تباہ حال بلوچستان کے خطرے سے دوچار انواع , تحریر: ساجد حسین , ترجمہ: لطیف بلیدی

میں نے ایک بار تلور کا گوشت چکھا تھا۔ 15 مارچ 2015ء کو ابوظہبی کے ایک بااثر شیخ کے شاہی محل میں۔ دراصل، محل میں نوکروں کے کوارٹرز میں۔
پاکستانی پاسپورٹ مجھے راس نہیں آتا۔ اب تک میں نے ان میں سے دو گم کیے ہیں۔ ابو ظہبی میں پاکستان سفارتخانے میں نئے پاسپورٹ کیلئے درخواست دینے کے بعد میرے ایک دوست نے پوچھا کہ تم عربوں کا شاہی کھانا چکھنا چاہو گے۔ وہ ایک بلوچ کو جانتا تھا جو کئی عشروں سے شیخ کے محل میں باورچی کے طور پر کام کر رہا ہے۔ میرے جواب کا انتظار کیے بغیر انہوں نے اس باورچی کو فون کیا کہ ہمارے لئے دوپہر کا کھانا تیار کرلے۔
اگرچہ، کئی سال گھر سے دور گزارنے کے بعد فرقت وطن میں ایک ایسا میلان ہے جس سے آپ کو وہ سب کچھ بھا جاتا ہے جو وطن سے آیا ہوا ہو۔ مجھے تلور کا سخت گوشت اور بدبودار ذائقہ بالکل پسند نہیں آیا۔ حتیٰ کہ ایک نوالا بھی نہیں۔
جی ہاں، یہ گوشت بلوچستان سے آیا تھا۔ دراصل، میرے آبائی ضلع کیچ سے۔
ان پرندوں کا شکار کرنے کیلئے شیخ نے وہاں سے کیچ تک کا سفر کیا جو بلوچ علیحدگی پسندوں اور پاکستانی فوج کے درمیان جنگ زدہ علاقہ ہے۔
عمر رسیدہ باورچی نے ہم سے سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ، ’’تمہیں پتہ ہے کہ انہیں بلوچ سرمچاروں (بلوچ علیحدگی پسندوں کیلئے ایک حسن تعبیر) نے دو دن تک پکڑ کر رکھا تھا۔‘‘
میں نے پہلے ہی سے کچھ دن قبل اس طرح کی افواہوں کے بارے میں سنا تھا، لیکن ان پر یقین نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ہو سکتا ہے باورچی نے میرے شکوک و شبہات بھانپ لیے تھے۔
’’میرا بیٹا ان کے ساتھ تھا۔ پکی بات ہے،‘‘ اس کی سرگوشی اس بار اور زیادہ دھیمی تھی۔
وہ صحیح کہہ رہا تھا۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)، ایک علیحدگی پسند عسکریت پسند تنظیم جسے اس علاقے کے بڑے حصوں پر کنٹرول حاصل ہے، نے مجھ سے بعد میں اس واقعے کی تصدیق بھی کی۔
بی ایل ایف کے ایک عسکریت پسند، جو اس کارروائی میں شامل تھا، نے بتایا کہ ’’جی ہاں، ہم نے ان کے قافلے کو روکنے کا اشارہ کیا لیکن انہوں نے رفتار بڑھا دی۔ تو ہم نے فائر کھول دیا اور وہ رک گئے۔ ہم نے انہیں شیخ سمیت پکڑ لیا اور اپنے کیمپ میں لے گئے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ ہم نے انہیں دوبارہ نہ آنے کیلئے خبردار کیا اور انہیں چھوڑ دیا۔‘‘
صرف یہی ہوا تھا؟ کوئی تاوان کی رقم نہیں لی؟ بہر صورت ابو ظہبی کا کوئی شاہی شیخ اپنی رہائی کیلئے لاکھوں ڈالر ادا کر سکتا تھا۔
انہوں نے کہا، ’’نہیں۔ ہمیں ہمارے سرکردہ کمانڈروں کے احکامات موصول ہوئے کہ ایک انتباہ کیساتھ انہیں چھوڑ دو۔‘‘
لیکن ایک سال قبل بی ایل ایف نے قطر کے ایک شیخ کے قافلے کو پکڑا، وہ بھی اسی علاقے کے ارد گرد انہی پرندوں کے ایک شکاری مہم پر تھے۔ انہوں نے شیخ کو آزاد کرنے سے قبل ان کے آٹھ کروڑ روپے اور چار نئی ایس یو وی گاڑیاں ضبط کر لیں۔ یہ رقم پیسوں کی تنگی سے دوچار بی ایل ایف کی بقاء کیلئے کلیدی حیثیت رکھتی تھی جس نے حال ہی میں وسائل سے بھرپور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے اپنی راہیں جدا کی تھیں۔
تلور خطرے سے دوچار ایک پرندہ ہے اور اگر عرب بازدار اور شکاری ان کی زندگیاں اسی طرح خطرے میں ڈالتے، انہیں مارتے اور اپنی جنسی ہوس مٹانے کیلئے انہیں کھاتے رہے تو ان کے معدوم ہونے کا خدشہ ہے۔ لیکن حتیٰ کہ بلوچستان کے آثار قدیمہ کے مقامات پر بے جان مورتیوں کو بھی معدومیت کا سامنا ہے۔
