بی آر پی کے رکن کی مسخ شدہ لاش برآمد، افغانستان میں بلوچ محاجرین کی کیمپ پر پاکستانی آئی ایس آئی ایک ایک اور حملہ

1800359_1408017662781938_1416948204_n(ریپبلکن نیوز) بلوچ ریپبلکن پارٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے کونے کونے میں ریاست کی جانب سے خونریزی میں ہر گزرتے لمہے کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے آواران، کیچ اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی کاروئیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں جہاں بے گناہ بلوچوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے گزشتہ روز آواران میں جبری طور پر لاپتہ اسیران جن کے نام اور تفصیلات رکارڈ کا حصہتھے کو شہید کر کے پھنک دیا گیا اور ان کو مسلح مزاحمت کار کرار دیکر جھڑپ میں ہلاک کرنے کا دعواع کیا گیا۔ جبکہ بلوچ ریپبلکن پارٹی کے رکن سرور ولد حصو بلوچ کی لاش کزشتہ روز مشکے کے علاقے چور چوری سے بر آمد کی گئی ہے جس کو سال فروری کی ۲۲ تاریخ کو ریاستی فورسز کے اہلکار اٹھا کر لے گئے تھے ترجمان نے شہید سرور کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے عظیم شہدا کے مشن کے تکمیل تک جدوجہد جاری رکھے گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تمپ کے علاقے کلبر اور گوادر کی علاقے ساجی اور گرد و نواح میں پڑے پیمانے پر فوجی آپریشن جاری ہیں جن میں ہیلی کاپٹروں کے زریعے سے فضائی آپریشن بھی جاری ہے اور عام آبادیوں پر مسلسل شیلنگ سے بڑے پیمانے پر جانی نقصانات کا خدشہ ہیں جبکہ پنجگور کے مختلف علاقوں میں بھی فوجی نکل و حرکت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے خدشہ ہے کہ ایک بار پھر پنجگور کے بلوچوں پر پھر سے ظلم کا بازار گرم کیا جائے گا۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان سے باہر بھی بلوچوں پر ریاستی دہشت گردی جاری ہے گزشتہ روز افغانستان کے شہر نمروز میں قیام پزیر بگٹی مہاجرین کے کیمپ پر ایک بار پھر ریاستی فورسز نے حملہ کیا۔ بی آر پی سوئٹزرلینڈ چیپٹر کے رکن جمال خان بگٹی کے رہاش گاہ کو ایک موٹر سائیکل بم دھماکہ کا نشانہ بنایا گیا جس میں خوش قسمتی سے ان کے گھر والے محفوظ رہے لیکن دو راہگیر زخمی ہوئے مقامی پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد بتایا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی اس حملے کے پیچھے ہیں۔ بی آر پی کے ترجمان نے انسانی حقوق اور اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان اور اس سے باہر رہنے والے پناہ گزین بلوچوں کے حفاظت کیلئے اقدامات اٹھا اور بلوچ قوم کی نسل کشی کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close