینوں اور بے گھر ہوتے لوگوں کو کون انصاف دلائیگا،کیونکہ یہاں کے رہبروں کی کارکردگی کو دیکھ کر تو بے ساختہ وہ شعریاد آجاتا ہے کہ۔۔۔
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی

مزید خبریں اسی بارے میں

Close