ہزاروں سال پرانے شہر مہر گڑھ کی آبادی کافی عرصہ قبل معدوم ہوچکی ہے۔ لیکن اس تاریخی مقام کی باقیات، حتیٰ کہ اس کے کھنڈرات کی اینٹیں بھی، جلد ہی ناپید ہونے جا رہی ہیں۔ کوئٹہ کے مصروف جناح روڈ پر ایک بازار ہے جہاں دکاندار خریداروں کو ان نوادرات، جو وہ بیچ رہے ہیں، کے بارے میں بڑے فخریہ انداز میں بتاتے ہیں کہ یہ مہر گڑھ کے آثار قدیمہ کے مقام سے ملی ہیں۔ مگر آپ اصلی اور نقلی کے بابت خود ہی جان سکتے ہیں۔ میں مہرگڑھ کے اصلی نوادرات خریدنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا اسلئے میں نے ایک نقلی خریدا۔
اسی سال 2008ء میں، جب میں نے مہر گڑھ کا ایک نقلی نوادر خریدا اور گم کردیا، کچھی سے کوئٹہ واپس آتے ہوئے میں نے مہرگڑھ کے کھنڈرات کا دورہ کرنے کی کوشش کی۔ ڈھاڈر، یہ بھی مرکزی بلوچستان میں ایک تاریخی شہر ہے جہاں میر چاکر خان نے پندرہویں صدی عیسوی میں پہلی بلوچ کنفیڈریسی قائم کی تھی، پہنچنے پر ڈرائیور نے ان کھنڈرات کے قصبے کی جانب جانے والی ایک کچی سڑک کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے بڑے پرجوش انداز میں اس سے اس راستے پر جانے کا کہا۔ اس کی آنکھیں اپنے چشم خانوں سے تقریباً باہر آگئیں کہ گویا میں نے اس پر کوئی بندوق تان لی ہو۔
اس نے مجھ قریب قریب ڈانٹتے ہوئے کہا، ’’ وہاں جانا بہت خطرناک ہے۔ رئیسانی اور رند قبائل کے مسلح افراد علاقے میں کسی نامعلوم شخص کے داخلے پر اس پر فائرنگ کرسکتے ہیں۔‘‘
رئیسانی اور رند، اس علاقے کے دو سب سے زیادہ طاقتور قبائل، طویل عرصے سے مہرگڑھ کے قصبے پر قبضے کیلئے لڑ رہے ہیں۔ جب یار محمد رند حکومت میں ہوں تو یہ علاقہ ان کے پاس چلا جاتا ہے۔ جب اسلم رئیسانی پچھلی بار وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے قصبے کا کنٹرول سنبھال لیا۔
ان کے مسلح افراد کھدائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں کوئی بھی چیز مل جائے وہ اسے کسی آمادہ گاہک کو بیچ دیتے ہیں۔ کبھی کبھار یہ گاہک جناح روڈ کوئٹہ کا کوئی دکاندار ہوتا ہے اور کبھی کبھار یہ آثار قدیمہ کے نوادرات کا کوئی بین الاقوامی سمگلر، یہ اس چیز کی قدرو قیمت پر منحصر ہے۔
سن 2000ء میں بلوچستان سے پائے گئے سونے کی تختی سے مزین ایک حنوط شدہ شہزادی کو بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں 11 ملین ڈالر کے عوض فروخت کرنے کی کوشش کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ایران اور پاکستان کے درمیان اس کی ملکیت پر تقریباً ایک دوبہ دو مبارزت ہوئی تھی۔ بعد ازاں عبدالستار ایدھی، ایک مشہور پاکستانی خیراتی کارکن، نے اسے مناسب اسلامی رسومات کیساتھ دفنا دیا چونکہ ماہرین نے اسے جعلی ممی (حنوط شدہ لاش) قرار دیا تھا۔
لیکن مکران کے خطے میں پھیلے دمبوں (پتھر کے بڑے بلاکس کے نیچے چھپے آثار قدیمہ کے مقامات) میں پائی گئی سینکڑوں حنوط شدہ لاشیں اور دیگر نوادرات جعلی نہیں تھیں۔ جیسا کہ مکران کوئی قبائلی خطہ نہیں ہے اسی لئے کوئی بھی اپنے چند بیروزگار دوستوں اور بیلچوں کیساتھ انہیں کھودتے ہیں اور جو کچھ بھی انہیں مل جائے وہ اسے بیچ دیتے ہیں۔ ان میں سے کسی کو کبھی بھی پاکستان کی حکومت نے گرفتار نہیں کیا اور نہ ہی بلوچ علیحدگی پسند قوم پرستوں نے انہیں روکا جو ان کے ورثے کے تحفظ کی جدوجہد کا دعویٰ کرتے ہیں۔
لندن میں مقیم بلوچ نیشنل موومنٹ کے بین الاقوامی ترجمان ہمّل حیدر نے کہا کہ، ’’جب تک کہ ہماری اپنی ریاست نہ ہو ہم اپنے وسائل اور ورثے کی اس لوٹ مار کو نہیں روک سکتے۔ آپ خطرے سے دوچار انواع کی بات کرتے ہیں؟ بلوچ خطرے سے دوچار انواع میں سے ایک ہے۔ عرب کبھی کبھار ہمارے پرندوں کا شکار کرنے آتے ہیں۔ پاکستان آرمی روزانہ کی بنیاد پر بلوچ عوام کا شکار کررہی ہے۔‘‘
بلوچی میں مہرگڑھ کا مطلب ’’محبت کی پناہ گاہ‘‘ (مہر یعنی محبت اور گڑھ یعنی پناہ گاہ) ہے۔ مہر گڑھ کے بغل میں ایک اور قصبہ واقع ہے۔ اسے زورگڑھ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ’’نفرت کی پناہ گاہ‘‘ ہے۔ اور اسے اب تک تباہ نہیں کیا گیا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close