ڈیر بگٹی میں کیپٹن سمیت 59 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد ریاستی فورسز پسپا

ریموٹ کنٹرول بم کی زد میں آکر کمانڈنٹ ڈیرہ بگٹی کا جسم بُری طرح جھلس چکا ہے

کوئٹہ/ریپبلکن نیوز) بلوچ ریپبلکن آرمی اور قابض پاکستانی فورسز کے درمیان کئی دنوں سے ڈیرہ بگٹی کے مختلف علاقوں میں جھڑپوں کے بعد ریاستی فورسز کو بُری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بی آر اے اور قابض پنجابی فورسز کے درمیان جھڑپیں اُس وقت شروع ہوئیں جب  12اپریل کو پیرکوہ کے علاقے پتھر نالہ میں فوجی آپریشن میں مصروف ریاستی فورسز کو بی آر اے کے سرمچاروں نے راکٹوں اور دیگر جدید ہتیاروں سے نشانہ بنایا، جس میں فورسز کے چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

جبکہ اسی دن ڈیرہ بگٹی کےعلاقے پاتر میں بی آر اے کے سرمچاروں نے قابض فورسز کی ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔اور ڈیرہ بگٹی کے علاقے بامبور میں عام آبادیوں کے خلاف فوجی آپریشن میں مصروف فوجی اہلکاروں کے ایک گشتی ٹیم کو گھات لگاکر راکٹوں اور دیگر جدید ہتیاروں سے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں دو اہلکار موقع پر ہی ہلاک جبکہ دیگر زخمی ہوئے۔

اگلے دن قابض ریاستی فورسز نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے سنگسیلہ میں فوجی آپریشن شروع کردیا جس میں مصروف فوجی اہلکاروں کے ایک قافلے کو بی آر اے کے سرمچاروں نے ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا۔ اس حملےمیں فورسز کے چار اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ حملے میں ریاستی فورسز کی ایک گاڑی حملے کی زد میں آکر مکمل تباہ ہوئی۔

مزید رپورٹس:

ایک ایسی خاتون جس نے اپنی زندگی بلوچستان میں تعلیم عام کرنے میں لگا دی لیکن!

میری والدہ کو میرے سامنے سرمچاروں نے گولیاں مار کر قتل کیا۔ فرزند جمیلہ بلوچ

13اپریل کو ہی بلوچ ریپبلکن آرمی کے سرمچاروں نے قابض ریاستی فورسز کے ایک قافلے کو ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیرکوہ میں ہن نالہ کے قریب ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا جس میں تین فوجی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ ایک گاڑی مکمل طورپر تباہ ہوا۔

13 اپریل کو ہی دوپہر کے وقت بی آر اے کے سرمچاروں نے ریاستی سرپرستی میں قائم ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے وڈیرہ بلفتی بگٹی کے گاڑی کو سنگسیلہ میں چغڑدی کور کے مقام پر ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا۔ اس حملے میں وڈیرہ بلفتی بگٹی سمیت چار ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے شدید زخمی ہوئے۔

جب 14 اپریل کو ریاستی فورسز نے بامبور  میں بی آر اے کے سرمچاروں کو نشانہ بنانے کے لیے فوجی آپریشن کا اغاز کردیا۔جس کے ردِ عمل میں بی آر اے اور قابض فورسز کے درمیان دو گھنٹوں تک جھڑپیں جاری رہی، جس میں آٹھ اہلکار مارے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔

جبکہ 15اپریل کو بی آر اے کے سرمچاروں نے ریاستی فورسز کو اُس وقت نشانہ بنایا جب وہ فوجی آپریشن کے غرض سے بامبور کے مقامی آبادی کی طرف پیش قدمی کر نے میں مصروف تھے۔ ریاستی اہلکاروں کو گانڈار چُر کے مقام پر محاصرے میں لیکر شدید حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں بھی قابض فورسز کو بھاری جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈیره بگٹی کے علاقے بامبور میں 16 اپریل کو فوجی آپریشن میں مصروف اور بلوچ سرمچاروں کو نشانہ بنانے کے غرض سے فضا میں گردش کرنے والی ریاستی فورسز کے ایک ہیلی کاپٹر کو بلوچ ریپبلکن آرمی اور یونائٹڈ بلوچ آرمی کے سرمچاروں نے مشترکہ حملے کا نشانہ بنایا۔ اس حملے کے باعث ہیلی کاپٹر کو شدید نقصان پہنچا جس کی وجہ سے وہ واپس لوٹ گیا۔

