بلوچستان لبریشن فرنٹ نے فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

​کوٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے پاکستانی فوج پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ کل رات سرمچاروں نے ضلع آواران میں پاکستانی فوج کی تیرتیج کیمپ پر خود کار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے قابض فوج کو بھاری نقصان پہنچایا۔ ترجمان نے کہا کہ گزشتہ دنوں پسنی کے ملا ذاکر کا بیان ایک اعترافی بیان ہے جس میں وہ بلوچ نسل کشی میں ملوث پاکستانی فوج کے معاون کار کا اعتراف کر رہے ہیں۔ گوکہ ان کی کرتوتوں کا پورے علاقہ کو اچھی طرح معلوم ہے، مگر سب کچھ اُن کی زبانی نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا ہے۔ ملا ذاکر کا ذکریوں کے خلاف ہرزہ سرائی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، کیونکہ وہ مذہبی تفرقہ پھیلا کر علاقے کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ جب کہ بی ایل ایف نے بہت پہلے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی بلوچ تحریک کے خلاف کام کرے، اُس کا تعلق کسی بھی رنگ و نسل یا گروہ و عقیدے سے ہو، معاف نہیں کیا جائے گا۔ اس ضمن میں ملا ذاکر اپنی حافظہ ٹھیک کرلیں اور ساتھ ہی اپنی انسانیت دشمن کاروائیاں ترک کردیں۔ چھوٹے بچوں کو آرمی کے حوالے کرکے انہیں اسلحہ چلانے کی تربیت در اصل خود کش بمبار بنانے کی تیاریاں ہیں۔ لہٰذا بلوچ عوام اِن کے بہکاوے میں آکراپنے بچوں کو ایسے اشخاص کی زیر تربیت رکھنے سے اجتناب کریں۔ اپنے پُر تضاد بیان میں انہوں نے اپنا اصل چہرہ خود عیان کیا ہے، جس میں ذکریوں کو بھی، جو عام ماہی گیر اور مزدور ہیں، سرنڈر کروانے کا اعتراف کرتے ہیں ۔ حالانکہ اِن کو پاکستانی میڈیا نے سرمچار ظاہر کیا تھا۔ ایسے ہتھکنڈوں و پروپگنڈوں سے بلوچ تحریک آزادی کو کمزور نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا ایسے عناصر خونخوار دشمن کا ساتھ دیکر اپنی دنیا و آخرت تباہ نہ کریں ۔ ہزاروں بلوچوں کے قاتلوں سے ہاتھ ملاکر اُن کیلئے آلہ کار بننے والوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائیگا جو پاکستانی فوج کے ساتھ کیا جا تا ہے۔ گہرام بلوچ نے کہا کہ یہ مولویوں کا وہی گروہ ہے جنہوں نے بنگلہ دیش میں پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر ہزاروں معصوم عورتوں اور بچیوں کو ریپ کرکے حاملہ کیا۔ یہ تاریخ سے عبرت حاصل نہ کرکے ایک دفعہ پھر اُسی درندہ فوج کا ساتھ دے رہے ہیں جس نے پہلے لاکھوں بنگالیوں کا قتل عام کیا۔ آج ملا ذاکر جیسے ملاؤں کو بنگلہ دیشی خصوصی ٹریبونل ان کی کرتوتوں کا سزا دیکر اُن کو سبق سکھا رہی ہے۔ ایسے عناصر کو بلوچ معاشرے میں کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائے گا اور نشان عبرت بنایا جائے گا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close