اتحاد بلوچ کی ضرورت(تحریر: استاد گلزار امام)

کوہٹہ (ریپبلکن نیوز/مضمون) بلوچ قومی تحریک مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے ویسے ہی بلوچ جغرافیہ اور بلوچ قبائل کے بودوباش اورقومی مزاج نے انکو ترقی کے سفر میں باقی دنیا سے کافی فاصلے پے رکھا مگربدقسمتی سے مسلسل غیر اقوام کے زیر دست رہنے سے مزید مشکلات کا شکار رہا۔ ماضی میں بھی بلوچوں نے اپنی غلامی بدحالی و پسماندگی کو شدت سے محسوس کیا اور اسکےلئے جدوجہد کی لیکن ماضی میں یہ محدود پیمانے پر ہونے کی وجہ سے مختصر اور غیر اثر رہا اس لیے جدوجہد کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکلے۔

حالیہ جدوجہد کی شروعاتی مراحل دیکھتے ہی دیکھتے جس تیزی سے وسعت حاصل کرتے گئے وہ ماضی سے مختلف اور حوصلہ افزا ثابت ہوئے بلوچ نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شمولیت نے جدوجہد کو تحریک کی شکل دی بلوچ معاشرے میں قبائلی  سرداروں کی منفی کردار کی وجہ سے قوم دوست اور وطن پرست سرداروں پر شکوک و شبہات کو نواب اکبر خان بگٹی اور بالاچ مری کے کرداراور قربانیوں نے زائل کردیا اور قوم دوست سرداروں کے خلاف سرکاری منفی پروپیگنڈہ نے دم توڑ دیا اور ساتھ ہی ساتھ قوم پرستی کے نام پر پارلیمانی سیاست کرنے والے نام نہاد قوم پرستوں کے مفاد پرستی کےلئے سردار اینٹی سردار و متوسط طبقہ والا فلسفہ بھی بے بنیاد ثابت ہوا بلوچ چرواہے سے لیکر سردار تک طالب علم سے لیکر لیکچرار تک سب اس جدوجہد کا حصہ بن گئے مکران سے لیکر ڈیرجات تک مختلف تنظیموں اور پارٹیاں ہونے کی باوجود  تحریک روز بروز مضبوط ہوتا گیا اور دشمن کو مسلسل ناکامی کا سامنا رہا دوسری طرف اس دوران بہت سے مسائل بھی پیدا ہوئے جنکو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت تھی بہت سے کمزوریوں پر قابو پانا تھا بہت سے نادانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا تھا مگروہ نظر انداز کئے گئے اور بد قسمتی سے ان پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا جسکی وجہ سے بہت سے پیچیدگیاں پیدا ہوئے بد گمانیاں اور شکوک و شبہات جہنم لیتے اور  بڑھتے گئے اور ان تمام حالات کا فائدہ تحریک کے مخالفین اور دشمن کو ہوا۔

 ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ فوری طور پر سنجیدگی سے ان کا سدباب کیا جاتا مگر ایسا ہوا نہیں اور دشمن نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور تحریک کو کاونٹر کرنے کے لئے اپنے جارحانہ بلوچ دشمن اقدامات کومزید تیز کردیا بلوچ عوام میں تحریک سے وابسطہ ساتھیوں کے کمزوریوں کو جواز بنا کر مایوسی پھیلانے کا بھر پور فائدہ اٹھایا سیاسی پارٹیوں اور انکے کارکنان و ہمدردوں کو پابندیوں اور قید و بند کے ذریعے سیاسی عمل سے دور رکھنے میں کامیاب ہونے کے بعد مسلح تنظیموں کے گرد محاصرہ کرنے کے لئے مرحلہ وار کامیابی حاصل کرتا گیا اور مختلف زاویوں سے دشمن اپنے کام کو ہمارے خلاف بہتر اور موثر کرتا گیا اور اپنے کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے گوادر میگا پراجیکٹس کے ناکامی کے بعد دوبارہ سے گوادر پر اپنے منصوبوں کو نئے نام نئے طریقہ کار  اور زیادہ طاقت سے عملی جامہ پہنانے لگا اس بار زیادہ فوجی جارحیت کا سہارا لیا اور فوجی جارحیت کو وسعت دینے کے ساتھ ہی ساتھ مسلح تنظیموں کے خلاف معافی نامے سرینڈر کروانے کا پالیسی اپنایا، بلوچ عوام میں دہشت پھیلانے کےلئے چوروں ڈاکوؤں کو منظم کرکے انکو نام نہاد مذہبی لبادے میں سامنے لایا تاکہ تحریک کی اہمیت کو کاونٹر کیا جاسکے۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ آزادی پسند تمام قیادت اور پارٹیاں تنظیمیں سر جوڑ کر بیٹھتے اور دشمن کے خلاف موثر انداز میں بہتر حکمت عملی کے تحت کام کرتے اپنے کمزوریوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے اور ایک دوسرے کو باہمی احترام کے تحت اپنے غلطیوں اور نادانیوں کی نشاندہی کرنے دیتے اور انکا سدباب کرتے مگر شومئی قسمت کہ اسکے الٹ ہوا گفت شنید کے بجائے الزام تراشی ضد ایک دوسرے کی کمزوریوں کو اچھالنا پوائنٹ اسکورینگ کا سلسلہ شروع ہوا  کمزور تنظیمی گرفت ایک حقیقت تھا جس کا سامنا تمام تنظیموں کو تھا باقی بلوچستان کے نسبتا مکران میں شاہد اس کی وجہ سے بہت سے واقعات رونما ہوئے لیکن اسکا سامنا تمام آزادی پسند تنظیم کررہے تھے ایسا نہیں تھا کہ اس پر قابو پانے کی کوششیں نہیں کی جارہی تھی مسلح حالت میں بہت سے مسائل چوٹکی بجاتے حل نہیں ہوتے انکو حل کرنے کے لئے وقت درکار ہوتا ہے ایک ماحول درکار ہوتا ہے جو مقابلہ بازی اور ضد کے نظر ہوچکا تھا اور ناپید تھا اس دوران تنظمیوں سے تعلق رکھنے والے اچھے اور محنتی دوستوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل تنظیمی اور سیاسی طریقہ کار سے حل کرنے کی بجائے  انکو دیوار سے لگانے کا سلسلہ شروع ہوا مقابلہ بازی کے چکر نے ایک انجانا خوف پیدا کیا جسکی وجہ سے جائز اقدامات اٹھانے سے آزادی پسند ساتھی کترانے لگے تھے جو ہنوز جاری ہے  ہر اس عمل کا جو تحریک پر منفی اثر ڈال رہا تھا اسکی مشترکہ طور پر حوصلہ شکنی کرتے تاکہ تنظیمی مسائل تنظیموں تک رہتے بحالت مجبوری دوسرے تنظیمی ساتھیوں سے رابطے اور مداخلت کی نوبت پیش نہیں آتی سرد مہری نظرانداز کرنے کے رویوں نے  بھگوڑوں کےلئے بھی راہ فرار کے دروازے کھول دیئے محنتی اور مخلص دوستوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی نے   تنظیمی بھگوڑوں کو پوری طرح سے فرار کے مواقع فراہم کئے تنظمیوں میں ساتھیوں کے بدل پھیر نے معاملے کو اور گمبھیر بنادیا راز داری اور ڈسپلن برائے نام ہی رہ گیا جنکے اثرات نے پورے تحریک کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایسے حالات میں قیادت پر باری ذمہ داریاں عائد ہوتے ہیں قیادت کو ان گمبھیر مسائل کا حل نکالنا ہوتا ہے کل بھی اور آج بھی سوال قیادت سے ہی ہوگا کہ انکا کردار ایسے حالات میں کیا رہا آج حالات ہم سے تقاضا کررہے ہیں کہ مشترکہ طور پر جدوجہد کریں آج بلوچوں کے خیرخواہ اور ہمدرد ہم سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ہم متحد ہوکر جدوجہد کریں آج بلوچ قوم یہی چاہتا ہے کہ تمام آزادی پسند یکجاء ہوکرپاکستان کا مقابلہ کریں آج تمام مخلص کارکنان اور مسلح دستے یہی چاہتے ہیں کہ مشترکہ مورچے سے دشمن کا سامنا کیا جائے شومئی قسمت کہ صرف قیادت اسکےلئے تیار نہیں اور اسکےلئے کوئی مضبوط جواز بھی پیش نہیں کرتا کہ اتحاد کیوں نہ ہو شرط شرائط بھی مسئلے کا حل نہیں ہم کو غیر مشروط طور پر اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کا حق ہے اور کرنا بھی چاہئیے اور اسکےلئے مل بیٹھکر تمام تحفظات پر کھل کر بحث مباحثے کرنا چاہئیے لیکن اس وقت اخباری بیانات اور دعوؤں سے ایک قدم آگے نکلنے کی ضرورت ہے مجھے یہ لکھتے ہوئے افسوس ہورہا ہے کہ  ہمارے قیادت کے رویوں میں سخت تبدیلی کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کیونکہ سیاسی مسائل سیاسی رویوں سے حل ہوتے ہیں اگر سیاسی مسائل کو قبائلی رویوں سے ناپا جائے گا اور قبائلی رویوں سے حل کرنے کی کوششیں کی جائنگی تو یہ مسائل مزید پیچیدہ ہونگے ۔

