پرانے کھیل کے نئے چہرے

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچستان میں جاری جنگ آزادی کو منزل سے ہمکنار کرنے کیلئے بلوچ قوم کے تمام مقطب فکر سے تعلق رکھنے والے باشعور اور باہمت نوجوانوں نے اپنی جانیں دیں اور مزید قربانیوں کیلئے شعوری طور پر تیار ہیں۔ ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی جیسےبزرگ اور قدآور شخص نے اس قوم کو اندھیروں سے نکالنے کیلئے اپنی پوری زندگی عملی طور پر جدوجہد کیں اور آخر میں نئی نسل کو جگانے کیلئے اور ان میں شعور کی بیداری کیلئے ضعیف العمری میں پہاڑوں کو اپنا مسکن بنایا اور اپنی آخری سانس تک بندوق ہاتھ میں لیئے ریاست کو احساس دلاتا رہا کہ یہ قوم زندہ قوم ہے اور ہم اپنے حق کیلئے مرنے اور مارنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

بلوچستان یا پاکستان میں شاید ہی ایسا کوئی شخص ہو جو ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی کی زندگی اور سیاست کے بابت علم نہ رکھتا ہو پاکستان میں جب بھی کوئی حکومت اقتدار سنبھالتی ہے اس کا پہلا دورہ ڈیرہ بگٹی میں ہوا کرتا تھا جہاں وزیر عظیم کے محافظ بگٹی قلعہ کے قوانین کے مطابق اپنے ہتھیار قلعہ کے گیٹ پر قائم چیک پوائنٹ پر جمع کراتے پھر انہیں باعزت طریقے سے ملاقات کیلئے لے جایا جاتا۔ آسان الفاظ میں بس اتنا کہ نصف سے زائد بلوچستان میں ریاست کا محض سکہ چلتا تھا عملاََ حکومت شہید نواب بگٹی کی تھی لیکن جب جلسہ، جلوسوں اور پرمن راستے بند کئیے گئے تو آپ نے سب سے پہلے مزاحمت کا اعلان کیا اور باقائدہ عملی مزاحمت کا آغاز کردیا۔

مزید مضامین:

بلوچ یوٹیوبر انیتا جلیل اور برطانوی خاتون ایوا سو بیک کی حقیقت

آزادی حاصل کرنے والے چار خوش نصیب و بدنصیب ممالک اور بلوچستان

قومی آزادی پسند جہدکار کی پہچان اور ذمہ داریاں

شہید نوابزادہ بالاچ خان مری بھی اگر چاہتے تو نوابی زندگی گزار سکتے تھے مگر انہوں نے بھی غلامی کی آسائشوں سے اور نوابی کی زندگی سے کوہستان مری کے چٹانوں پر زندگی بسر کرنے پر فوقیت دی تاکہ آنے والے نسلوں کا مستقبل روشن ہو۔

قبائل کی ریاست کو ٹکر دینے کی صلاحیت رکھنے اور ان کے سربراہان کی اپنے قوم کے خاطر سب کچھ تیاگنے کی ڈر سے ریاست ہمیشہ سے تین سرداروں کو اپنے لئیے سب سے بڑا چیلنج سمجھتی رہی اور ان کے خلاف مختلف محاذ پر ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئیے تاکہ انہیں راستے سے ہٹا دیا جائے یا انہیں لوگوں کے نظروں میں مشکوک بنا دیا جائے۔

اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے ریاست نے رازق بگٹی، ڈاکٹر مالک، کہور خان، ہزار خان مری وغیرہ جیسے لوگوں کو استعمال کیا اور وقتی طور پر کچھ حد تک اپنے مقصد میں کامیاب رہا جن کی باقیات شاید موجودہ تحریک میں بھی شامل دکھائی دے رہے ہیں۔

