قابض ریاست کے خلاف بلوچ مسلح جدوجہد نے دنیا میں قومی آزادی کی تحریک کو اجاگر کیا ہے۔گہرام بلوچ

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے نیشنل پارٹی کی جانب سے بلوچ جہد آزادی کو کاؤنٹر کرنے کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلح جدوجہد کی پذیرائی سے انکاری یہ بھول چکے ہیں کہ قابض ریاست کے خلاف بلوچ مسلح جدوجہد نے دنیا میں قومی آزادی کی تحریک کو اجاگر کیا ہے۔اور ان کی آج پاکستانی پارلیمنٹ میں جوعزت و مقام ہے وہ بھی انہی مسلح جدو جہد کی دین ہے ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی اشرافیہ نے کھبی بھی بلوچ قوم کو تسلیم نہیں کیا ہے ۔ یہ مسلح جد و جہد ایک نظریہ کے تابع ہے اور اپنی ہی سرزمین بلوچستان میں قابض کے خلاف جنگ آزادی میں مصروف ہے۔ اب یہ بات بلوچ قوم سے ڈکھی چھپی نہیں کہ یہ لوگ ریاستی مشینری کا اہم حصہ ہیں جو بلوچ کی ہزاروں سال کی شناخت و نسلوں کو پاکستان کے سامنے گروی رکھ کر خود عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔اور قوم کو دائمی غلامی میں رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔گہرام بلوچ نے مزید کہا کہ یہ عناصر اپنی دوغلی پالیسیوں اور بیانات سے قوم کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔یہ انقلابی بندوق کی بدولت ہے کہ آج بلوچ قوم قبائل ،ذات پات سے اعلیٰ ایک قومی جدوجہد کر رہا ہے۔اب بھی وقت ہے کہ اس قبیل کے لوگ اپنا قبلہ درست کر لیں ورنہ تاریخ کے احتساب سے انکا بچنا ناممکن ہے۔انہوں نے کہ ایک جانب یہ لوگ بلوچ کی حق کا رونا روتے ہیں تو دوسری جانب آج یہ بھی کہتے ہیں کی سی پیک خدشات کے باوجود قبول ہے۔ ایسے منافق وتضاد بیانیہ لوگ کس مُنہ سے بلوچ قوم کی بات کرتے ہیں جہاں انکی دور حکومت میں گوادر،دشت،کیچ،بالگترڈیرہ بگٹی،آواران،زہری میں ہزاروں لوگوں کو آئی ڈی پیز بنایا گیا ہے اور آج بھی مکران میں سی پیک روٹ سے ملحق تمام آبادیوں کوفوجی آپریشن کے ذریعے انہی عناصرکی سربراہی و آشیرباد سے خاتمے کاسامان کیا جارہا ہے تاکہ سی پیک پایہ تکمیل تک پہنچ کر بلوچ قوم کا ہمیشہ کیلئے صفایا ہوسکے۔ لیکن جب تک ایک بندوق بردار سرمچار موجود ہے ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ گہرام بلوچ نے مردم شماری سے متعلق نیشنل پارٹی کے موقف پر کہا کہ وہ کبھی بھی ریاست کے سامنے ان کی کسی عمل کی مخالفت سے قاصر ہیں۔ کیونکہ انہیں ہاں میں ہاں ملانے ، بلوچ وسائل کی لوٹ مار پر خاموشی اور بلوچ نسل کشی میں مدد فراہم کرنے پر کرسی اور وزارتیں دی گئی ہیں۔ جو شخص یا جماعت بلوچ نسل کشی پر اپنے منہ سیئے ہوئے ہیں، انہیں مردم شماری یا بلوچ قوم کو کاغذوں پر اقلیت دکھانے کا غم کیونکر ہوسکتا ہے۔ نیشنل پارٹی کی بلوچ نسل کشی کی کئی مثالیں پہلے بھی دے چکے ہیں۔ جو اشخاص نیشنل پارٹی کے جھنڈے تلے سیاست میں مصروف ہیں، انہیں ڈیتھ اسکواڈ قائم کرنے پر مزید شاباشی دی جارہی ہے۔ جن سے بلوچ قوم غافل نہیں۔ ریکارڈ پر موجود ہے کہ عالمی مطلوب ڈرگ ڈیلر اور ڈیتھ اسکواڈ چلانے والا امام بھیل نیشنل پارٹی میں ہے اور اہم ذمہ داریوں پر فائز ہے۔ اسی طرح راشد پٹھان، علی حیدر اور ملا برکت بھی نیشنل پارٹی کے مرکزی لیڈر ہیں اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈز میں بلوچ نسل کشی میں مصروف ہیں۔ 

مزید خبریں اسی بارے میں

Close