شام میں بمباری سے 15 بچوں سمیت 51 افراد جاں بحق

دمشق(ریپبلکن نیوز ) شام میں صدر بشارالاسد کی حامی فورسز کی بمباری میں 15 بچوں سمیت 51 شہری جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ امریکی حمایت یافتہ جنگجوئوں نے داعش کے شدت پسندوں کو 48 گھنٹے میں منبج کا علاقہ چھوڑنے کا الٹی میٹم دیدیا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق شامی فورسز نے بمباری ملک کے مختلف علاقوں میں کی جس میں 15 بچوں سمیت 51 شہری جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے، صوبہ حلب کے شمال مغرب میں ہونیوالی بمباری میں 15 شہری مارے گئے، دریں اثنا القاعدہ سے منسلک تنظیم النصرہ فرنٹ نے بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والے 14 افراد کو قتل کردیا، امریکا کے حمایت یافتہ شام کے ایک باغی گروپ نے اپنے ایک جنگجو کے ہاتھوں ایک 12 سالہ لڑکے کا جاسوسی کے الزام میں سرقلم کیے جانے کے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک انفرادی غلطی ہے اور اس کا گروپ کی مجموعی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسری طرف شام میں امریکی حمایت یافتہ جنگجوؤں نے داعش کے شدت پسندوں کو منبج کا علاقہ چھورٹے کیلیے 48 گھنٹے کی مہلت دی ہے، شام کا شمالی علاقہ منبج شدت پسند تنظیم داعش کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، منبج کے علاقے کو گزشتہ ماہ گھیرے میں لے لیا گیا تھا اور فورسز آہستہ آہستہ پیش قدمی کر رہی ہیں، سیریئن ڈیموکریٹک فورسز داعش کیخلاف امریکا کی زیر قیادت فورسز سے منسلک ہیں، یہ تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب اتحادی فورسز کی کارروائی میں مبینہ طور پر درجنوں شہریوں کی ہلاکتوں پر علاقے میں کشیدگی ہے، اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال یونیسف نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ شام میں تنازع کے تمام فریقین کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمے داری سے پاسداری کرنی چاہیے، ادھر برطانیہ نے عراقی اور کرد فورسز کو ٹریننگ دینے کیلیے فوجیوں کی تعداد دگنا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close