شام میں خونریزی جاری، متعدد ہلاک

دمشق (ریپبلکن نیوز) شام میں ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ حلب میں حکومتی زیرِ اختیار علاقے میں باغیوں کی جانب سے ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں سات بچے اور ایک خاتون ہلاک ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے صنا کے مطابق حملے میں کم سے کم 32 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر کئی دن سے جاری بمباری کے بعد کیا گیا ہے۔ اتوار کو اقوامِ متحدہ کے ایلچی سٹیفن ڈی مستورا نے تجویز دی تھی کہ حکومت شہر کے ان حصوں کو خود مختاری دے دے جن پر باغیوں کا قبضہ ہے تاہم شامی حکومت نے اسے مسترد کر دیا۔ ڈی مستورا نے اس ہفتے کے اوائل میں امن معاہدے کے لیے کوششوں کے سلسلے میں دمشق گئے تھے اور انھوں نے باغیوں کی ایک خودمختار انتظامیہ کے قیام کی تجویز دی تھی۔ تاہم شام کے وزیرِ خارجہ ولید معلم نے ان کی تجویز کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا ’اس خیال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔ یہ ہماری سالمیت کے خلاف ہے‘۔ خدشہ ہے کہ حلب کی لڑائی کے باعث 275000 افراد محصور ہیں جنہیں عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہسپتال کی سہولت میسر نہیں ہے۔ برطانیہ میں موجود انسانی حقوق کے نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ منگل سے شروع ہونے والی بمباری میں اب تک 103 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ شام میں وائٹ ہیلمٹ کے نام سے پہچانے جانے والے شہری دفاع کے ادارے کے مطابق صرف ایک سنیچر کے روز ہی کم سے کم 108 فضائی حملے کیے گئے۔ ان کے مطابق یہ حملے اتواد کو بھی جاری رہے جن کے دوران الشکور ضلعے میں بیرل بم پھینکے گئے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close