اربوں سال قبل مریخ پر سونامی آئے: تحقیق

160519210805__89740942_water_on_mars

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ان کو سیٹیلائٹ سے ملی معلومات سے شواہد ملے ہیں کہ مریخ کی سطح پر دو بڑے سونامی آئے۔

امریکی ٹیم کا کہنا ہے کہ سیارچے یا دمدار ستارے کا پانی میں گرنے سے سونامی آئی۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعات تین بلین سال قبل پیش آئے ہوں گے جب سیارے پر پانی بھی تھا اور گرم بھی تھا۔

موجودہ مریخ خشک اور انتہائی سرد ہے اور سیارچے یا دمدار ستارے کے ٹکرانے سے صرف گڑھا ہی پڑ سکتا ہے سونامی نہیں آ سکتی۔

سائنسدانوں کا یہ کئی عرصے سے کہنا ہے کہ مریخ کے جنوبی علاقے کی ہمدار سطح پر سمندر ہونے کے امکانات قوی ہیں۔

تاہم اس میں ایک مسئلہ یہ تھا کہ اس خیال کے حوالے سے کوئی شواہد نہیں مل پائے جیسے کہ ساحل کے نشانات جو کہ اس خیال کو تقویت دے سکے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر سونامی آیے تو وقت کے ساتھ ساتھ ساحل کی نشانیاں ختم ہو سکتی ہیں۔

160519210805__89740592_image_1

ایریزونا کے پلینیٹری سائنس انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر ایلکسس پامیرو کا کہنا ہے ’اس تحقیق کے مضمرات یہ ہیں کہ سونامی آنے کے لیے مریخ پر سمندر ہونا ضروری ہے۔ اس لیے مریخ پر سمندر ہونے کے قیاس کے حوالے سے غیر یقینی کافی حد تک ختم ہو گئی ہے۔‘

ڈاکٹر ایلکسس پامیرو اور ان کی ٹیم کی سونامی کے بارے میں تحقیق سائنٹفک رپورٹس جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close