بلوچستان کے طول و عرض میں آپریشن میں تیزی لائی گئی ہے. بی این ایم

​کوہٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ مقبوضہ بلوچستان کے طول و عرض میں ریاستی فوجی جارحیت میں آئے دن تیزی لائی جا رہی ہے ۔ گزشتہ کئی روز سے آواران ، مشکے وگیشکور میں پاکستانی فوج کی زمینی نقل و حرکت میں اضافہ کے ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹروں و جنگی جہازوں کی نیچی پروازوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔جو ایک اور خونی آپریشن کا عندیہ دے رہے ہیں۔ دو دنوں میں مشکے سے دو افراد دکاندار حسن ولد دینار کو گجر بازار اور عرض محمد ولد اللہ بخش کو مشکے مندیل سے فورسز نے اُٹھا کر لاپتہ کیاہے۔ 20 جولائی کو فورسز نے پسنی سے کئی افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا ۔ واضح رہے کہ وفاق پرست تنظیموں کے ایجنٹوں سمیت مذہبی دہشت گرد بھی پسنی ،گوادر و دیگر علاقوں میں سرگرم ہیں اور بلوچ عوام میں خوف پھیلا رہے ہیں۔ اور لوگوں کو بلوچ جہد آزادی کے خلاف اُکسا رہے ہیں ۔ ملا ذاکر نامی شخص اپنے دیگر ہمنواؤں کے ساتھ عوام کو حراساں کر کے پاکستانی آرمی کیمپ لے جانے میں پیش پیش ہے،جسکے تانے بانے داعش اور جماعت الدعوہ جیسے عالمی دہشت گرد تنظیموں سے ملتے ہیں۔جس کی مثال و ثبوت حزب المجاہدین جیسے مذہبی شدت پسند کے کارندے کی ہلاکت پر ان عناصر کا احتجاج ہے۔ اس احتجاج میں انہیں براہ رست ریاست کی معاونت حاصل ہے، کیونکہ اِن کے آقا و عالمی مطلوب تنظیم جماعت الدعویٰ نے بھی راولپنڈی تا اسلام آباد کشمیر کاروان کے نام پر اس شدت پسند کی ہلاکت پر احتجاج کیا تھا۔ آزادی ہر قوم کا حق ہے مگر اِسے اُسی سرزمین کے لوگ مانگیں اور جد وجہد کریں ۔ جو بلوچ قوم بلوچستان میں اپنے بل بوتے پر کر رہی ہے۔ کوئی غیر باہر سے آکر بلوچ کی جنگ نہیں لڑ رہا ہے۔ جیسے حافظ سعید جیسے دہشت گرد اسلام آباد میں کشمیر جہاد کا درس دیتے ہیں، بلوچ اِس سے مبرا ہے۔ کشمیر آزادی کے نام پر راولپنڈی میں دوسرے ملکوں کے خلاف ’’ الجہاد ‘‘ کا نعرہ پاکستان اور اس کے پالے ہوئے تنظیموں کو دہشت گرد قرار دلوانے میں کافی ہیں ۔ یہی جماعتیں بلوچ نسل کشی پر نہ صرف آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں بلکہ ریاستی فوج کے ساتھ معاون کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہی ریاست جس کے ہاتھ ہزاروں بلوچوں کے خون سے رنگے ہیں۔ اس ریاست کی حمایت کرنا اسلامی تعلیمات کے برخلاف ہے۔ جو بلوچ علماء اپنے آپ کو ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والے سمجھتے ہیں تو اُنہیں سب سے پہلے اپنے ہی سرزمین پر ہونے والی مظالم اور قبضے کے خلاف آواز بلند کرنا چاہئے۔ دوسری طرف بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری کا کشمیری جدو جہد کا بلوچستان سے موازنہ اور بلوچوں کو دہشت گرد کہلانااُن میں عقل و فہم کی کمی اور تاریخ سے بابلدی کی ثبوت ہے۔ بقول ثناء اللہ کشمیری ملک میں رہ کر جد و جہد کررہے ہیں، تو انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ بی این ایم اور دوسری آزادی پسند جماعتوں کی رہنما بھی بلوچستان اور بلوچستان سے باہر بھی جد وجہد کررہے ہیں ۔ ہم چونکہ ایک دہشت گرد ملک میں غلام ہیں ، اسی لئے ہمیں کھلے عام مارا جاتا ہے اور اپیل کا حق بھی نہیں دیا جاتا۔ اس کے بہ نسبت بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور کشمیری رہنماؤں کو مظاہرے، علاج اور بیرون ملک سفر کی اجازت دے رکھی ہے۔ یہاں غلام محمد اور ڈاکٹر منان جیسے رہنما ریاست کے ہاتھوں سر بازار قتل کئے جاتے ہیں۔ جبکہ کشمیر ی لیڈروں کو احتجاج اور زندہ رہنے کا حق بھی دیا گیا ہے۔ کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ ثناء اللہ کوئی بات کرنے سے پہلے نوشتہ دیوار پڑھ لیں ۔

پیر کے روز تمپ کے کئی علاقوں میں فوجی دہشت گردی جاری رہی جس کے نتیجے میں کئی افراد کو لاپتہ کیا گیا۔بیس جولائی کو تمپ سے قابض پاکستانی فورسز نے عدنان ولد نزیر، ثنا اللہ ولد عثمان ، حنیف، دُر محمد، محمد جان اور زاہد، 19 جولائی کو تمپ کے علاقے ملانٹ سے صدیق، مشال ولد صدیق، محمدجان ولد گل محمد اور کیپٹن فضل سمیت کئی افراد کو اُٹھا کر لاپتہ کیا۔ 17 جولائی کو پنجگور کے کئی علاقوں میں فورسز نے آبادیوں کو نشانہ بنایا اور حسب معمول انکو مزاحمت کاروں کے کیمپ ظاہر کیے ،اور تین افراد کو لاپتہ بھی کیا گیا۔سولہ جولائی کو کوئٹہ سے لاپتہ کئے گئے عابد بنگلزئی ولد فتح خان کی مسخ شدہ لاش آج برآمد ہوئی ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close