بلوچ نسل کشی کے خلاف جرمنی میں مظاہرہ کیا گیا۔ بی این ایم

 کوہٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ آج جرمنی کے دارالحکومت برلن میں برلن گیٹ کے سامنے بی این ایم نے بلوچ نسل کشی کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جس میں پمفلٹ تقسیم کئے گئے اور مقامی لوگوں کو پاکستان کی بلوچ کش پالیسیوں کے بارے میں آگاہی دی گئی۔ مظاہرے میں بلوچ ریپبلکن پارٹی (بی آر پی) کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ 

پاکستان بننے کے سات مہینے بعد پاکستانی فوج نے بلوچستان پر چڑھائی کرکے بلوچستان کو زبردستی اپنی ایک کالونی بنایا اور مظالم شروع کئے، جو آج بھی جاری ہیں۔ سات دہائیوں سے جاری مظالم میں لاکھوں بلوچ متاثر ہوئے ہیں۔ 

جرمنی مظاہرے میں شرکاء نے پلے کارڈ اُٹھائے ہوئے تھے، جن پر نعرے اور پاکستانی بربریت کی تصاویرآویزاں تھیں۔ مظاہرین نے نمونے کے طور پر پاکستانی مظالم کی منظر کشی کرتے ہوئے خفیہ اذیت گاہوں میں بند آنکھوں پر پٹیاں اور خون سے لت پت انسانی اجسام کا نقشہ پیش کیا۔ بلوچستان میں گرنے والی مسخ شدہ لاشوں کو بھی نمونے کے طور پر دکھایا گیا۔ بلوچستان میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں کسی بلوچ کو اغوا یا قتل نہ کیا جاتا ہو۔ نئی صدی کے آغاز میں شروع ہونے والی فوجی آپریشن میں اب تک چالیس ہزار بلوچ غائب کئے جاچکے ہیں اور پانچ ہزار دوران حراست تشدد میں شہید کئے جاچکے ہیں۔ دس لاکھ بلوچ فوجی آپزیشنوں سے تنگ آکر نقل مکانی پر مجبور کئے جا چکے ہیں۔ 

نام نہاد ترقی اور چین پاکستان اقتصادی رہداری منصوبے کی معاہدات کے بعد ان آپریشنوں میں نہایت شدت لائی گئی اور اس منصوبے کی راہ میں آنے والی دیہات وگاؤں بمباری و زمینی آپریشن سے تناہ کئے جا چکے ہیں۔ آج سوشل میڈیا میں Baloch Genocide کے ہشٹیگ سے ایک آن لائن کمپئین بھی چلائی گئی ، جس میں دنیا بھر میں لوگوں نے شرکت کی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close