جبکہ اسی دن ڈیرہ بگٹی کے علاقے سنگسیلہ میں چاکر پشت کے مقام پر قابض ریاستی فورسز کے ایک گشتی ٹیم کو بی آر اے کے سرمچاروں نے ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا۔ اس حملے میں فورسز کے تین اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

16 اور 17 اپریل کی درمیانی شب بی آر اے کے سرمچاروں نے قابض ریاستی فورسز کے ایک قافلے کو بامبور میں جانہی کے مقام پر ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا جس کے باعث قابض فورسز کے چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس حملے میں بھی بم کی زد میں آکر فورسز کا ایک گاڑی مکمل تباہ ہوا۔

بلوچ ریپبلکن آرمی کے سرمچاروں نے 19 اپریل کو قبضہ گیر ریاستی فورسز کے قافلوں کو اُس وقت حملوں کا نشانہ بنایا جب وہ فوجی آپریشن کے غرض سے ڈیرہ بگٹی کے علاقے سیاہ آف کے مقامات تیغ کور اور مرید گر کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے فوجی قافلوں کو محاصرے میں لیکر جدید ہتیاروں سے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ جھڑپیں پانچ گھنٹوں سے زائد عرصے تک جاری رہیں جس میں قابض فورسز  کے ایک کیپٹن سمیت گیارہ اہلکار ہلاک جبکہ دیگر متعدد زخمی ہوئے۔ اس حملے میں فورسز کی دو گاڑیاں مکمل طورپر تباہ ہوئیں۔ جبکہ فورسز کی مدد کو آنے والے ہیلی کاپٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

20 اپریل کی صبح بی آر اے کے سرمچاروں نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے سیاہ آف میں نوثی کے مقام پر قبضہ گیر ریاستی فورسز اور ان کے معاونت کار مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے قافلوں کو دو مقامات پر ریموٹ کنٹرول بم حملوں کا نشانہ بنایا۔

ان حملوں میں قابض فورسز کے پانچ اہلکار ہلاک جبکہ دو ریاستی مخبر بھی مارے گئے، اور دو گاڑیاں مکمل طورپر تباہ ہوئیں۔

مزید رپورٹس:

صغیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد میرے گھر والے شدید پریشانی میں مبتلہ ہیں۔ حمیدہ بلوچ

نیشنل پارٹی کی بلوچ کش پالیسیاں ناکافی، ریاستی اداروں کا نئی پارٹی بنانے کا فیصلہ

بلوچ ریپبلکن آرمی کے سرمچاروں نے کل بروزِ ہفتہ قبضہ گیر ریاستی فورسز  کے کانوائے کو ڈیرہ بگٹی کے علاقے سیاہ آف میں تنک کے مقام پر ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بناتے ہوئے چار اہلکاروں کو ہلاک او تین کو زخمی کردیا۔

خیال رہے کہ ڈیرہ بگٹی کے مختلف علاقوں میں ہونے والی ان جھڑپوں میں قبضہ گیر فورسز کے 59 اہلکار مارے گئے ہیں جن  میں ایک کیپٹن اور موڈا گروپ کے دو کارندے بھی شامل ہیں۔

جبکہ ڈیرہ بگٹی کا کمانڈنٹ شدید زخمی حالت میں زیرِ علاج ہے جس کی گاڑی ریموٹ کنٹرول بم حملے کی زد میں آکر مکمل طورپر متاثر ہوا تھا۔ زرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کمانڈنٹ ڈیرہ بگٹی کا جسم بُری طرح جھلس چکا ہے۔

دوسری جانب بلوچ ریپبلکن آرمی نے ریاستی بیانیے کو مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ان حملوں میں فورسز کو بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

بلوچ ریپبلکن آرمی کے کامیاب حملوں کے بعد ریاستی فورسز کو بُری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور قابض فورسز کے اہلکار دوبارہ اپنے کیمپوں میں لوٹ گئے ہیں۔ دوسری جانب بی آر اے کے جانباز بلوچ مادرِ وطن کی دفاع میں اپنے مورچوں پر موجود ہیں۔
نوٹ: اس رپورٹ میں شائع کردہ تمام معلومات بلوچ ریپبلکن آرمی کی جانب سے جاری کردہ بیانات کا مجموعہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close