جبکہ ریاست کا وہی پرانا اور گھساپٹا نعرہ اب شاید ریاست کے ان مہروں کے زیر استعمال ہے جو کہ مختلف شکلوں میں بلوچستان میں جاری تحریک میں شامل ہوگئے ہیں جن کے ماضی اور حال کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کس نے کیا کھویا کیا پایا، سرداروں کے پہلے کی زندگی عیش عشرت میں رہی ہے یا اب، ان کی مہاجروں کی زندگی اور اُن لوگوں کی زندگی کا جائزہ لینا ضروری ہے جو کہ سرداروں کو اس تحریک کی کامیابی کیلئے رکاوٹ سمجھتے ہیں کہ آیا کل جو کوئی ڈرائیور تھاکوئی اخبار فروش، کوئی کسی کلینک کا کمپاوُڈر ہوا کرتا تھا آج ان کی زندگیوں میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئے ہیں تب کافی معاملات کچھ تک وضع ضرور ہونگے اور تب یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ سرداروں کو رکاوٹ بنا کر پیش کرنے کے پھیچے کیا مقاصد کارفرما ہیں۔ واضح رہے کہ یہاں ان سرداروں کی بات ہورہی ہے جو کہ بلوچستان میں کسی بھی تحریکوں کا حصہ رہے ہوں۔

موجودہ حالات میں بھی ریاست کے ہتھکنڈے وہی پرانے ہیں محض چہرے تبدیل ہوئے ہے حالیہ کچھ عرصے سےپاکستانی عسکری حکام اور ان کے مقامی گماشتے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بلوچستان میں سرگرم مزاحمتی تنظیموں کی اعلیٰ  قیادت کو الگ تلگ کر کے دوسرے نمبر کی لیڈر شب پر اپنی پہنچ بنائے تاکہ مسلح مزاحمت کو کمزور اور تقسیم کر سکے، یہی جھلک گزشتہ روز کوئٹہ میں ایک تقریب میں بھی دیکھی گئی جس میں سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی، نوابزادہ چنگیز مری اور چند فوجی جرنیل بطور مہمان خاص موجود تھے۔

تقریب افغانستان سے بی ایل اے کی نئی بننے والےدھڑے کے کچھ کمانڈروں کے سرینڈر ہونے کے حوالے سے منعقد کی گئی تھی جہاں میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے چنگیز مری، سرفراز بگٹی اور ایک کرنل نے کہا کہ “مزاحمتی تنظیموں کے اعلیٰ قیادت کو چھوڑ کر دوسرے نمبر پر جو لیڈر شپ موجود ہے ان تک رسائی میں ہم کامیاب ہوگئے ہیں۔”

سرکار اور اس کے کاسہ لیسوں کے اس بات پر اگر تھوڑا غورو فکر کیا جائے تو پھر کچھ حقائق ہمارے سامنے واضح ہوجاتے ہیں،  پہلے بی ایل اے کی دوسرے نمبر کی لیڈر شب کی بغاوت، اسی طرح اس دھڑے کی دن رات کوششوں کے باوجود بی آر اے کے دوسرے سطح کی لیڈر شپ کو توڑنے کی ناکام کوشش اور پھر ناکامی کی صورت میں ایک بیمار بندے کو اس دوسرے لیڈر شب کا درجہ دینا، یہی کوشش اب بی ایل ایف کے خلاف جاری ہیں ۔

ایسے کوششوں کو ناکام کرنے کیلئےبلوچ مسلح مزاحمت میں سرگرم تمام مخلص ساتھیوں کو اپنی زمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ایسے تمام جنگی منافہ خوروں اور ان لوگوں کو جو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ہزاروں شہدا کے خون سے کھیل رہے ہیں اور ان کے خون کو بطور کاروبار چلا رہے ہیں اس قوم کی آنے والی نسلوں کا مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر جہد کار کو شیطانی زہنیت رکھنے والے لوگوں کا کھڑا احتساب کرنا چایئے۔

تحریر: مرید بگٹی

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close