پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر بلوچ علیحدگی پسندوں سے چین کا رابطہ پاکستان کے لیے باعث تشویش ہوگا – تجزیہ نگار

(ریپبلکن نیوز ڈیسک) اخبار فنانشل ٹائمز کی خبر پر پاکستان کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا البتہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک پاکستان یا چین کی طرف سے باضابطہ بیان سامنے نہیں آتا اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا

ایک موقر اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ نے اپنی خبر میں ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ چین خاموشی سے گزشتہ پانچ سالوں سے بلوچ جنگجوؤں سے بات چیت کر رہا ہے تاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ’سی پیک‘ سے جڑے منصوبوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

اخبار نے نام اور عہدہ ظاہر کیے بغیر ایک پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ اس بارے میں چین نے کافی پیش رفت کی ہے۔

خبر میں پاکستانی ذرائع کا نام ظاہر نہیں کیا گیا جب کہ چینی عہدیداروں کے حوالے سے کہا گیا کہ اُنھوں نے اس بارے میں بات نہیں کی ہے، تاہم خبر میں اسلام آباد میں چینی سفیر کے بی بی سی سے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا گیا جس میں سفیر کا کہنا تھا کہ بلوچ جنگجو اقتصادی راہداری کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔

اخبار فنانشل ٹائمز کی خبر پر پاکستان کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا البتہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک پاکستان یا چین کی طرف سے باضابطہ بیان سامنے نہیں آتا اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

بین الاقوامی اُمور کے تجزیہ کار ظفر جسپال نےبین الاقوامی نشریاتی ادارہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’میرا نہیں خیال کہ اس (چین) کا کوئی براہ راست رابطہ ہو گا کیونکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین کا جتنا بھی تعلق رہا ہے وہ حکومت کے ساتھ رہا ہے ۔۔۔۔ مگر یہاں پر ہمیں نہیں بھولنا چاہیئے کہ جس طرح وہ یہاں پر ایک میگا سرمایہ کاری کے لیے آ رہے ہیں تو اس سرمایہ کاری میں وہ قدرتی طور پر مقامی لوگوں سے اینگیج کر رہے ہیں تو اس میں اگر کوئی کہتا ہے کہ جی میں علیحدگی پسندوں کو آپ کے ساتھ ملا دوں گا تو اس طرح کی چیز ہو سکتی ہے۔‘‘

ظفر جسپال کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر چین کی طرف سے اگر ایسا کچھ ہوا تو اس پر پاکستان کے متعلقہ حلقوں کو تشویش ہو گی۔

’’بہت زیادہ تفتیش ہو گی اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر اس طرح کے رابطے وہ کرتے ہیں اور حکومت پاکستان کو بائی پاس کرتے ہیں قدرتی طور پر حکومت پاکستان اس کو تو نہیں قبول کرے گی۔‘‘

معاشی اُمور کے ماہر عابد سلہری کہتے ہیں کہ اگر یہ خبر درست ہے تو اُن کے بقول یہ ہی فرض کیا جا سکتا ہے کہ چین یقینی طور کوشش کر رہا ہو گا کہ اپنی سرمایہ کاری کو مستحکم بنائے۔

’’یہاں پر جو چیز سمجھنے والی ہو گی وہ یہ ہے کہ مذاکرات کرنے والا کون ہو گا، چینی براہ راست بلوچ جنگجوؤں سے رابطہ نہیں کر پائیں گے تو پاکستان میں کون ایسے سے ایسے مذاکرات کار ہیں جو کہ اس سارے عمل میں سہولت کاری کر رہے ہیں، اگر وہ واقعی کچھ قابل اعتماد لوگ ہیں تو شاید اس کا اثر مثبت پڑے گا۔‘‘

رواں ماہ کے اوائل میں چینی عہدیداروں سے اسلام آباد میں مذاکرات میں پاکستان نے چین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ’سی پیک‘ کے منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کرے گا۔

چین پاکستان میں ’سی پیک‘ سے جڑے منصوبوں میں لگ بھگ 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کر رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ جیسے جیسے ان منصوبوں پر کام آگے بڑھے گا ان پر کام کرنے والے چینی شہریوں کی پاکستان میں آمد بھی بڑھے گی۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close