بلوچ قومی تحریک میں طبقاتی سوال ہے ہی نہیں اور اس سوال سے سیاسی فائدہ اٹھانا بھی غیرمناسب عمل ہوگا لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ قومی تحریک کے عام سیاسی کارکنان اور ساتھی سردار بننے یا انکا رویہ اپنانے سے گریز کریں اور آزادی پسند قیادت جنکے تعلقات سردار گھرانوں سے ہیں اپنے تنظیمی ساتھیوں سے قبائلی نائبین جیسا رویہ ترک کریں اور تنظیمی مسائل کو قبائلی طرز اور طریقہ کار سے حل کرنے کی بجائے سیاسی طریقہ کار سے حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ بداعتمادی کی فضاء ختم ہو اور تمام آزادی پسند سیاسی کارکنان اعتماد کے بحالی کےلئے اپنا کردار ادا کریں جب تک آزادی پسند قیادت کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کریں اس وقت تک دشمن کے خلاف ایک دوسرے سے بھر پور تعاون کریں اور دشمن کے خلاف ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور اپنے اپنے قیادت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ جلدازجلد مشترکہ جدوجہد کے لئے عملی اقدامات کریں سب سے زیادہ اہم مسئلہ اس وقت سی پیک کا ہے جسکو روکنے جلدازجلد مکران میں مشترکہ محاذ تشکیل دینے کی ضرورت ہے ہم چائنا اور پاکستان کا مقابلہ اس طرح گروہوں میں تقسیم ہوکر نہیں کرسکتے ہمیں ہر حال میں متحد ہونا ہوگا۔

ایک بار پھر تمام آزادی پسند قیادت سے دست بندی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف اپنے تحفظات کو عملی طور پر بیان کرنے کے لئے نشست کا اہتمام کریں اور جتنے بھی مسائل پیچیدہ صورت حال اختیار کرچکے ہیں انکو مرحلہ وار زیر بحث لائیں اور انکے وجوہات کا سدباب کریں اور اعتماد کے بحالی کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ جلد از جلد بلوچ دشمنوں کا موثر مقابلہ ممکن ہوسکے ۔

تحریر: استاد گلزار امام

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker