ایران میں بہائی رہنما سے ملاقات کے بعد سیاسی طوفان

160204145844_faezeh_hashemi_512x288_tasnim_nocredit

سابق ایرانی صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کی بیٹی کی بہائی مذہب کی ایک رہنما خاتون کے ساتھ ملاقات کی خبروں کے بعد ایران میں سیاسی طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

قدامت پسند رہنماؤں نے فائزہ ہاشمی کی فریبا کمال آبادی سے ملاقات پر تنقید کی ہے جو جیل سے عارضی رہائی پانے کے بعد اپنے نومولود پوتے کو دیکھنے آئی تھیں۔

ایران کی مذہبی اشرافیہ 19ویں صدی میں قائم ہونے والے بہائی مذہب کے ماننے والوں کو غیرمسلم قرار دیتی ہے۔ ایران میں بہائیوں کی تعداد تین لاکھ کے قریب ہے، تاہم ان پر اکثر اوقات امریکہ اور اسرائیل کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

تنقید کے جواب میں فائزہ ہاشمی کے والد ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ ان کی بیٹی نے یہ ملاقات کر کے بڑی غلطی کی ہے جس کا ازالہ ضروری ہے۔

انھوں نے بہائی مذہب کو ’منحرف فرقہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم انھیں رد کرتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہے ہیں۔‘

رہبرِ ایران آیت اللہ خامنہ ای نے اس معاملے پر کوئی بیان نہیں دیا، تاہم ان کی ویب سائٹ پر اس ہفتے ایک فتویٰ شائع کیا گیا جس میں بہائیوں کو ناپاک قرار دیا گیا ہے۔

کمال آبادی اور فائزہ ہاشمی کی ملاقات جیل میں اس وقت ہوئی تھی جب فائزہ کو ’نظام کے خلاف پروپیگنڈا‘ کے الزام میں 2012 میں چھ ماہ جیل میں گزارنا پڑے تھے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker