ڈیرہ بگٹی اور جھاؤ سے مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی نسل کشی کی پالیسیوں کا تسلسل ہیں۔بی ایس او آزاد

کوہٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزادکے مرکزی ترجمان نے بلوچستان بھر میں جاری فورسز کی کاروائیوں کے دوران نہتے لوگوں کی گرفتاری و شہادت اور ڈیرہ بگٹی سے اجتماعی قبروں کی برآمدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ کاروائیوں کے دوران بلوچستان بھر سے کم از کم 100سے زائد افراد گرفتار اور ایک درجن کے قریب کو اغواء کے بعد شہید کیا جا چکا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی سے برآمد ہونے والی اجتماعی قبر سے چار لوگوں کی کی لاشیں برآمد ہوئیں جن میں خواتین بھی شامل تھے۔ اس طرح کے دل دہلا دینے والے واقعات بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر رونما ہورہے ہیں۔ بلوچستان کے علاقے جھاؤ میں گزشتہ کئی دنوں کی آپریشن کے دوران درجنوں گھروں کو جلایا جا چکا ہے، سینکڑوں افراد کو اغواء کرنے کے بعد تین مغویوں عمر بلوچ، موسیٰ بلوچ اور ایک نوجوان کی لاشیں فورسز نے پھینک دیں جنہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ فورسز نہتے بلوچوں کو اُنکی کھیتوں، گھروں اور راستے میں اغواء کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور ان کی لاشیں پھینکنے میں ملوث ہیں۔ بی ایس او آزاد کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ ریاستی فورسز نہتے لوگوں کو شہید کرکے میڈیا میں انہیں مقابلے میں مارنے کا جھوٹا دعویٰ کرتی ہے، ریاستی میڈیا فورسز کے کنٹرول میں ہے اس لئے بلوچستان کی صورت حال کو فورسز اپنی مرضی کا رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ عالمی میڈیا کی زمہ داری ہے کہ وہ بلوچستان میں فورسز کی بربریت کو ظاہر کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے۔ بی ایس او آزاد نے نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کے تسلسل کو نسل کشی کی پالیسیوں کی کھڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تربت شہر سمیت بلوچستان کے دیہی اور شہری علاقوں سے نوجوان طبقے کو اٹھانے کا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری ہے۔ تربت شہر سے مختصر مدت کے دوران کم از کم 12نوجوانوں کو فورسز نے اٹھا کرلاپتہ کردیا ہے، ان تمام لوگوں کا تعلق اسٹوڈنٹس اور ٹیچر طبقے سے تھا۔ بلوچ معاشرے کے طلباء و ٹیچرز کو ڈرا و دھمکا کر اور اغواء کرکے ریاستی فورسز ایک خطرناک پالیسی اختیار کرچکے ہیں۔ جس کے منفی اثرات ہر صورت میں بلوچ مستقبل پرپڑیں گے۔ ترجمان نے زمہ دار اداروں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچ نسل کشی،اسٹوڈنٹس و اساتذہ کی اغواء نما گرفتاری اور ریاستی طاقت کے بے رحمانہ استعمال کو روکنے اور لاپتہ افراد کی بہ حفاظت بازیابی کے لئے اپنا کردار ادا کریں

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker