کراچی کے تعلیمی اداروں کو بلوچ طلبا ء کیلئے نوگوایراہ بنایا جارہا ہے ۔ بی ایچ آر او

پ ر(ریپبلکن نیوز)​بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں گذشتہ روز کراچی یونیورسٹی سے خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغواہ ہونے والے طالب علم صغیر احمد ولد غلام قادر کے جبری گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے نوجوان طالب علم کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔ ترجمان نے کہا کہ گذشتہ روز 20نومبر شام پانچ بجے کے وقت کراچی یونیورسٹی کے وی ایس کینٹین سے ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے بی ایس پولیٹیکل سائنس کا طالب علم صغیر احمد کو جبری طور پر اغوہ کرکے لاپتہ کردیا اس واقع کے عینی شاہدین کینٹین میں بیٹھے طلباء طالبات اور صغیر کے دوست ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق صغیر احمد اپنے امتحانی پرچہ دینے کے بعد وی ایس کینٹین میں بیٹھے ہوئے تھے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے آتے ہی صغیر احمد کو زبردستی وائٹ کرولا کار میں بیٹھا کر اپنے ساتھ لئے گئے ، 24گھنٹہ گزرنے کے باجود اس کے بارے خاندان والوں کو کوئی معلومات فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کو کسی تھانے میں پیش کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ ریاستی ادارے ماروائے عدالت گرفتاریوں کے سلسلے میں کمی لانے کے بجائے اسے مزید طول دے رہے ہیں ، بلوچ طلباء کیلئے بلوچستان کے تعلیمی ادارے نوگوایراہ بنائے گئے لیکن اب کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر کے تعلیمی اداروں کو بلوچ طلبا ء کیلئے نوگوایراہ بنایا جارہا ہے۔28اکتوبر کو بی ایچ آرو کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات نواز عطا ء جو شعبہ بین القوامی تعلقات کے طالب علم تھے کو آٹھ دیگر کمسن بچوں و نوجوان طالب علموں سمیت گرفتار کرکے لاپتہ ؤ کیا گیا ، نواز عطا انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور طالب علم ہے تاحال نہ ان کو کسی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کے بارے میں خاندان والوں کو کوئی معلومات دی جارہی ہے۔جبکہ 15نومبر کو بی ایس او آزاد کے مرکزی سیکریٹری جنرل ثنااللہ کو ان کے تنظیم کے دو مرکزی کمیٹی کے ممبران حسام بلوچ اور نصیر احمد سمیت بی این ایم کے ممبر رفیق بلوچ کے ہمراہ گرفتارکرکے لاپتہ کردیا جو کہ نوجوان طالب علم اور طلباء رہنماء تھے ان کے بارے میں بھی کوئی معلومات نہیں دی جارہی ہے۔
گذشتہ روزنوجوان طالب علم صغیر احمد کو کراچی یونیورسٹی کے مین کیمپس سے اغواہ کر کے لاپتہ کردیا ، کراچی یونیورسٹی کا شمار ملک کے انتائی اہم اور بڑے تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے کراچی یونیورسٹی سے اس طرح بلوچ طالب علم کو گرفتار کرکے لاپتہ کرنا انتائی تشویشناک صورتحال ہے۔صغیر احمد ایک نوجوان طالب علم تھے ان کے کسی بھی قسم کے سیاسی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی ان پر کسی قسم کے الزمات عائد تھے۔ جس طرح ریاستی اداروں نے کسی شک یا غلط معلومات کے بنیاد پر صغیر احمد کوغیر قانونی اور غیر آئینی طریقے سے اغواہ کرکے لاپتہ کردیا یہ خود پاکستان کے آئین و قانون کے سنگین خلاف ورزی ہے۔
ہم سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ نوجوان طالب علم صغیر احمد کے اس طرح غیر قانونی و غیر آئینی طریقے سے اغواہ نما گرفتاری کا از خود کو نوٹس لیکر اْس کی بازیابی میں کردار ادا کرکے اپنے فرائض سے انصاف کریں۔صغیر احمد کے جبری گمشدگی سے اس کے خاندان شدید کرب میں مبتلا ہے ، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان و دیگر انسانی حقوق کے تنظیمیں نوجوان طالب علم کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close