فنانشل ٹائم کی رپورٹ کے تناظر میں ۔ ریاض بلوچ

(کویٹہ ریپبلکن کالم )فنانشل ٹائمز نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہیکہ "چین پچھلے پانچ سالوں سے بلوچستان میں” قبائلی علیحدگی پسندوں ” سے رابطے میں ہے، انکے بقول یہ رابطے سی پیک کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے کیے جاتے تھے.
رپورٹ مرتب کرنے والا ایک صحافی پاکستانی دوسرا بھارتی بتایا جاتا ہے جبکہ نشریاتی ادارہ برطانوی ہے. پاکستانی آفیشل نے تو ان رابطوں کی تصدیق کردی ہے جبکہ بھارتی صحافی اور چائنا کی طرف سے رابطوں کے حوالے نا کوئی تردید سامنے آیا ہےاور نا کوئی تصدیق.
اس رپورٹ کے بعد کچھ بلوچ حلقوں میں اس الزام کے ردعمل میں بلوچ قیادت اور بلوچستان کے بلوچ آزادی پسند تنظیموں سے وضاحتی بیان دینا ضروری سمجھا جا رہا ہے.
"بلوچ قبائلی علیحدگی پسند” کی اصطلاح یہاں استعمال کرنا میرے نزدیک دو معنی رکھتے ہیں،
اول پاکستان اور چین ملکر بلوچ قومی آزادی کی تحریک کو دنیا کے سامنے ایک قبائلی رنگ دینا چاہتے ہیں تاکہ اسکی پزیرائی قومی حوالے سے کم اور قبائلی حوالے سے زیادہ دکھایا جا سکے.
دوسری بات یا تو پھر دنیا میں ابھی تک بلوچ قومی تحریک کو محض قبائلی نظر سے دیکھا جارہا ہے اگر ایسا ممکن ہے تو یہ بیرون ملک پناہ لیئے بلوچ قیادت کی قدرے ناکام سفارتکاری کا سبب ہو سکتا ہے.
خود کو بلوچ متوسط طبقے کا ایک ترجمان لکھاری کہنے والے سوشل میڈیا میں لکھتے ہیں کہ "بلوچ قبائلی علیحدگی پسند اصطلاح سے فنانشل جریدے کی مراد یقیناً بگٹی، مینگل اور مری ہی ہوں گے. انکے مطابق بی ایل ایف کی وضاحتی بیان کے بعد اب حیربیار مری، براہمدغ بگٹی، مہران مری اور جاوید مینگل بھی اپنی اپنی پوزیشنیں کلئیر کر دیں.”
ان کی قبل از وقت تبصرے پر صرف اتنا عرض ہے کہ ہم یہ ماخذ کرنے میں غلط نا ہوں گے کہ دشمن اپنے سازشی پروپیگنڈے میں شاید کچھ حد تک کامیاب ہو چکا ہے کہ شک و گمان کا بازار ایک بار پھر سوشل میڈیا میں گرم کیا جا رہا ہے، ایک بلوچ آزادی پسند سیاسی کارکن کی حیثیت سے کسی کو زیب نہیں دیتا کہ بلا غور و تحقیق بلوچ قومی تحریک کو طبقوں میں تقسیم کر دیں. کسی بھی بلوچ قومی رہنما کو قبائلی ہونے کے ناطے آپ شک کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے ہیں. بلوچ قومی تحریک اگر کسی سردار نواب کی ذاتی میراث نہ سہی مگر خود کو متوسط طبقے کے ٹھیکیدار کہنے والوں کی ذاتی جاگیر بھی نہیں ہے کہ وہ جب من چاہے تنقید کے نام پر کردار کشی شروع کر دیں. اس تحریک کی آبیاری کیلئے جس قدر ایک غریب بلوچ نے خون بہایا ہے تو اسی طری انہی بلوچ سردار و نواب اور انکے خاندانوں کے چشم و چراغوں نے بھی اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے.

نواب خیر بخش مری، مری قبائل کا نواب تھا، شہید نواب اکبر خان بگٹی، بگٹی قبائل کا نواب تھا. شہید بالاچ مری ایک نوابزادہ اور براہمدغ خان بگٹی کی شہید بہن اور بھانجے بھی نواب اکبر خان بگٹی کے نواسے.

البتہ کسی ٹائمز میگزین کی رپورٹ سے ہمیں اپنے اکابرین کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے، یہ پاکستان اور چین کی مشترکہ سازشی پروپیگنڈہ ہے جو بلوچ قیادت کے درمیان ابہامی کیفیت پیدا کرنے کیلئے انکی ناکام کوشش ہے.
بلوچ آزادی پسند قیادت اور تنظیمیں بارہا یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ وہ پاکستان چائنا اکنامک کوریڈور کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے، بلوچستان میں جاری مسلح مزاحمت کی شکل میں یا بیرون ملک سفارتکاری اور مظاہروں کو شکل میں اس الزام کی صاف اور شفاف الفاظ میں مذمت کئی بار ہوچکی ہے.

مزید خبریں اسی بارے میں

Close